سعودی عرب: کانسرٹ میں رقص کے مخصوص انداز پر گلوکار گرفتار

Source: S.O. News Service | Published on 11th August 2017, 5:30 PM | خلیجی خبریں |

ریاض،11اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جنوب مغربی سعودی عرب میں ایک مقبول گلوکار کو ایک کانسرٹ کے دوران ’ڈیبنگ‘ کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ڈیبنگ رقص کا ایک ایسا انداز ہے جس میں ڈانس کرنے والا ایک بازو سے چہرہ چھپاتا ہے اور دوسرے بازو کو اپنے پیچھے کی جانب بڑھاتا ہے۔سعودی شہری عبد اللہ الشہانی ایک ٹی وی میزبان اور اداکار ہیں جنھوں نے طائف میں ایک میوزک فسٹیول کے دوران یہ انداز اپنایا۔
قدامت پسند سعودی عرب میں ڈیبنگ ممنوع ہے کیونکہ حکام کے خیال میں یہ انداز منشیات کے کلچر کی نمائندگی کرتا ہے۔
عبد اللہ الشہانی کی ڈیبنگ کرتے ہوئے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر مقبول ہوگئی اور ہزاروں لوگوں نے اس کے بارے میں ٹویٹ کیا ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ ڈیبنگ نے امریکی شہر اٹلانٹا میں تقریباً دو سال قبل ہپ ہاپ کلچر میں جنم لیا مگر مشہور شخصیات، کھلاڑیوں، فنکاروں، سیاستدانوں جیسے کہ پال رائن اور ہلری کلنٹن کے اس انداز کو اپنانے کے بعد اسے عالمی مقبولیت ملی۔
سعودی وزارتِ داخلہ کے نیشنل کمیشن برائے انسدادِ منشیات نے حال ہی میں اس انداز کو ملک میں ممنوع قرار دیا تھا کیونکہ ان کی نظر میں رقص کے اس انداز کا چرس کے استعمال سے تعلق ہے۔وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک پوسٹر پر ڈیبنگ کے ’نوجوان نسل اور معاشرے پر منفی اثرات‘ کے بارے میں بتایا گیا ہے اور لوگوں کو اسے اپنانے کے خلاف متنبہ کیا گیا ہے۔گلوکار عبد اللہ الشہانی نے منگل کی صبح ٹوئٹر پر ایک پیغام میں معافی بھی مانگی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں اپنی معزز حکومت اور شائقین کو غیر متوقع اور غیر دانستہ طور اس انداز کو اپنانے کی معافی مانگتا ہوں۔ برائے مہربانی میری معافی قبول کر لیں۔‘

ایک نظر اس پر بھی

شارجہ میں ابناء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خوبصورت تقریب؛ یونیورسٹی میں میڈیکل تعلیم صرف 60 ہزار میں ممکن!

علی گڈھ مسلم یونیورسٹی جسے بابائے قوم مرحوم سر سید احمد خان نے دو سو سال قبل قائم کیا تھا آج تناور درخت کی شکل میں ملک میں تعلیم کی روشنی عام کررہا ہے۔اس یونیورسٹی میں میڈیکل کے طلبا کے لئے پانچ سال کی تعلیمی فیس صرف 60,000 روپئے ہے، حالانکہ دوسری یونیورسیٹیوں میں میڈیکل کے طلبا ...

متحدہ عرب امارات میں حفظ قرآن جرم، حکومت کی منظوری کے بغیر کوئی شخص قرآن حفظ نہیں کرسکتا، مساجد میں مذہبی تعلیم اور اجتماع پر بھی پابندی

مشرقی وسطیٰ کے مختلف ممالک میں داخل اندازی اور عرب کی اسلامی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد متحدہ عرب امارات قانون کے ایسے مسودہ پر کام کررہا ہے جس کی رو سے حکومت کی منظوری کے بغیر قرآن شریف کا حفظ بھی غیرقانونی ہوگا۔