سعودی عرب کا شہزادہ ولید بن طلال سمیت سات افراد کو رہا کر نے کا فیصلہ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 12th November 2017, 5:30 AM | خلیجی خبریں |

ریاض 11/نومبر (ایس او نیوز/ایجنسی)  سعودی عرب کی حکومت نے حالیہ دنوں میں کرپشن کے الزام میں گرفتار شہزادہ ولید بن طلال سمیت مزید سات گرفتار لوگوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی حکومت نے کرپشن کے الزام میں گرفتار ارب پتی شہزادے ولید بن طلال سمیت 7 اعلیٰ عہدیداروں کو رہا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سعودی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ارب پتی سعودی شہزادے ولید بن طلال سمیت 7 افراد کوعدم ثبوت کی بنا پر رہا کیا جارہا ہے۔

سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر کے حوالے سے سعودی میڈیا کا کہنا ہے کہ کرپشن سمیت دیگر معاملات میں گرفتار 208 ملزمان میں 7 کو ان الزامات میں عدم ثبوت پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق رہائی پانے والوں میں سابق وزیر خزانہ ابراہیم العساف، شہزادہ ترکی بن ناصر، شہزادہ فہد بن عبداللہ، شاہی محل کے نگراں خالد التویجری، سابق وزیر متعب بن عبداللہ اور ان کے بھائی بھی شامل ہیں۔ سعودی پراسیکیوٹر جنرل سعود المعجب کے مطابق مذکورہ ملزمان پر ایک کھرب ڈالر خرد برد کا الزام تھا، لیکن ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے ان 7 ملزمان کو رہا کیا جارہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

متحدہ عرب امارات میں حفظ قرآن جرم، حکومت کی منظوری کے بغیر کوئی شخص قرآن حفظ نہیں کرسکتا، مساجد میں مذہبی تعلیم اور اجتماع پر بھی پابندی

مشرقی وسطیٰ کے مختلف ممالک میں داخل اندازی اور عرب کی اسلامی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد متحدہ عرب امارات قانون کے ایسے مسودہ پر کام کررہا ہے جس کی رو سے حکومت کی منظوری کے بغیر قرآن شریف کا حفظ بھی غیرقانونی ہوگا۔

سعودیہ میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی نکلی

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے واضح کیا ہے کہ اقامہ و محنت قوانین اور سرحدی سلامتی کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے 140 مما لک کے 758570 غیر ملکیوں نے شاہی مہلت سے فائدہ اٹھایا۔

چین علاقائی بے یقینی کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ ہے:صدر ڑی جن پنگ

چین، سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر ترقی کے عمل اور قومی سالمیت کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ علاقائی سطح پر سعودی عرب، ایران، لبنان اور یمن میں کشیدگی کے تناظر میں یہ یقین دہانی چینی صدر ڑی جن پنگ نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو گذشتہ روز ٹیلی فون پر کرائی۔