دشمن نے ’یمن‘ میں مداخلت کر کے حماقت کی: محمد بن سلمان;یمنی قبائلی عمائدین کی نائب ولی عہد سے ملاقات

Source: S.O. News Service | Published on 6th April 2017, 4:51 PM | خلیجی خبریں |

ریاض،6اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ یمن عرب ممالک کے لیے بہ منزلہ دل، تزویراتی گہرائی، اساس اورتمام عربوں کی اصل ہے۔ دشمن نے یمن میں مداخلت کرکے بہت بڑی حماقت کی۔ اسے اب اس مداخلت کا خمیازہ بھی بھگتنا ہوگا۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے ان خیالات کا اظہار یمن کے سرکردہ قبائل کے قائدین اور اہم شخصیات سے ملاقات کے دوران کیا۔
دارالحکومت ریاض کے دورے کے دوران یمنی قبائل کے وفد کے سربراہ الشیخ مفرح بحیبح نے یمن میں آئینی حکومت کی بحالی، یمنی عوام کی مالی امداد، بیرونی مداخلت اور جارحیت کی روک تھام کے لیے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی بروقت کارروائی پر مملکت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ یمنی قوم ملک میں امن واستحکام کی بحالی کے لیے سعودی عرب کی قربانیوں اور خدمات کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ سعودی عرب کی معاونت کے بغیر یمن میں باغیوں کو شکست دینا ممکن نہیں تھا۔ سعودی عرب کی مساعی اور مدد کا نتیجہ ہے کہ یمن کی آئینی فورسز آج صنعاء کے دروازے پر دستک دے رہی ہیں۔انہوں نے جنگ سے متاثرہ شہریوں کی مدد اور ان کی بحالی کے لیے شاہ سلمان کی خدمات کو بھی شاندار خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب نے یمن میں اپنی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری انجام دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں قیام امن میں صرف سعودی عرب نہیں بلکہ مصر، سودان، اردن، مراکش سمیت پوری مسلم امہ معاون و مددگار ہے۔انہوں نے کہا کہ یمن عالم عرب کی تزویراتی گہرائی، ان کا مرکز، اساس اور اصل ہے۔ دشمن نے یمن کو چھیڑ کر بہت بڑی حماقت کی ہے اور اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سعودی عرب یمنی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ جنگ سے متاثرہ شہریوں کی بحالی اورمکمل امن استحکام کے قیام تک ہماری جدو جہد جاری رہے گی۔
 

ایک نظر اس پر بھی

شارجہ میں ابناء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خوبصورت تقریب؛ یونیورسٹی میں میڈیکل تعلیم صرف 60 ہزار میں ممکن!

علی گڈھ مسلم یونیورسٹی جسے بابائے قوم مرحوم سر سید احمد خان نے دو سو سال قبل قائم کیا تھا آج تناور درخت کی شکل میں ملک میں تعلیم کی روشنی عام کررہا ہے۔اس یونیورسٹی میں میڈیکل کے طلبا کے لئے پانچ سال کی تعلیمی فیس صرف 60,000 روپئے ہے، حالانکہ دوسری یونیورسیٹیوں میں میڈیکل کے طلبا ...

متحدہ عرب امارات میں حفظ قرآن جرم، حکومت کی منظوری کے بغیر کوئی شخص قرآن حفظ نہیں کرسکتا، مساجد میں مذہبی تعلیم اور اجتماع پر بھی پابندی

مشرقی وسطیٰ کے مختلف ممالک میں داخل اندازی اور عرب کی اسلامی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد متحدہ عرب امارات قانون کے ایسے مسودہ پر کام کررہا ہے جس کی رو سے حکومت کی منظوری کے بغیر قرآن شریف کا حفظ بھی غیرقانونی ہوگا۔