سعودی ولی عہد اور فرانسیسی وزیرخارجہ کا دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کوششوں پر تبادلہ خیال

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 16th July 2017, 4:00 PM | خلیجی خبریں |

ریاض،16؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں وائی ویس لی دریان نے ہفتے کے روز ملاقات کی ہے اور ان سے دوطرفہ تعلقات ، قطر بحران اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ کوششوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیاہے۔انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے طریقوں ،خطے میں ہونے والی تازہ پیش رفت،دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اجتماعی کوششوں اور دہشت گردی کے لیے رقوم کی روک تھام کے لیے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیاہے۔سعودی ولی عہد نے فرانسیسی وزیر خارجہ کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔اس میں وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف بن عبدالعزیز ، وزیر خارجہ عادل الجبیر ، وزیر ثقافت اور اطلاعات ڈاکٹر عواد العواد اور دوسرے سینیر سول اور فوجی عہدے داروں نے بھی شرکت کی۔لی دریان نے جدہ میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی قیادت کے کردار کو سراہا ہے۔انھوں نے قطر اور اس کا بائیکاٹ کرنے والے چاروں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زوردیا ہے۔اس موقع پر عادل الجبیر نے کہا کہ انھوں نے فرانسیسی وزیر خارجہ کو سعودی مملکت کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت اور مالی معاونت سے انکار کی یقین دہانی کرائی ہے۔انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ قطر کی خلاف ورزیوں سے متعلق ایک مکمل فائل فرانس کو فراہم کریں گے۔قبل ازیں فرانسیسی وزیر خارجہ لی دریان نے دوحہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خلیج بحران کے حل کے لیے اپنے ملک کی جانب سے کویت کی مصالحانہ کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا اور کہا کہ فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔انھوں نے مزید کہا کہ فرانس کو قطر اور اس کے ہمسایہ عرب ممالک کے درمیان تعلقات میں اچانک بگاڑ پر گہری تشویش لاحق ہے اور اب فرانس ان تمام ممالک سے مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کررہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

یمن:المخا کے محاذ پر حوثی باغی ڈھیر

یمن میں فوجی ذرائع نے ’العربیہ‘نیوز چینل کو باور کرایا ہے کہ المخا کے محاذ پر عرب اتحادی افواج کی معاونت سے سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کے تابڑ توڑ حملوں کے بعد حوثی باغیوں بڑی حد تک ڈھیر ہو چکے ہیں۔