لبنان میں اغوا ہونے والا سعودی شہری کون ہے ؟

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th November 2017, 8:24 PM | خلیجی خبریں |

بیروت،11؍نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)لبنان میں جمعرات کی شام ایک سعودی سیاح علی البشراوی کو اغوا کر لیا گیا اور اس کی رہائی کے لیے دس لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا ہے۔بیروت میں سعودی سفارت خانے نے واضح کیا ہے کہ جبل لبنان صوبے کے علاقے کسروان سے اغوا ہونے والے 32 سالہ سعودی کی غیر مشروط آزادی کے لیے لبنانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ اعلی ترین سطح پر رابطے جاری ہیں۔

علی البشراوی کا تعلق سعودی عرب کے مشرقی صوبے کے علاقے قطیف سے ہے اور اس کی بیوی فصیلہ عزیر کا تعلق شام سے ہے۔لبنان کے وزیر داخلہ اور بلدیات نہاد المشنوق کے مطابق سعودی شہری کے اغوا کی خبر ملتے ہی مختلف سکیورٹی اداروں کے ساتھ رابطے شروع کر دیے گئے تا کہ مذکورہ سعودی کے بارے میں معلوم کیا جا سکے۔ انہوں نے باور کرایا کہ لبنان میں مقیم اور وہاں کا دورہ کرنے والے افراد کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہے۔المشنوق کا کہنا ہے کہ لبنان میں امن و امان کی صورت حال بگاڑنا سْرخ لکیر ہے جس سے تجاوز ممنوع ہے۔ سکیورٹی فورسز پوری طرح چاق و چوبند ہیں تا کہ حالیہ سیاسی بحران سے فائدہ اٹھانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔

ایک نظر اس پر بھی

متحدہ عرب امارات میں حفظ قرآن جرم، حکومت کی منظوری کے بغیر کوئی شخص قرآن حفظ نہیں کرسکتا، مساجد میں مذہبی تعلیم اور اجتماع پر بھی پابندی

مشرقی وسطیٰ کے مختلف ممالک میں داخل اندازی اور عرب کی اسلامی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد متحدہ عرب امارات قانون کے ایسے مسودہ پر کام کررہا ہے جس کی رو سے حکومت کی منظوری کے بغیر قرآن شریف کا حفظ بھی غیرقانونی ہوگا۔

سعودیہ میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی نکلی

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے واضح کیا ہے کہ اقامہ و محنت قوانین اور سرحدی سلامتی کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے 140 مما لک کے 758570 غیر ملکیوں نے شاہی مہلت سے فائدہ اٹھایا۔

چین علاقائی بے یقینی کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ ہے:صدر ڑی جن پنگ

چین، سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر ترقی کے عمل اور قومی سالمیت کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ علاقائی سطح پر سعودی عرب، ایران، لبنان اور یمن میں کشیدگی کے تناظر میں یہ یقین دہانی چینی صدر ڑی جن پنگ نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو گذشتہ روز ٹیلی فون پر کرائی۔