سعودی حکام نے ارب پتی شہزادے ولید بن طلال کو رہا کردیا: خاندانی ذرائع

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 27th January 2018, 10:25 PM | خلیجی خبریں |

ریاض،27؍جنوری(ایجنسی)سعودی حکام نے ارب پتی شہزادے ولید بن طلال کو رہا کردیا .غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شہزادہ ولید بن طلال کے اہل خانہ نے تصدیق کی ہے کہ انہیں رہا کردیا گیا ہے اور اب وہ گھر بھی آگئے ہیں ۔

دنیا کے امیر ترین افرادمیں شامل سعودی ارب پتی شہزادے ولید بن طلال کو اینٹی کرپشن مہم کے دوران گرفتار کیا گیا تھا. رہائی سے کچھ دیر قبل برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے شہزادہ ولید بن طلال کا ریاض کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں انٹرویو کیاتھا. انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ وہ حکام کے ساتھ ہونے والی تفتیش میں مسلسل اپنی بےگناہی ثابت کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں، انہیں امید ہے کہ وہ بہت جلد اپنی بین الاقوامی سرمایہ کار کمپنی کنگڈم ہولڈنگز کے تمام اثاثے واپس حاصل کرلیں گے,اس میں سے کچھ بھی حکومت کو نہیں دینا پڑے گا اور آئندہ چند دنوں میں رہا کردیا جائے گا.شہزادہ ولید بن طلال نے کہا کہ وہ شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے شروع کی جانے والی اصلاحات کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ غلط فہمی کی بنا پر مجھے گرفتار کیا گیا ہے. انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ان پر کوئی الزامات عائد نہیں کیے گئے بلکہ ان کے حکومت کے ساتھ بعض معاملات پر مذاکرات ہو رہے ہیںاور امید ہے کہ آئندہ چند روز میں تمام مسائل حل ہوجائیں گے.شہزادہ ولید بن طلال نے رہائی کے بعد سعودی عرب میں قیام کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ کسی طور بھی سعودی عرب چھوڑ کر نہیں جائیں گے کیونکہ یہی ان کا ملک ہے. ’ یہ میرا ملک ہے، میرا خاندان، بچے ، پوتے پوتیاں یہیں پر ہیں، میرے اثاثے بھی سعودی عرب میں ہیں اس لیے اپنے ملک سے وفاداری پر سمجھوتہ نہیں کروں گا‘۔  انٹر ویو کے کچھ دیر بعد شہزادہ طلال بن ولید کی رہائی کی بھی خبر آگئی اور ان کے خاندان نے بھی اس کی تصدیق کردی تاہم ابھی تک سعودی حکام کی جانب سے اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ۔

ایک نظر اس پر بھی

یمن : حوثیوں کے لیے کام کرنے والے ایرانی جاسوس عرب اتحاد کے نشانے پر

یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے تعز شہر کے مشرقی حصّے میں جاسوسی کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا۔ اس مرکز میں ایرانی ماہرین بھی موجود ہوتے ہیں جو باغی حوثی ملیشیا کے لیے کام کرتے ہیں۔

شاہ سلمان اور صدر السیسی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے۔ اس موقع پر شاہ سلمان نے مصر کی سلامتی اور استحکام کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔