ڈرائیونگ کی اجازت پر سعودی خواتین پہلے سفر میں کہاں جائیں گی ؟

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 19th May 2018, 11:48 AM | خلیجی خبریں |

ریاض 18مئی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) سعودی عرب میں خواتین کے گاڑی چلانے کا وقت یعنی 10 شوّال کا دن قریب آ رہا ہے۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد اس حوالے سے منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ ان میں بعض تو ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے تربیت حاصل کر رہی ہیں جب کہ بعض نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ تماشائی بن کر معاشرے میں اس نئے تجربے کے نتائج کا جائزہ لیں گی جس کا خواتین کو ایک طویل عرصے سے انتظار تھا۔سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ سکھانے والی ایک تربیت کار کا کہنا ہے کہ "تربیت حاصل کرنے کے لیے آنے والی زیادہ تر خواتین کی عمر 60 برس کے لگ بھگ ہے۔ اس کے مقابل یونی ورسٹی طالبات اور نوجوان لڑکیوں کی توجہ کافی حد تک کم ہے جس کی بنیادی وجہ ان کے اہل خانہ کا ڈرائیوروں پر انحصار کرنا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان لڑکیوں کے کم عمر ہونے کے سبب ان کے اہل خانہ نے گاڑی چلانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ البتہ ملازمت پیشہ یا کام کرنے والی خواتین کی صورت حال مخلتف ہے کیوں کہ وہ اپنی رائے میں زیادہ خود مختاری رکھتی ہے۔ بڑی عمر کی خواتین تربیت میں زیادہ تھکا دیتی ہیں جب کہ ان میں بہت سی خواتین ڈائیونگ ٹیسٹ میں کامیاب نہیں ہو سکیں ۔کئی خواتین سے جب یہ پوچھا گیا کہ ڈرائیونگ کی اجازت کا دن آنے پر ان کا پہلا سفر کہاں کا ہو گا اور وہ کس چیز سے سب سے زیادہ خائف ہیں، تو ان کے مختلف جوابات سامنے آئے۔سعودی خاتون شیرین باوزیر کے مطابق وہ پہلے سفر میں سْپر مارکیٹ جائیں گے جب کہ انہیں سب سے زیادہ ڈر بعض افراد کی جانب سے تیز رفتاری کا ہے۔فاطمہ آل تیسان کہتی ہیں کہ وہ پہلے سفر میں اپنے رشتے داروں سے ملنے جائیں گی جن کے بارے میں ان کو اعتماد ہے کہ وہ اس دن فاطمہ کی خوشی میں شریک ہوں گے۔ فاطمہ کے مطابق آڑے ترچھے راستے اور گاڑیوں میں اچانک تعطّل ان کے لیے خوف اور تشویش کا باعث ہے۔امانی السلیمی کا کہنا ہے کہ پہلے سفر میں وہ اپنے کام پر جائیں گی تا کہ ڈرائیور کے انتظار کے بغیر جانے اور آنے کے احساس سے لطف اندوز ہو سکیں۔ وہ ٹریفک کے رش اور حادثات سے خوف زدہ ہیں۔ادھر خلود الحارثی نے پر اعتماد لہجے میں بتایا کہ پہلے سفر میں وہ اپنے اہل خانہ سے ملنے جائیں گی اور انہیں آگاہ کریں گی کہ آخرکار اب وہ سفر کے لیے کسی کی محتاج نہیں رہیں۔ تاہم خلود کو یہ ڈر ہے کہ وہ گاڑی چلانے کے دوران سو نہ جائیں ۔ایک دوسری خاتون خلود البراہیم کا کہنا ہے کہ بہت سے ڈرائیوروں کی جانب سے گاڑی چلانے سے متعلق ہدایات پر عمل نہ کرنا ان کے لیے بہت زیادہ خوف کا باعث ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد کے براہِ راست ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں: پومپیو

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بار پھرباور کرایا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں اور انہیں اس کیس میں ملوث کرنے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا ہے۔امریکی وزیرخارجہ نے خاشقجی قتل کیس کے حوالے سے سعودی ...

شارجہ میں منکی کمیونٹی کی خوبصورت گیٹ ٹو گیدر تقریب؛ کرناٹک کے وزراء نے کی شرکت؛ منکی میں غریبوں کے لئے چالیس مکانات دینے کا اعلان

منکی کمیونٹی (یو اے ای) کی جانب سےگذشتہ روز شارجہ میں اتحاد و ملن کے نام پر   گیٹ ٹو گیدر کی ایک خوبصورت تقریب منعقد کی گئی جس میں کرناٹک کے وزراء نے بھی شرکت کی اور  منکی کے عوام کی کثیر تعداد ایک پلیٹ فارم پر نظر آنے پر نہایت  خوشی کا اظہار کیا۔ پروگرام میں  بچوں سمیت ...

18بیرونی ممالک میں ملازمت کرنے والوں کویکم جنوری سے لازمی طور پر آن لائن رجسٹریشن کرنا ہوگا

بیرونی ممالک میں ملازمت کرنے والوں کے لئے مرکزی حکومت نے ایک نئی شرط لاگو کردی ہے جس کے مطابق یکم جنوری 2019 ؁ء سے امیگریشن چیک ناٹ ریکوائرڈECNRوالا پاسپورٹ رکھنے والے ملازمین کے لئے لازمی ہوگا کہ وہ اپنا آن لائن رجسٹر کروائیں۔

سابق وزیراعظم دیوے گوڈا کی دبئی آمد پر تہنیتی پروگرام؛ پہلے ملک کے اندرونی مسائل حل کرنے کی طرف توجہ ہونی چاہئے؛ گوڈا نے مودی پر کسا طنز

سابق وزیراعظم  ایچ ڈی دیوے گوڈا کی دبئی آمد کے موقع پر کرناٹکا این آر آئی فورم کی جانب سے دبئی میں گذشتہ روز دیوے گوڈا کے لئے تہنیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں یہ بات بھی بتائی گئی کہ ریاست کرناٹک سے وزیراعظم منتخب ہونے والے دیوے گوڈا واحد شخص ہیں۔ پروگرام میں شال اوڑھ ...

دمام میں کاسرگوڈ کے ایک شخص کی لاش کی تین سال بعد تدفین

دمام سعودی عربیہ میں تین سال قبل انتقال کرگئے پڑوسی تعلقہ  کاسرگوڈ کیرالہ کے حسینار کنہی (۵۷سال) نامی ایک شخص کی لاش کو تین سال بعد دفنایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مرحوم حسینار کنہی کے پاسپورٹ پر درج اس کے  ہندوستانی پتے میں کچھ خامیاں تھیں اور پتہ نامکمل تھا اس لئے سعودی پولیس ...