سعودی عرب کے ساحلوں پر لگژری سیرگاہیں

Source: S.O. News Service | Published on 2nd August 2017, 4:37 PM | خلیجی خبریں |

ریاض،2اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سعو دی عرب نے سیاحوں کے لیے ایک بڑے پراجیٹک کا آغاز کیا ہے جس کے نتیجے میں بحرِ احمر کے ساتھ موجود 50جزیرے لگژری سیرگاہوں میں بدل جائیں گے۔یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس سے غیر ملکی سیاح اور مقامی افراد کو متوجہ کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی معیشت کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔تاہم ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ سعودی عرب جیسے قدامت معاشرے میں اس سیاحتی مقام پر لباس کے معاملے میں نرمی برتی جائے گی یا نہیں۔یاد رہے کہ سعودی عرب میں شراب، سینیما گھر اور تھیٹرز ممنوعات میں شامل ہیں۔خواتین کے لیے لازم ہے کہ وہ عوامی مقامات پر عبایا پہنیں اور سر ڈھکیں۔اس کے علاوہ وہ نہ تو ڈرائیونگ کر سکتی ہیں اور نہ ہی عام طور پر اپنے محرم کی اجازت کے بغیر تعلیم کے لیے جا سکتی ہیں یا بیرون ملک سفر کر سکتی ہیں۔
ان نئے سیاحتی مقامات کی تعمیر کا آغاز سنہ 2019میں ہوگا۔پہلے مرحلے میں نئے ایئر پورٹس، لگژری ہوٹلز اور رہائش کے لیے مکانات تعمیر کیے جائیں گے اور توقع ہے کہ یہ مرحلہ 2022تک پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔سعودی عرب میں پہلے ہی وہاں نوکری کی غرض سے جانے والے لاکھوں غیر ملکیوں اور حج کے لیے آنے والے عازمین کی میزبانی کرتا ہے۔تاہم اب تک سعودی عرب کے سخت سماجی نظریات کی وجہ سے یہاں سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایسے اقدامات بھی نہیں کیے گئے۔
اس پراجیکٹ کا نام وژن 2030ہے جس کی نگرانی شہزادہ محمد بن سلمان کر رہے ہیں۔وژن 2030کے مطابق یہ پراجیکٹ سعودی عرب کے مغرب کی ساحلی پٹی پر بحر ہند میں 125 میل کے علاقے تک بنایا جائے گا۔یہاں ساحل پر مونگے، جامد آتش فشاں اور عرب خطے میں موجود نایاب جنگلی جانوروں کے لیے مسکن بنائے جاتے ہیں۔
 

ایک نظر اس پر بھی

عاسکر فرنانڈیز کریں گے منکی کو اڈوپٹ ؛ منکی کی بنیادی مسائل حل کرنے اور ترقیاتی کاموں کو انجام دینے اتحاد و ملن پروگرام میں اعلان

منکی کے ساتھ میرا خاص تعلق رہا ہے اور منکی والوں کے ساتھ بھی میرے ہمیشہ سے اچھے تعلقات رہے ہیں، شیرور کو میں نے اڈوپٹ کیا تھا اور اپنے فنڈ سے شیرور میں ترقیاتی کام کئے تھے، اب میں منکی کے بنیادی مسائل حل کرنے اور وہاں ترقیاتی کاموں کو انجام دینے منکی کو اپنے اختیار میں لے رہا ...

ولی عہد دبئی کی جانب سے’فٹ نس چیلنج‘ میں شرکت کی دعوت

متحدہ عرب امارات کی قیادت بڑے بڑے چیلنجز کا خود مقابلہ کرنے کے ساتھ مملکت کے عوام اور امارات میں مقیم شہریوں کو نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور انہیں زندگی کے ہرشعبے میں آگے نکلنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔