سعودی عرب: فوجی صنعت کے لیے نئی کمپنی کے قیام کا اعلان ملٹری انڈسٹری کمپنی بڑی کمپنیوں کے ساتھ مل کرکام کرے گی: نائب ولی عہد

Source: S.O. News Service | By Sheikh Zabih | Published on 18th May 2017, 5:51 PM | عالمی خبریں |

ریاض،18مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے ’سعودی ملٹری انڈسٹریز‘ کے نام سے ایک نئی کمپنی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ملک میں فوجی مصنوعات کی تیاری کے لیے آزادانہ طور پر کام کرسکے گی۔ فوجی مصنوعات کی تیاری کے لیے نئی کمپنی مملکت کے ’ویڑن 2030ء کا حصہ ہے۔ ملٹری انڈسٹری کمپنی کے قیام سے سعودی عرب فوجی سازو سامان کی تیاری اور عالمی معیار کے مطابق فوجی اشیاء بنانے میں خود کفیل ہوسکے گا۔پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی جانب سے دیگر محکموں کے ساتھ مل کر نئی فوجی انڈسٹری کمپنی کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں۔ کمپنی کیقیام کے لیے ضروری تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ’ویڑن 2030‘ پر عمل درآمد کرتے ہوئے سعودی ملٹری انڈسٹری کو اگلے چند برسوں کے دوران فوجی سازو سامان تیار کرنے والی 25 بین الاقوامی کمپنیوں میں شامل کرنا ہے۔ سعودی عرب پہلے بھی فوجی سامان کی تیاری میں اہم شریک رہا ہے مگر اب مقامی سطح پر فوجی صنعت کے فروغ کے ذریعے مملکت کو دنیا میں ایک نیا مقام دلانا ہے۔
ماہرین توقع ظاہر کررہے ہیں کہ فوجی صنعت مملکت کی جی ڈی پی میں سالانہ 14 ارب ریال اضافہ کرے گی۔ کمپنی ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کے لیے 6 ارب ریال کی رقم مختص کی گئی ہے۔ فوجی صنعت کے قیام سے ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور براہ راست 40 ہزار فراد کو ملازمتیں ملیں گی جب کہ 30 ہزار افراد کے لیے بالواسطہ طور پر فوجی صنعت سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ مملکت کا شمار امن وامان اور دفاع پر سب سے زیادہ رقم خرچ کرنے والے پانچ بڑے ملکوں میں ہوتا ہے مگر مقامی سطح پر دفاعی سازو سامان اور فوجی سامان کی تیاری میں سعودی سرمایہ کاری دو فی صد سے زیادہ نہیں۔ نئی فوجی صنعت کے لیے قائم کردہ کمپنی کے ذریعے ویڑن 2030ء کے مطابق مقامی سطح پر فوجی سامان کی تیاری اور فوجی صنعت پر مقامی سرمایہ کاری کا حجم 50 فی صد تک لانا ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ ملٹری انڈسٹری کمپنی عسکری مصنوعات کی تیاری کے لیے کام کرنے والی بڑی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور بڑے بڑے منصبوں میں حصہ لے گی۔ سعودی عرب میں فوجی صنعت کے فروغ سے درآمدات وبرآمدات میں اضافہ اور بیرون ملک سے مملکت میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔

ایک نظر اس پر بھی

انجلینا جولی کی عید پرعراق کے شہر موصل کے پناہ گزینوں سے ملاقات

اقوام متحدہ کی پناہ گزین کی خصوصی ایلچی انجلینا جولی نے عراق میں دہشت گردی سے سب سے متاثرہ علاقے موصل کا دورہ کیا اور عالمی برادری سے تباہ حال شہر کے بے گھر رہائشیوں کی دوبارہ اپنے گھروں میں آبادکاری کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔

ننگر ہار: طالبان پر خودکش حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 36 ہو گئی

صوبہ ننگرہار میں کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر نجیب اللہ کماوال کے حوالے سے کہا ہے کہ ہفتہ کو ہونے والے اس حملے میں 65 افراد زخمی بھی ہوئے۔افغان حکام نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے دوران مشرقی صوبہ ننگرہار میں افغان جنگجوؤں کے ایک اجتماع پر خودکش حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 36 ہو گئی ہے۔

جاپان میں.1 6 شدت کا زلزلہ، تین افراد ہلاک

اوساکا اور اس کے گرد و نواح کا شمار جاپان کے اہم ترین صنعتی مراکز میں ہوتا ہے اور زلزلے کے بعد علاقے میں واقع بیشتر کارخانوں میں کام بند کردیا گیا ہے۔جاپان کے دوسرے بڑے شہر اوساکا میں آنے والے 6.1شدت کے زلزلے سے اب تک تین افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے۔

نیو جرسی: آرٹ فیسٹول میں فائرنگ، حملہ آور ہلاک

امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں ایک آرٹ فیسٹول کے دوران فائرنگ سے 22 افراد زخمی ہوگئے ہیں جب کہ ایک مبینہ حملہ آور مارا گیا ہے۔حکام کے مطابق واقعہ اتوار کو نیوجرسی کے شہر ٹرینٹن میں پیش آیا جہاں رات بھر جاری رہنے والے آرٹ فیسٹول کے دوران دو متحارب گروہ آپس میں لڑ پڑے۔

افغان طالبان کا جنگ بندی میں توسیع سے انکار

افغان طالبان نے کہا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز سے تین روزہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد اس میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد کے حوالے سے کہا ہے کہ جنگ بندی 17 جون کی رات ختم ہو رہی ہے جس کے بعد طالبان کی کارروائیاں ...

ترک فوج کی عراق میں بمباری، 35 کرد جنگجو ہلاک

ترکی کی مسلح فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ عراق کے شمالی علاقے جبل قندیل میں کرد علاحدگی پسند گروپ کردستان ورکرز پارٹی "PKK" کے ٹھکانوں پر بمباری کے نتیجے میں کم سے کم 35 کرد باغی ہلاک ہو گئے ہیں۔