برطانیہ میں انتہا پسندی کی معاونت میں سعودی عرب سرفہرست

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 6th July 2017, 11:44 AM | خلیجی خبریں | عالمی خبریں |

لندن ،5؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ایک برطانوی تھنک ٹینک کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں اسلامی انتہاپسندی پھیلانے کی معاونت میں سر فہرست سعودی عرب ہے۔ہینری جیکسن سوسائٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسلامی تنظیموں کے بیرون ملک سے فنڈ لیے جانے، نفرت انگیزی پھیلانے والوں اور شدت پسندی کو فروغ دینے والوں کے درمیان 'ایک واضح بڑھتا ہوا تعلق' ملا ہے۔

خارجہ امور سے متعلق اس برطانوی تھنک ٹینک نے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے کردار کے بارے میں عوامی سطح پر تحقیقات کی جائیں۔وزرا اس رپورٹ جو کہ برطانیہ میں موجود اسلامی شدت پسند گروپ سے متعلق ہے کی اشاعت کے حوالے سے دباؤ میں ہیں۔برطانیہ میں جہادی تنظیموں کی موجودگی اور اثر و رسوخ کے بارے میں وزارتِ داخلہ کو یہ رپورٹ مرتب کرنے کے لیے سابق برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے 2015میں حکم دیا تھا۔ابھی اس رپورٹ کا مکمل ہونا اس سوال کے ساتھ باقی ہے کہ کیا اسے کبھی شائع بھی کیا جائے گا یا نہیں۔

ناقدین کی رائے میں اس رپورٹ کا پڑھا جانا برطانوی حکومت کے لیے بے چینی کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ طویل عرصے سے سفارتی، سکیورٹی اور اقتصادی رابطے ہیں۔بدھ کو سامنے آنے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت سے خلیجی ممالک جن میں ایران بھی شامل ہے ایسی مساجد اور اسلامی تعلیماتی اداروں کو مالی امداد دے رہے ہیں جو انتہاپسند مبلغین کے لیے میزبان کا کردار ادا کرتے ہیں اور جنھوں نے انتہاپسندی پر مبنی مواد کو پھیلایا۔

اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فہرست میں سب سے اوپر سعودی عرب ہے۔ رپورٹ میں بہت سی مثالیں دے کر بہت سی شخصیات اور فاؤنڈیشنز پر الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ وہ متعصب اور کٹر وہابی نظریات کو پھیلانے میں ملوث رہے ہیں۔لندن میں قائم سعودی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب پر لوگوں کی ایک قلیل تعداد کو انتہا پسند بنائے جانے کے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کے قابلِ بھروسہ شواہد بھی نہیں ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ خود سعودی عرب بھی القاعدہ اور نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے حملوں کا نشانہ بنا ہے۔

رپورٹ میں کہا ہے کہ بہت سے خلیجی ممالک جن میں ایران بھی شامل ہے ایسی مساجد اور اسلامی تعلیماتی اداروں کو مالی امداد دے رہے ہیں جو انتہاپسند مبلغین کے لیے میزبان کا کردار ادا کیا اور جنھوں نے انتہاپسندی پر مبنی مواد کو پھیلایا۔بیان میں مزید کہا گیا 'ہم شدت پسندی کے تصور کو فروغ دینے والے کسی بھی اقدام کو برداشت نہ کرتے ہیں نہ کریں گے اور ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک یہ تنظیمیں تباہ نہیں ہو جاتیں۔ فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ ایسے حساس وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام قطر پر عائد کر رہے ہیں۔

ادھر عرب ممالک کے وزرائے خارجہ قاہرہ میں ہونے والے ایک اجلاس میں قطر کے خلاف پابندیوں سے متعلق بات چیت کریں گے۔ اسی اثنا میں قطر کے وزیرِ خارجہ اپنے ملک کے دفاع کے لیے لندن میں پریس کانفرنس کریں گے۔اس رپورٹ کی توثیق کرتے ہوئے لیبر پارٹی کے رکنِ پارلیمان ڈین جاروس کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ سے سعودی عرب اور شدت پسندی کی مالی معاونت کے درمیان پریشان کن تعلق اجاگر ہوا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

سمندری طوفان مکونو عمان کے ساحل سے ٹکراگیا؛ تیز ہواؤں اور شدید بارشوں نے مچائی تباہی؛ 12افراد ہلاک

   سمندری طوفان مکونو عمان کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کے نتیجے میں  جنوبی عمان کے صلالہ میں  تیز ہواؤں اور شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے،  اور عمان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک بچی سمیت 12 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

بھٹکل جامعہ اسلامیہ وفد کی جدہ آمد پر افطاری پروگرام ؛ بھٹکل کے معروف نابینا حافظ انیس بڈو کو جماعت کی جانب سے عمرہ کا اعزاز

بھٹکل کمیونٹی جدہ کی جانب سے ممبران کے لئے ہوٹل ٹرائی ڈینٹ میں افطاری کا اہتمام کیا گیا۔ اور اس پروگرام میں جامعہ اسلامیہ کے وفد  مولانا انصار خطیب مدنی و مولانا ارشاد صدیقہ ندوی کا پُرتباک استقبال ہوا

مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے ہماری کوششوں کو سب جانتے ہیں : خالد بن سلمان

واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن سلمان کا کہنا ہے کہ مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز کے دور سے خادم حرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دور تک مسئلہ فلسطین 70 برسوں سے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں مرکزی معاملہ رہا ہے۔

غزہ کی مشرقی سرحد پر زخمی ایک اور فلسطینی دم توڑ گیا

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں زخمی ہونے والا ایک اور فلسطینی شہری شہید ہوگیا جس کے بعد 30 مارچ سے جاری پرتشدد تحریک میں قابض فوج کے حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 122ہوگئی ہے۔