سعودیہ پر حملوں کے بعد ایرانی میزائل خطرات کا انسداد ناگزیر ہوچکا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 8th November 2017, 12:00 PM | خلیجی خبریں | عالمی خبریں |

تہران 7نومبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض پر یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے بیلسٹک میزائل کی ناکام کوشش کے بعد ایران کا میزائل پروگرام زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ ان حملوں کے بعد یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ایران کی طرف سے بڑھتے خطرات کو روکنا اولین چیلنج ہے۔ تمام عرب ممالک کو ایرانی خطرات کی روک تھام کے لیے ایرانی خطرے کو پہلی ترجیح قرار دینا چاہیے۔ ’ٹویٹر‘ پر پوسٹ کی گئی متعدد ٹویٹس میں ایران کی مدد سے یمن کے حوثی ہمارے لیے ایک نئی حزب اللہ بن رہے ہیں۔ ہمارے لیے حوثیوں سے نمٹنا اہم چیلنج ہے۔ حوثی باغیوں کو ایران کی طرف سے ملنے والی معاونت اور مدد انہیں راہ راست پر لانے میں رکاوٹ ہے۔ حوثی باغیوں نے یمن کے مسئلے کے سیاسی حل کی تمام کوششیں مسترد کیں جس کے بعد یہ واضح ہوا کہ ان کے ساتھ لچک دکھانے کا کوئی جواز نہیں۔

اماراتی وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ریاض پرحوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں نے ایرانی بیلسٹک پروگرام کی روک تھام کو اولین اور فوری حل طلب مسئلہ بنا دیا ہے۔ ہم ایران کے میزائل پروگرام کے خطرات سے دوچار ہوچکے ہیں۔ عرب ممالک کو ایرانی خطرے کے انسداد کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔القرقاش کا کہنا تھا کہ ایرانی خطرے کے خلاف خلیجی ممالک کو یکساں اور مضبوط موقف اختیار کرنا ہوگا۔ ایران کے حوالے سے غیر جانب دار رہنے کا وقت گذر گیا۔

ایک نظر اس پر بھی

ایرانیوں کا پیغام واضح ہے، وہ نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں : شہزادہ رضا پہلوی

سابق شاہ ایران کے بیٹے شہزادہ رضا پہلوی نے ایران میں مظاہروں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے باور کرایا ہے کہ ایرانی عوام 40 برس تک مذہبی آمریت کے نظام کے تحت زندگی گزارنے کے بعد اس بات پر قائل ہو چکے ہیں کہ اس نظام کی اصلاح ممکن نہیں۔

اب سو فیصد ڈیجیٹل حج؛ آن لائن اور ایپ کے ذریعے3.60 لاکھ درخواستیں موصول؛ سعودی میں مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کا بیان

امسال سے حج سو فی صد  دیجٹل  ہوگا اور لوگوں کے ابآن لائن اور موبائل ایپ کے ذریعے درخواستیں موصول کئے جارہے ہیں، اب تک  آن لائن  اور موبائیل ایپ کے ذریعہ تین لاکھ  60 ہزار درخواستیں  حج کمیٹی کو موصول ہوچکی  ہیں۔  ہمارا حج کوٹہ پچھلے سال کی طرح امسال بھی پرایویٹ ٹور اپریٹرس ...

روہنگیا مہاجرین کی وطن واپسی دو سال میں ممکن 

میانمار میں سکیورٹی دستوں کے وحشیانہ سلوک اور قتل و غارت گری سے جان بچا کر بنگلہ د یش پناہ گزیں لاکھوں روہنگیا مہاجرین کی دو سال کے دوران وطن واپسی پر بنگلہ د یش اور میانمار حکام کے مابین اتفاق رائے ہو گیا ہے ۔