سعودی عربیہ میں شہزادوں کی گرفتاریاں؛ کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن یا خاندانی دشمنیاں ؟

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 13th November 2017, 3:15 AM | خلیجی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

دبئی 12/نومبر (ایس او نیوز) سعودی عربیہ میں حال ہی میں جو واقعات رونما ہوئے ہیں اور شہزادوں سمیت  وزراء اور اہم  سرکاری عہدیداروں کی گرفتاریاں ہوئی ہیں، اُس سے نہ صرف سعودی عربیہ  بلکہ پوری اسلامی دنیا پر گہرا  پڑا ہے اور مسلمان سعودی عربیہ میں ہونے والے واقعات پر تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

ویسے تو شہزادوں، سرکاری عہدیداروں اور سرمایہ داروں کی گرفتاریوں کو سرکاری طور پر بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن سے منسلک کیا جا رہا ہے لیکن سعودی عرب کے حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان کا خاندانی و کاروباری پس منظر ثابت کرتا ہے کہ ان میں سے بیشتر لوگ اپنے سیاسی نظریات اور خاندانی وابستگیوں کی وجہ سے گرفتار کیے گئے ہیں۔

بی بی سی کی ایک  رپورٹ کے مطابق 11 سے زیادہ شہزادوں اور کئی تاجروں اور سرکاری افسران کی گرفتاری نے اس قدامت پسند سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا ہے جہاں سے عام طور پر کوئی معمولی خبر بھی باہر نہیں نکلتی۔ مگر اب  میڈیا کی نظریں ادھر ہی جمی ہوئی ہے اور سعودی عوام سانس روکے نوجوان سعودی ولی عہد کے اگلے قدم پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق  یہ گرفتاریاں گذشتہ برسوں میں سعودی عرب سے آنے والی اہم ترین خبروں میں سے ایک ہے۔ اس کے باوجود سعودی عرب میں اس پر کھلے عام بہت کم باتیں ہو رہی ہیں۔ سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکی صحافی اس خبر کے بارے میں بات تو کر رہے ہیں لیکن اس پر سرکاری اعلامیوں سے زیادہ کچھ لکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

بی بی سی نے اس تعلق سے سعودی عرب میں کام کرنے والے بعض صحافیوں سے رابطہ کیا جنہوں نے اس سارے معاملے کے سیاق و سباق پر روشنی تو ڈالی لیکن اپنا نام شائع نہ کرنے کی درخواست بھی کی کیونکہ ان لوگوں کو خدشہ ہے کہ سعودی ولی عہد اس بارے میں شدید حساس ہیں اور اس موضوع پر آزادانہ رائے دینا ان صحافیوں کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

ویسے تو سعودی شہزادے جتنی بڑی تعداد میں اور جتنے اہم کاروباری و سرکاری عہدوں پر پائے جاتے ہیں، یہ ممکن ہی نہیں کہ ملک میں کوئی بھی غلط یا صحیح کاروباری سرگرمی ہو اور اس میں کوئی نہ کوئی شہزادہ  شامل نہ ہو، اس کے باوجود گرفتار شدگان کی فہرست بتاتی ہے کہ ان پر ہاتھ ڈالنے کا مقصد صرف کرپشن کا خاتمہ نہیں ہے۔

مثال کے طور پر گرفتار ہونے والوں میں سابق فرمانروا شاہ عبداللہ کے بیٹے اور بعض قریبی ساتھی بھی شامل ہیں جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ان گرفتاریوں کا ایک ہدف شاہ عبداللہ کی باقیات اور ان کی سوچ کو شاہی محل سے نکالنا بھی تھا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ بالکل ہی ایک سیاسی عمل ہے۔ دو برس قبل مکہ میں تعمیراتی کرین گرنے سے ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی طرح چند برس قبل جدہ میں سیلاب سے بھی اتنی ہی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ ان دونوں معاملات کی تفتیش میں ناقص آلات اور منصوبہ کے الزامات سامنے آئے تھے لیکن بعض بااثر افراد اور شہزادوں کی مداخلت کے باعث ان حادثات کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں ہو پا رہی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ گرفتاریوں کا ان دونوں واقعات سے بھی تعلق ہے۔

پچاس کے قریب گرفتار شدگان میں سے چند ایک کے بارے میں جو معلومات دستیاب ہیں ان کی بنیاد پر ان کا تیار کردہ خاکہ بھی اس گرفتاری مہم کی وجوہات و اثرات پر کچھ روشنی ڈال سکتا ہے۔

اگر غور سے دیکھا جائے تو پکڑے گئے شہزادوں کا تعلق ان کے حسب نسب سے بھی نکلتا ہے کہ کون کس کا بیٹا ہے اور اس کے باپ کے ساتھ ماضی میں کیا کچھ ہوا تھا۔ چند مثالیں سامنے ہیں۔

شہزادہ ولید بن طلال 

  62 سالہ ارب پتی شہزادہ   ولید بن طلال دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں۔ وہ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز السعود کے پوتوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے والد طلال بن عبدالعزیز السعود ایک آزاد سوچ کے مالک تھے اور ان کے دوسرے سعودی بادشاہوں کے ساتھ تعلقات اکثر سرد رہے تھے اور ایک موقع تو ایسا تھا کہ وہ ملک چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔

اس وقت کے بادشاہ شاہ فیصل نے، جو ان سے سخت ناراض تھے، طلال بن عبدالعزیز کی والدہ کے کہنے پر انھیں ملک میں واپس تو آنے دیا اور ان کے اثاثے بھی منجمد نہیں کیے لیکن انھوں نے کبھی انھیں معاف نہیں کیا۔

شہزادہ ولید بن طلال بھی اپنے والد کی طرح لبرل خیالات کے مالک ہیں۔ اگرچہ وہ کسی سرکاری عہدے پر  فائز نہیں لیکن اپنے کاروباری اثر و رسوخ کی وجہ سے سعودی پالیسی بنانے میں ان کا بڑا عمل دخل مانا جاتا ہے۔

شہزادہ ولید بن طلال کی گرفتاری  بھلے ہی کرپشن یا بدعنوانی کے نام پر ہوئی ہو، مگر سیاسی جانکاروں کا کہنا ہے کہ ولید بن طلال مغربی دنیا میں کافی معروف ہیں اور وہ انھیں ایک لبرل شخصیت کے طور پر جانتی ہے، اس بنا پر  شہزادہ ولید بن طلال سے  ولی عہد محمد بن سلمان سخت  خطرہ محسوس کر سکتے ہیں ۔ ان کے مغربی تاجروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ بھی بڑے قریبی تعلقات ہیں چناچہ اگر کبھی مغربی دنیا کو سعودی عرب میں کسی لبرل شخصیت کی طلب ہو سکتی تھی تو وہ ولید بن طلال کی شکل میں موجود تھی۔

شہزادہ مطعب بن عبداللہ

65 سالہ شہزادہ مطعب مرحوم شاہ عبداللہ کے 34 بچوں میں سے ایک ہیں۔ وہ حراست سے پہلے سعودی عرب کی طاقتور نیشنل گارڈ کے سربراہ تھے جو کہ ملک کی تقریباً آدھی فوج پر مشتمل ہے۔ باقی آدھی فوج براہ راست محمد بن سلمان کو جوابدہ تھی۔ لیکن اب شہزادہ مععب کی گرفتاری کے بعد محمد بن سلمان  کا کنٹرول تقریباً پوری فوج پر ہوگیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ  مطعب بن عبداللہ بھی بادشاہت کے خواہاں رہے ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ نیشنل گارڈز کے سربراہ تھے جو شمری قبائل پر مشتمل ہے اور شمری قبائل عبداللہ کا قبیلہ ہے۔ اس قبیلے میں تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ لوگ ہیں اور یہ عبداللہ اور ان کے خاندان کے بڑے وفادار ہیں۔

سیاسی جانکاروں کے مطابق  مطعب بن عبداللہ ہی وہ شخص تھے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب سعودی الیجیئنس کونسل میں  محمد بن نائف کو سلطنت کے ولی عہد کی پوزیشن سے ہٹا نے کا معاملہ پیش ہوا   اور ان کی جگہ محمد بن سلمان کو لانا طئے پایا تو    جن چند لوگوں نے اس کی مخالفت کی جرات کی تھی ان میں سے ایک مطعب بن عبداللہ بھی تھے۔اس بنا پر مطعب بن عبداللہ،  محمد بن سلمان کے لیے ایک اور بڑا خطرہ  مانے جارہے تھے۔، اب ان کی برطرفی اور گرفتاری کے بعد وہ  سائیڈ لائن ہو گئے ہیں۔

شہزادہ ترکی بن عبداللہ

46 سالہ شہزادہ ترکی سابق شاہ عبداللہ کے بیٹے ہیں۔ وہ صوبہ  ریاض کے گورنر رہے ہیں اور انھیں ریاض میٹرو پراجیکٹ کا بانی بھی کہا جاتا ہے اور اطلاعات کے مطابق یہی وہ پراجیکٹ ہے جس میں کرپشن کا ان پر الزام ہے۔

عرب تجزیہ نگار وں کی مانیں تو سعودی عرب کی تاریخ میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اتنے بڑے پیمانے پر اہم عہدوں پر فائز لوگوں کو ایک ساتھ پکڑا اور نکالا گیا ہو۔تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ   یہ شاہی خاندان کے لیے 'ویک اپ' کال ہے کہ جو آدمی بھی اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کرے گا چاہے اس کا تعلق شاہی خاندان سے ہی کیوں نہ ہو، اس کا یہی حشر ہو گا۔

ابراہیم بن عبدالعزیز بن عبداللہ العساف

68 سالہ ابراہیم العساف حراست کے وقت وزیرِ خزانہ تھے۔ اس سے قبل وہ تدریس کے شعبے سے بھی منسلک رہے ہیں اور انھوں نے سعودی عرب کی آئی ایم ایف میں بھی نمائندگی کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان پر مکہ کی بڑی مسجد یعنی خانہ کعبہ کی وسعت کے پراجیکٹ میں کرپشن کا الزام لگایا گیا ہے۔ تاہم یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جو کبھی محمد سلمان کے فیصلوں سے اختلاف کرتے رہے ہیں۔ ان کے علاوہ خالد التویجری، سابق سربراہ ایوان شاہی، شہزادہ ترکی بن ناصر، سابق سربراہ محکمہ موسمیات اور کئی دیگر اہم عہدوں پر فائز شخصیات اور سرمایہ دار ہیں۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان گرفتاریوں کے ذریعے محمد بن سلمان نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، سب پر سعودی قانون  کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ اتنا عوامی فیصلہ ہے کہ 'اگر آج شاہ کے لیے انتخابات بھی ہوں تو محمد بن سلمان جیت جائیں گے۔' 'لوگ کہتے ہیں کہ سعودی عرب میں مکمل بادشاہت ہے اور وہاں کرپشن ہے ایسے میں اس طرح کا کام ایک اچھی مثال ہے۔' مگر  کچھ تجزیہ نگاروں کو  اس طرح کے فیصلوں کے پیچھے امریکہ کا آشیر واد بھی نظر آتا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ سعودی میں شہزادوں اور اہم لوگوں کی گرفتاریوں کے فیصلوں سے چند دن پہلے جارید کشنر بہت لو پروفائل دورے پر سعودی عرب گئے تھے۔ اور اکثر لوگوں کا خیال یہی ہے کہ اس میں شاہی خاندان ایک بہت بڑا مسئلہ تھا جو زیرِ بحث رہا۔'  کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق  کرپشن حقیقت میں سعودی عرب کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

'سعودی عرب میں چونکہ دولت کی فراوانی رہی ہے اس لیے کرپشن سرِ عام نظر نہیں آتی ہے جس طرح دوسرے ملکوں میں نظر آتی ہے۔ لیکن کرپشن کو استعمال کر کے غالباً محمد بن سلمان صاحب نے نوجوان نسل کو جو کہ ان کا اصل ووٹ بینک ہے، یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ دیکھو میں ان تمام بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈال رہا ہوں۔

مبصرین کے مطابق سعودی شاہی خاندان میں بڑے زبردست اختلافات ہیں اور ان اختلافات کا اثر محمد بن سلمان کی بادشاہت پر پڑ سکتا ہے اس لیے اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب کچھ کیا جائے۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر گھیرا تنگ کرنا چاہتے ہیں اور شاید یہ اس ہی کا نتیجہ ہے کہ انھوں نے محمد بن سلمان کی کھل کر حمایت کی ہے اور وہ ان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔

سنیچر کو سعد حریری کا ریاض میں استعفیٰ دینا، اسی دن ہی ریاض ایئرپورٹ کے قریب حوثیوں کی طرف سے مبینہ طور پر چلائے گئے بیلسٹک میزائل کو روکنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران اور اس کے تمام دوستوں جن میں حزبِ اللہ بھی شامل ہے، ان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کا نیا باب شروع ہو گیا ہے جس میں ٹرمپ اور محمد بن سلمان بڑے جارحانہ طریقے سے کاربند ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس پارٹی نے کیا غیر رہائشی ہندوستانی ووٹروں کے لئے ڈسٹرکٹ کوآر ڈینیٹرکے بطوربھٹکل کے قمر سعدا کا تقرر

بھٹکل کے مشہورغیر رہائشی سماجی خدمت گار اور سعودی عرب کے تاجر قمر سعدا صاحب کو کرناٹکا پردیش کانگریس کی طرف سے پارلیمانی انتخابات کے موقع پر ووٹنگ کے لئے وطن میں تشریف لانے والے این آر آئیز کے لئے’ ڈسٹرکٹ کوآر ڈینیٹر‘ مقرر کیا ہے ۔

بھٹکل میں انڈین نوائط فورم کی جانب سے روزگار میلہ؛ چار سے پانچ لاکھ روپیوں میں کاروبار شروع کرنے کے خواہش مندوں کے لئے بھی سنہرا موقع

بھٹکل سمیت اطراف کے علاقوں بالشمول شرالی، مرڈیشور اور منکی کے لوگوں کے لئے جو نوکریوں کی تلاش میں ہیں، انڈین نوائط فورم کی جانب سے  27 اپریل کو منعقد کئے جانے والے جاب فئیر  کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں، اس تعلق سے کافی لوگوں نے  فئیر میں شریک ہونے کے لئے اپنا نام درج کروایا ...

دبئی کے قریب عجمان میں منعقدہ امین سیف اللہ "بی پی ایل" کرکٹ ٹورنامنٹ میں این جی ٹی بلٹز کی شاندار کامیابی

 امین سیف اللہ بھٹکل پریمئر لیگ(بی پی ایل)  2019 کرکٹ ٹورنامنٹ  کے فائنل میں این جی ٹی بلٹز نے شاندار کھیل کا مظاہرہ پیش کرتے ہوئے  الکریمی چیمپئن کوشکست دے کر بی پی ایل چیمپئن شپ حاصل کرلی ہے۔ خیال رہے کہ این جی ٹی ٹیم  مسلسل آٹھ سالوں سے بی پی ایل ٹورنامنٹ  میں حصہ لے رہی تھی، ...

بھٹکل کمیونٹی جدہ کی جانب سے ممبران کے لئے پکنک کا اہتمام؛ خواتین کے لئے صحت بیداری کا بھی منعقد ہوا بہترین  پروگرام

  4/اپریل 2019 کوبھٹکل کمیونٹی جدہ نے موجودہ  حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے پریشانیوں،  دشواریوں اور تناو  سے تھوڑا سا ارام اور پرسکون ماحول فراہم کرنے  ممبران کے لئے پکنک کا اہتمام کیا جس میں بچوں  بڑوں اور بزرگوں اور خواتین کے لئے  بہت سارے تفریحی پروگرام منعقد کئے گئے. خیال رہے ...

مودی جی کا پرگیہ سنگھ ٹھاکور سے لاتعلقی ظاہر کرنا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کا دہشت گردی سے ۔۔۔۔ دکن ہیرالڈ میں شائع    ایک فکر انگیز مضمون

 وزیر اعظم نریندرا مودی کا کہنا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیتے ہوئے ”باپو کی بے عزتی“ کرنے کے معاملے پر پرگیہ ٹھاکورکو”کبھی بھی معاف نہیں کرسکیں گے۔“امیت شاہ کہتے ہیں کہ پرگیہ ٹھاکور نے جو کچھ کہا ہے(اور یونین اسکلس منسٹر اننت کمار ہیگڈے ...

بلقیس بانو کیس۔ انصاف کی جدوجہد کا ایک سنگ میل ......... آز: ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

سترہ سال کی ایک لمبی اور طویل عدالتی جدوجہد کے بعد بلقیس بانو کو ہمارے ملک کی عدالت عالیہ سے انصاف حاصل کرنے میں فتح حاصل ہوئی جس فتح کا اعلان کرتے ہوئے عدالت عالیہ (سپریم کورٹ آف انڈیا) نے گجرات سرکار کو حکم دیا کہ وہ بلقیس بانو کو پچاس لاکھ روپے معاوضہ کے ساتھ ساتھ سرکاری نوکری ...

بھٹکل کے نشیبی علاقوں میں کنووں کے ساتھ شرابی ندی بھی سوکھ گئی؛ کیا ذمہ داران شرابی ندی کو گٹر میں تبدیل ہونے سے روک پائیں گے ؟

ایک طرف شدت کی گرمی سے بھٹکل کے عوام پریشان ہیں تو وہیں پانی کی قلت سے  عوام دوہری پریشانی میں مبتلا ہیں، بلندی والے بعض علاقوں میں گرمی کے موسم میں کنووں میں پانی  کی قلت  یا کنووں کا سوکھ جانا   عام بات تھی، مگر اس بار غالباً پہلی بار نشیبی علاقوں میں  بھی پانی کی شدید قلت ...

مفرور ملزم ایم ڈی مُرلی 2008کے بعد ہونے والے بم دھماکوں اور قتل کااصل سرغنہ۔ مہاراشٹرا اے ٹی ایس کا خلاصہ

مہاراشٹرا اینٹی ٹیرورازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) کا کہنا ہے کہ سن  2008 کے بعد ہونے والے بہت سارے بم دھماکوں اور پنسارے، دابولکر، کلبرگی اور گوری لنکیش جیسے ادیبوں اور دانشوروں کے قتل کا سرغنہ اورنگ آباد کا رہنے والا مفرور ملزم ایم ڈی مُرلی ہے۔

اب انگلش میڈیم کے سرکاری اسکول ؛ انگریزی میڈیم پڑھانے والے والدین کے لئے خوشخبری۔ ضلع شمالی کینرا میں ہوگا 26سرکاری انگلش میڈیم اسکولوں کا آغاز

سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے داخلے میں کمی اور والدین کی طرف سے انگلش میڈیم اسکولوں میں اپنے بچوں کے داخلے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے اب سرکاری اسکولوں میں بھی انگلش میڈیم کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ بنایاگیا ہے۔

لوک سبھا انتخابات؛ اُترکنڑا میں کیا آنند، آننت کو پچھاڑ پائیں گے ؟ نامدھاری، اقلیت، مراٹھا اور پچھڑی ذات کے ووٹ نہایت فیصلہ کن

اُترکنڑا میں لوک سبھا انتخابات  کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں   نامدھاری، مراٹھا، پچھڑی ذات  اور اقلیت ایک دوسرے کے قریب تر آنے کے آثار نظر آرہے ہیں،  اگر ایسا ہوا تو  اس بار کے انتخابات  نہایت فیصلہ کن ثابت ہوسکتےہیں بشرطیکہ اقلیتی ووٹرس  پورے جوش و خروش کے ساتھ  ...