سردارپٹیل نے کہا تھا کہ مسلمان اس ملک کا اٹوٹ حصہ ہیں اور ہم اگر یہ احساس نہ دلائیں تو ہم ملک کی وراثت کے لائق نہیں

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 4th December 2018, 1:00 PM | ملکی خبریں | ریاستی خبریں |

بنگلورو،4؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)  سنگھ پریوار سے جڑی تنظیمیں بشمول بی جے پی نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو اپنا رہبراور رہنما بتایا ہے اور دنیا کا سب سے اونچا مجسمہ نصب کرکے اس کے اظہارکی کوشش کی ہے جبکہ سردار پٹیل کے آر ایس ایس سے متعلق کیا خیالات تھے اس کا انکشاف ممتاز مصنف وپن چندرا کی لکھی ایک کتاب میں ہوتا ہے ۔

انہوں نے لکھا ہے کہ 1949 میں سردار پٹیل نے ایک ہندوراشٹر بنانے کے  آر ایس ایس کے منصوبوں کو  پاگل پن قرار دیا تھا اوریہ کہاتھاکہ ہندوستان ہر مذہب کے ماننے والوں کا ہے اور یہاں ہر مسلمان کو یہ محسوس ہونا چاہئے کہ وہ اس ملک کا اٹوٹ حصہ ہیں  اوراس کا اس ملک پرپورااختیار ہے اوراگر ہم مسلمانوں کو یہ احساس دلانہیں پاتے تو پھر ہم اس ملک کی وراثت کے لائق بھی نہیں ہوں گے ۔

علاوہ ازیں انہوں نے آر ایس ایس کے خطرناک ارادوں کے پیش نظر ایک وزیر داخلہ کے ناطے اس پر پابندی بھی عائد کردی تھی ۔ پابندی کیوں عائد کی گئی اس سلسلہ میں انہوں نے ایک مکتوب بھی آر ایس ایس کے رہنما گولوالکر کو لکھا تھا ۔

انہوں نے لکھا تھاکہ ان کی تنظیم نے جو خطرناک راستہ اپنایا اس کا اختتام مہاتماگاندھی کے قتل پر ہوا تھا۔ آر ایس ایس کے نظریات سے حکومت اتفاق نہیں کرتی ۔ آر ایس ایس کے خلاف حکومت اس وقت اور سخت ہوگئی جب اس کے کارکنوں نے گاندھی جی کی موت پر خوشیاں منائی تھیں اور مٹھائی تقسیم کی تھی اس لئے ان کے پاس اس پر پابندی عائد کرنے کے سواء کوئی اورچارہ نہیں تھا۔یہ پابندی اس وقت ہٹائی گئی جب آر ایس ایس نے تحریری طورپر یہ وعدہ کیا تھاکہ وہ کسی بھی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے گی فقط ایک سماجی ادارہ کی حیثیت سے کام کرے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

این پی ایف منی پور میں بی جے پی زیر قیادت حکومت سے حمایت واپس لے گی: نیومئی

منی پور میں ناگا پیپلز فرنٹ (این پی ایف) نے ریاست میں بی جے پی زیر قیادت حکومت سے حمایت واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔این پی ایف کی منی پور صوبہ یونٹ کے صدر اوانگبو نیومئی نے کہا کہ ان کی حمایت واپس لینے کے لئے مجبور ہونا پڑا کیونکہ بڑی پارٹیاں چھوٹی پارٹیوں کوکمترسمجھ رہی تھیں۔

لوک سبھا انتخابات2019:تنازعات میں پی ایم مودی کی کیدارناتھ یاترا، ٹی ایم سی نے ای سی سے کی شکایت، کہا، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی

وزیر اعظم مودی کی کیدارناتھ یاترا پر تنازعہ ہو گیا ہے۔ترنمول کانگریس نے پی ایم مودی کے دورے کے لیے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اس کی شکایت الیکشن کمیشن سے کی ہے۔وہیں مودی آج بدری ناتھ دھام کے دورے پر ہیں۔

لوک سبھا انتخابات 2019: غیر بھاجپائی حکومت بنانے کی کوششیں تیز، چندرا بابو نائیڈو نے کی راہل گاندھی اور شرد پوار سے بات چیت

آندھرا پردیش کے وزیر اعلی اور ٹی ڈی پی سربراہ این چندرابابو نائیڈو نے کانگریس صدر راہل گاندھی اور این سی پی سربراہ شرد پوار سمیت اپوزیشن کے کئی سرکردہ لیڈروں کے ساتھ اتوار کو دوسرے دور کی بات چیت کی۔

بنگلور میں 23/ مئی کو ووٹوں کی گنتی کے دوران امتناعی احکامات نافذ

23 مئی کو لوک سبھاانتخابات کے نتائج کا اعلان ہورہا ہے۔ انتخابات کے نتائج ظاہر ہونے کے مرحلے میں کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا نہ ہونے پائے اس کے لئے شہر کے پولیس کمشنر سنیل کمار نے 23مئی کی صبح چھ بجے سے شہر بھر میں امتناعی احکامات نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کرناٹک کے کندگول اور چنچولی حلقوں میں آج ہوگی پولنگ؛ 85 پولنگ بوتھوں کو قرار دیا گیا ہے حساس

ریاست کرناٹک  کے دو اسمبلی حلقوں کندگول اور چنچولی کے لئے آج اتوار کو  ووٹ ڈالے جائیں گے۔ دونوں حلقوں پر کامیابی درج  کرنے کے لئے کانگریس جے ڈی ایس اتحاد اور بی جے پی نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔

محمد محسن کی فرض شناسی کو پھر نشانہ بنانے کی کوشش، الیکشن کمیشن تادیبی کارروائی کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع

اڈیشہ میں انتخابی مشاہد کے طور پر متعین کرناٹک کیڈر کے آئی اے ایس افسر محمد محسن نے وزیراعظم مودی کے ہیلی کاپٹر کی تلاشی لے کر جس فرض شناسی کا ثبوت پیش کیا اسے فرض شکنی قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے نہ صرف انہیں معطل کردیا بلکہ اب ایسا لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے انہیں نشانہ ...