اپنے ہی بنے جال میں پھنس گئی رافیل بنانے والی کمپنی دی سالٹ، سی ای او چھپا رہے ہیں سچ: کپل سبل نے لگایا اعلیٰ سطحی گھوٹالے کا الزام

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 9th November 2018, 1:58 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی:8/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کانگریس لیڈر اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے بھارت۔فرانس کے درمیان رافیل طیارے سودے میں اعلیٰ سطحی گھوٹالے کے الزام لگائے ہیں۔ انہوں نے رافیل طیارے بنانے والا کمپنی دی سالٹ کے سی ای اوپر سچ چھپانے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ فرانس کی ایوی ایشن کمپنی دی سالٹ کے سی ای او ایرک ٹریپیربھارت کو 36 رافیل طیاروں کی فروخت کے معاملے میں سچائی چھپار ہے ہیں ۔ مگر کمپنی اپنے ہی بنے جال میں پھنس چکی ہے ۔

سبل نے منگل کی رات صحافیوں کو بتایاکہ دی سالٹ ایوی ایشن کے سی ای او نے رافیل سودے میں معاملے کوالجھانے کی کوشش کی ،مگراب سچ چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے وہ اپنے ہی جال میں پھنس گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں دی سالٹ کو آگاہ کرنا چاہوں گا کہ جس قدر وہ سودے کے بارے میں سچ چھپائیں گے ، وقت کے ساتھ وہ اتنے ہی بھنور میں پھنستے جائیں گے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے رافیل سودے کو مکمل طور دلالی کا کیس بتایا ہے۔ گزشتہ دنوں کہا کہ پی ایم مودی نے خود اس سودے کو منظوری دی ہے۔ اگر جانچ ہوئی تو پی ایم مودی بچ نہیں پائیں گے، اور اسی ڈر سے سی بی آئی چیف کو ہٹا دیا گیا ہے۔ رافیل پر راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی پر حملے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ راہل نے الزام لگایا کہ دی سالٹ نے انل امبانی کو زمین خریدنے کے لئے پیسے دیئے، یہ مکمل طور پر اوپن اینڈشٹ کیس ہے۔ راہل نے کہا کہ دی سالٹ کمپنی نے انل امبانی کی خسارے میں چل رہی ایک کمپنی کو 284 کروڑ روپے دیئے، جس سے انل امبانی نے زمین خریدی۔ خسارے والی کمپنی کو کوئی پیسے کیوں دے گا؟ اگرچہ ریلائنس گروپ کی جانب سے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کانگریس نے پھر ریلائنس اور انل امبانی کے خلاف جھوٹ پھیلانے کے لئے حقائق کو توڑمروڑ کر پیش کیا ہے ۔ ریلائنس کا سارا کاروبار قوانین کے مطابق ہے اور 2017 سے ہی سارے لین دین کی تمام تفصیلات واضح ہیں ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

مودی پھر جیتے تو ملک میں شاید انتخابات نہ ہوں: اشوک گہلوت

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے منگل کو نریندر مودی حکومت کے دور میں ’جمہوریت اور آئین‘ کو خطرہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا کہ اگر عوام نے مودی کو پھر سے اقتدار سونپا، تو ہو سکتا ہے