صدقۃ الفطر کی فضیلت و اہمیت  از: نورالسلام ندوی

Source: S.O. News Service | By Safwan Motiya | Published on 27th June 2016, 2:03 PM | اسلام | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

صدقۃ الفطر ہر مسلمان ، آزاد ، مالک نصاب پر واجب ہے۔رمضان کے مہینہ میں روزوں میں جو فضول اور بیکار باتیں ہو جاتی ہیں صدقہ الفطر ان کو ختم کر دیتا ہے۔روزہ داروں کو بالکل پاک و صاف کر دیتا ہے اور ہمدردی و غمخواری کا جذبہ پیدا کر تا ہے ۔ چنانچہ رمضان کامہینہ ختم ہونے سے چند روزقبل یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ’’ قد افلح من تزکیٰ وذکرسم ربہ فصلیٰ‘‘بلا شبہ کامیا ب ہو گیاوہ شخص جس نے اپنے آپ کو باطن کی کدورتوں سے پاک کر لیا ، اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھی۔بعض مفسرین نے اس آیت کریمہ کامصداق صدقہ الفطر بتلایا ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن عمراپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کریمہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد صدقہ الفطر ہے۔ اسی طرح حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ، حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ، حضرت عمر ابن عبد العزیز رضی اللہ عنہ اور دوسرے بہت سے حضرات نے اس آیت کا مصداق صدقہ الفطر بتلایا ہے۔
آپ صلی اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ عید سے ایک دو دن قبل صدقہ الفطر اور عید الفطر کے احکام و مسائل بیان فر ماتے تھے ۔حضرت عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے روزوں کو فضول ،فحش اور لایعنی باتوں کے اثرات سے پاک و صاف کرنے کے لئے مسکینوں اور محتاجوں کے کھانے کے بندوبست کے لئے صدقہ واجب قرار دیا ۔ غور کیجئے اس حدیث میں صدقہ الفطر کی دو حکمتوں اور دو فائدوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ مسلمان کے خوشی و مسرت اور جشن و عید کے اس دن میں صدقہ الفطر کے ذریعہ محتاجوں اور مسکینوں کی شکم سیری اور آسودگی کا انتظام ہو جائیگا۔ دوسر ے یہ کہ زبان کی بے احتیاطیوں اور بے باکیوں سے روزے پر جو برے اثرات پڑے ہوں گے صدقہ الفطر ان کا کفارہ اور فدیہ ہو جائیگا۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ بندہ کا روزہ آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتا ہے جب تک کہ صدقہ الفطر ادا نہ کرے۔
صدقہ الفطر ہر صاحب نصاب پر اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی ادا کرنا واجب ہے۔حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں میں سے ہر غلام، آزاد ، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے تمام مسلمانوں پر صدقہ الفطر لازم ہے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی حکم دیا کہ نماز عید کے لئے جانے سے پہلے صدقہ الفطر ادا کر دیا جائے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور صدقہ الفطر ہر چھوٹے، بڑے، آزاداور غلام سب پر فرض قرار دیا تھا ، انہیں سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صدقہ الفطر نماز عید کے لئے جانے سے پہلے نکالنے کا حکم دیا تھا۔
مذکورہ بالا احادیث میں ہر فرد کی طرف سے ایک صا ع کھجور یا ایک صاع جو صدقہ الفطر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔چونکہ یہی دو چیزیں اس زمانے میں مدینہ منورہ اور اس کے گرد و نواح میں عام طور سے بطور غذا استعمال ہوتی تھیں۔ اس لئے حدیث میں انہیں دو کا ذکر کیا گیا۔بعض حضرات نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس زمانے میں ایک چھوٹے گھرانے کی غذا کے لئے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو کافی ہوتے تھے۔ اس لئے ہر دولت مند،صاحب نصاب کو ہر چھوٹے بڑے فرد کی طرف سے عید الفطر کے دن اتنا صدقہ ادا کرنا واجب ہے جس سے ایک معمولی گھرانے کے ایک دن کا خرچ چل سکے ایک صاع موجودہ دور کے وزن کے حساب سے 1کیلو 633 گرام ہوتا ہے ۔لہذا ہر صاحب نصاب کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے1کیلو 633 گرام جو، گیہوں، آنٹا  ادا کرے تاکہ غریب ، مسکین، مجبور، مفلس اور حاجت مند بھی اپنی حاجتیں ، ضرورتیں پوری کر سکیں اور عید کی خوشی میں عام مسلمان کے ساتھ وہ بھی برابر کے شریک ہو سکیں۔صدقہ الفطر جہاں روزے کی کمیوں اور کو تاہیوں کا کفارہ ہے وہیں اس کے ذریعہ محتاجوں اور ضرورت مندوں کے ساتھ ہمدردی ، غمخواری، بھائی چارگی اور مساوات کا درس بھی دیا گیا ہے کہ بندہ مومن اپنے بھائیوں کو بھوکا چھوڑ کر کبھی بھی تنہا خوشی و مسرت کا لطف نہیں اُٹھا سکتا ۔ یہ اسلام کی جامعیت بھی ہے اور آفاقیت بھی۔

1 Comment

  • image
    ابو خذیفہ 1 Year Ago

    جزاک اللہ خیرا

ایک نظر اس پر بھی

انقلابی سیرت سے ہم کیوں محروم ہیں؟ .................آز: مولانا سید احمد ومیض ندوی

سیرتِ رسول آج کے مسلمانوں کے پاس بھی پوری طرح محفوظ ہے، لیکن ان کی زندگیوں میں کسی طرح کے انقلابی اثرات نظر نہیں آتے، آخر وجہ کیا ہے؟ موجودہ دور کے ہم مسلمان صرف سیرت کے سننے اور جاننے پر اکتفاء کرتے ہیں، سیرتِ رسول سے ہمارا تعلق ظاہری اور بیرنی نوعیت کا ہے۔حالانکہ س سیرت کی ...

حضرت علی بن ابی طالب کرّم اللہ وجہہ : ایک سنی نقطۂ نظر ..... تحریر: ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الشریف جامع کمالات تھے۔وہ نوجوانوں اور مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے تھے ۔ حضرت انس بن مالکؓ کی روایت کے مطابق حضور پاکؐ کی بعثت پیر کے روز ہوئی اور حضرت علی صرف ایک دن بعد یعنی منگل کو ایمان لائے ۔اس وقت آپ کی عمر مشکل سے آٹھ یا دس سال ...

سدنہ بیت اللہ اور کلید کعبہ کا قصہ!

سدنہ بیت اللہ وہ قدیم پیشہ اور مقدس فریضہ ہے جس میں خانہ کعبہ کی دیکھ بحال، اسے کھولنے اور بند کرنے، اللہ کے گھر کو غسل دینے، اس کا غلاف تیار کرنے اور حسب ضرورت غلاف کعبہ کی مرمت کرنے جیسے امور انجام دیے جاتے ہیں۔سدانہ کعبہ کا شرف صدیوں سے الشیبی خاندان کے پاس چلا آرہا ہے۔

*ماہ صیام صبر و مواسات کا مہینہ* ازقلم! *ﻣﮩﺪﯼ ﺣﺴﻦ ﻋﯿﻨﯽ قاسمی*

ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﻌﺎﻣﺎﺕ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺍﻥ ﻋﻄﺎﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﻔﺮﺩ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ،  ﺣﻀﻮﺭ ﺍﮐﺮﻡ ﷺ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮐﺎ ﺷﺪﺕ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ...

امیر شریعت سادسؒ ، نقوش و تاثرات :عروس جمیل در لباس حریر ۔۔۔۔۔ آز: فضیل احمد ناصری القاسمی

امارت شرعیہ(بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ)ہندوستان کے ان سرکردہ اداروں میں سے ہے،جن پر اہل اسلام کو ہمیشہ فخر رہا۔یہ روز اول سے ہی ملت اسلامیہ ہندیہ کی قیادت بہتر انداز میں کرتی رہی ہے، یہ ادارہ’’ مفکر اسلام‘‘ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رحمۃاللہ علیہ کے خوابوں کی تعبیر ہے، ...

خواتین نسلوں کی معمار ہوتی ہیں۔سید امین القادری گلبرگہ میں ختم بخاری شریف، ۷،عالمات کی ردا ء پوشی،علماء کرام کے پر مغز بیانات

شہر گلبرگہ میں عالمی تحریک سنی دعوت اسلامی شاخ گلبرگہ کا سالانہ سنی اجتماع کا کل پہلادن تھا جو خواتین کے لئے مخصوص تھا۔پروگرام کاآغازدوپہر ۲، بجے رئیس القراء قاری ریاض احمد کے تلاوت کلا م پاک سے ہوا پھر انہوں نے بارگاہ رسالت مأب صلی اللہ علیہ وسلم میں ہدیہ نعت پاک پیش کی۔

اعلیٰ عدالتوں میں ایک دہائی یا اس سے زیادہ وقت سے زیر التوا ہیں چھ لاکھ کیس 

بمبئی ہائی کورٹ سمیت ملک کی مختلف اعلیٰ عدالتوں میں تقریبا چھ لاکھ کیس ایک دہائی یا اس سے زیادہ وقت سے زیر التوا ہیں۔ اس میں سے سب سے زیادہ تقریباً ایک لاکھ سے زائد کیس بمبئی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں۔

ہوناور کی صورت حال معمول پر :واٹس اپ، فیس بک وغیرہ پر کڑی نگاہ : ڈی سی نکول کی شہریوں اور لیڈران سے میٹنگ

ہوناور کے حالات معمول پر۔واٹس اپ، فیس بک اور ٹیوٹر پر کڑی نگاہ۔اسکرین شاٹ کے ذریعے گروپوں کی نشاندہی۔ سخت قانونی کارروائی کا انتباہ۔ دکانیں،اسکول، کالجس،پٹرول بنک تمام بازار معمول پر لوٹے گا اترکنڑا ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول کا بیان

ا ب مدھیہ پردیش میں وکاس:تعلیم کی حالت خستہ، درست طریقہ سے حر ف آشنابھی نہیں طلبہ

مدھیہ پردیش میں پانچویں سے آٹھویں گریڈ تک کے 80 فیصد سے زیادہ طالب علم درست طریقے سے عبارت خوانی پر بھی قادر نہیں ہیں ،70 فیصد سے زیادہ طالب علم 1 سے 9 تک گنتی بھی نہیں جانتے ۔ ریاست میں تعلیم کی بدحالی کا انکشاف حالیہ دنوں اسمبلی میں پیش کی گئی کیگ رپورٹ سے ہوا ہے۔