ہیگڈے کے خلاف پھر ایک بار دیش پانڈے نے کھولی زبان، کہا؛ جھوٹے بیانات کے سہارے عوام کو گمراہ کرنے کا کام بند کیا جانا چاہئے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 6th March 2019, 12:24 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

ڈانڈیلی 6؍مارچ (ایس او نیوز) ضلع انچارج اور ریوینیو وزیر آر وی دیشپانڈے پر عوام الزام لگارہے تھے کہ  وہ    کنیرا ایم پی اور مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈےکے خلاف کبھی اپنا منہ نہیں کھولتے، مگر اب  غالباً دوسری دیش پانڈے نے  ہیگڈے  پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں کسی بھی قسم کا ترقیاتی کام انجام نہ دینے والے مرکزی وزیر کو پارلیمانی انتخابات قریب آنے پر جھوٹے بیانات کے سہارے عوام کو گمراہ کرنے کاکام بند کرنا چاہیے۔

ڈانڈیلی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران دیشپانڈے نے کہا کہ ہم جیسے عوامی نمائندوں کو سچائی اور حقیقت بیانی سے ہی کام لینا چاہیے۔انتخابات کو نظر میں رکھ کر عوام کے سامنے جھوٹے بیانات دینا اور انہیں گمراہ کرنا کسی کے لئے مناسب نہیں ہے۔میں نے کیا کچھ کام انجام دئے ہیں وہ مجھے معلوم ہیں۔ میں یہ باتیں عوام کے سامنے بھی کہہ سکتا ہوں۔ بالکل اسی طرح مرکزی وزیر(اننت کمار) کو بھی ان کے ذریعے انجام دئے کام کے تعلق سے ہی بات چیت کرنی چاہیے، اس سے  ہٹ کر غلط بیانی سے کام لینا ٹھیک نہیں ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے مقامی لیڈروں نے کہا تھا کہ ڈانڈیلی کے آلناور میں پندرہ دنوں کے اندر ریل کی آمد و رفت شروع ہوجائے گی۔ جبکہ مرکزی وزیراس تعلق سے کچھ اورہی بات کہہ رہے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ خود مرکزی وزیر کو اصل حقیقت کا پتہ ہی نہیں ہے۔اس ریلوے اسٹیشن کے لئے میں نے اس وقت کوششیں کی تھیں جبکہ مرکز میں ملیکاارجن کھرگے ریلوے منسٹر تھے۔اس کے بعد دیگر وزرائے ریل منی اَپا اور سریش پربھو سے بھی بات چیت کرتے ہوئے یہاں ٹرین سروس شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔میں آج بھی اس کے لئے کوشش کررہاہوں۔متعلقہ افسران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں۔اس کے بارے میں میرے پاس دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ اب اگر مرکزی وزیر(اننت کمار) نے کبھی کوئی کوشش کی ہوتو اس تعلق سے عوام کو بتائیں۔

دیشپانڈے نے ڈانڈیلی میں نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر کے تعلق سے بتایا کہ یہ مرکزی حکومت کا ادارہ ہے۔ اسے اننت کما ر ہیگڈے اپنی کوششوں کا نتیجہ بتارہے ہیں۔ تھوڑی بہت سبسیڈی ہوسکتی ہے ، لیکن اس میں ایک حصہ ریاستی حکومت کا بھی ہوتا ہے اور اس کا قیام ریاستی حکومت نے ہی کیا ہے۔ اگر یہ مرکزی وزیر کے دائرۂ کار میں ہے تو پھر ایک بار بھی انہوں نے اس مرکز میں پہنچ کر اس کی ترقی کے سلسلے میں جائزہ کیوں نہیں لیا؟

ضلع انچارج وزیر نے کہا کہ جوئیڈا کے بجارکوننگ علاقے میں بجلی کنکشن فراہم کرنے کے راستے میں میری طرف سے رکاوٹ پیدا کرنے کی جو بات کہی گئی ہے وہ مضحکہ خیز ہے۔ وہاں 14گاؤں اور 50مجرے ہیں۔ ان میں سے 43مجرے میں بجلی کنکشن دیا جاچکا ہے اب صرف 7مجرے باقی ہیں۔ اس بات کی خبر وزیر اننت کمار ہیگڈے کو نہیں ہے۔اسی طرح جوئیڈا کے کُنبی طبقے کو پسماندہ قبیلے میں شامل کرنے کے لئے میں ریاستی سطح سے مرکزی سطح تک مسلسل کوشش میں لگا ہوا ہوں۔ہمپی یونیورسٹی سے ریسرچ کرکے اس کی رپورٹ ریاستی حکومت کو دینے کے ساتھ مرکزی حکومت کو تجویز بھی بھیج دی گئی ہے۔اس ضمن میں مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے نے کیا کیا کوششیں کی ہیں اور کتنی مرتبہ پارلیمنٹ میں اس مسئلے کو اٹھایا ہے، یہ باتیں بھی عوام کو بتائیں تو اچھا ہوگا۔جنگلاتی زمین کے حقوق اورجنگل واسیوں کے انخلاء سے متعلق بھی دیشپانڈے نے بتایا کہ اس معاملے میں وہ عوام کے ساتھ ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ریاستی حکومت نے بھی رِٹ داخل کی تھی۔ اب اس فیصلے پر اسٹے ملا ہے۔اس لئے عوا م کو خوف و دہشت کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ساگر مالا منصوبہ: انکولہ سے بیلے کیری تک ریلوے لائن بچھانے کے لئے خاموشی کے ساتھ کیاجارہا ہے سروے۔ سیکڑوں لوگوں کی زمینیں منصوبے کی زد میں آنے کا خدشہ 

انکولہ کونکن ریلوے اسٹیشن سے بیلے کیری بندرگاہ تک ’ساگر مالا‘ منصوبے کے تحت ریلوے رابطے کے لئے لائن بچھانے کا پلان بنایا گیا اور خاموشی کے ساتھ اس علاقے کا سروے کیا جارہا ہے۔

ماڈرن زندگی کا المیہ: انسانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان۔ ضلع شمالی کینرا میں درج ہوئے ڈھائی سال میں 641معاملات!

جدید تہذیب اور مادی ترقی نے جہاں انسانوں کو بہت ساری سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں پر زندگی جینا بھی اتنا ہی مشکل کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں عام لوگوں اور خاص کرکے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

منگلورو پولیس نے ایک اور مشکوک کار کو پکڑا؛ پنجاب نمبر پلیٹ والی کار کے تعلق سے پولس کو شکوک و شبہات

دو دن دن پہلے لٹیروں اور جعلسازوں کی ایک ٹولی کے قبضے سے منگلورو پولیس نے ایسی کار ضبط کی تھی جس پر نیشنل کرائم انویسٹی گیشن بیوریو، گورنمنٹ آف انڈیا لکھا ہوا تھا۔اب مزید ایک مشکوک کار کو پولیس نے اپنے قبضے میں لیا ہے۔ جس پر بھی گورنمینٹ آف انڈیا لکھا ہوا ہے۔

شیوپرکاش دیوراج بنے ضلع شمالی کینرا کے نئے ایس پی۔ ونائیک پاٹل کا کلبرگی تبادلہ۔ بھٹکل سب انسپکٹر کا بھی تبادلہ

ضلع شمالی کینرا کے نئے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے طور پر شیوپرکاش دیوراج کو تعینات کیا گیا ہے، جبکہ موجودہ ایس پی ونائیک پاٹل کا تبادلہ کلبرگی کے لئے کردیاگیا ہے۔

مرڈیشور ساحل پر ماہی گیروں اور انتظامیہ افسران کے درمیان پارکنگ جگہ کو لےکر تنازعہ: ماہی گیروں کا احتجاج  

مرڈیشور میں مچھلی شکار پیشہ کے لئے جگہ مختص کرنے اور ماہی گیر کشتیوں کو  محفوظ رکھنے کےلئے جگہ متعین کرنے کے متعلق   ماہی گیروں اور مقامی انتظامیہ کے درمیان پھر ایک بار تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔

بھٹکل محکمہ تحصیل کے عملے  نے   سیاہ پٹی باندھ کرانجام دیں خدمات : ’ بنگلورو چلو ‘احتجاج کی حمایت

کرناٹکا سروئیر،رونیو مینجمنٹ اور رجسٹرار ملازمین سنگھ (کرناٹکا راجیا بھوماپنا ، کندایا ووستھے متو بھو داخلیگل کاریانرواہک نوکررسنگھ  ) کی جانب سے مختلف مطالبات کو حل کرنےکی مانگ لے کر 4ستمبر کو منائی جارہی ’ بنگلورو چلو ‘ احتجاج کی حمایت میں بھٹکل کے مختلف محکمہ جات کے عملے ...

بنگلورو: نشے میں دھت شخص نے فٹ پاتھ پر 7 لوگوں کو کچل دیا

شراب کے نشے میں دھت ایک شخص نے بہت تیز رفتار کار فٹ پاتھ پر چڑھا دی اور فٹ پاتھ پر چل رہے 7 افراد اس کار کی زد میں آ گئے۔ زخمیوں کو فوراً اسپتال پہنچایا گیا اور خبر لکھے جانے تک ان لوگوں کی حلات نازک بنی ہوئی ہے۔ یہ واقعہ بینگلورو کے ایچ ایس آر لے آؤٹ علاقے کا ہے۔

سناتن سنستھا کی شائع کردہ کتاب نے ملزموں کو ایم ایم کلبرگی کے قتل پر اکسایاتھا۔ایس آئی ٹی نے کیا اپنی چارج شیٹ میں دعویٰ

تقریباً چار سال قبل مبینہ طور پر ہندوتوا وادی شدت پسندوں نے مصنف اور دانشور ایم ایم کلبرگی کاجو قتل کیا تھا اس کی تحقیقات کرنے والی خصوصی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے چارج شیٹ داخل کردی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جس ملزم نے صحافی و دانشور گوری لنکیش کے گھر تک قاتل کو اپنی موٹر بائک پر پہنچایا ...

امیت شاہ کی ہری جھنڈی۔ریاستی کابینی میں منگل کو توسیع

ریاستی وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے آج شام دہلی میں مرکزی وزیر برائے داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی۔ امیت شاہ نے آخر کار ریاستی کابینہ میں پہلے مرحلہ کی توسیع کے لئے گرین سگنل دے دیا ہے۔ پہلے مرحلہ میں 11تا13وزراء کو کابینہ میں شامل کیاجائے گا۔