چین کے قریب دوسری جنگ عظیم کے بعد روس کی سب سے بڑی فوجی مشقیں

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th September 2018, 1:27 PM | عالمی خبریں |

دبئی 13ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )سرد جنگ کے خاتمے کے بعد روس نے مشرقی سائبیریا میں اب تک کی سب سے بڑی جنگی مشقیں شروع کر دی ہیں جن میں تین لاکھ سے زیادہ فوجی، ہزاروں کی تعداد میں ٹینک، سینکڑوں جنگی طیارے اور بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔

یہ جنگی مشقیں جنہیں ’واسٹاک 2018‘ کا نام دیا گیا ان میں چین بھی تین ہزار سے زیادہ فوجی، بکتر بندی گاڑیاں اور جہاز بھیج رہا ہے جبکہ منگولیا کے بھی چند فوجی دستے ان مشقوں میں حصہ لیں گے۔

اتنے بڑے پیمانے پر روس نے آخری مرتبہ سرد جنگ کے دور میں سنہ انیس سو اکاسی میں جنگی مشقیں کی تھیں لیکن واسٹاک 2018 میں اس سے بھی زیادہ فوجی حصہ لے رہے ہیں۔

ایک ہفتے جاری رہنے والی یہ مشقیں ایک ایسے وقت کی جا رہی ہیں جب روس اور نیٹو اتحاد کے ملکوں میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔

جنگی مشقوں کے آغاز پر روس کے صدر ولادمیر پوتن نے اپنے چینی ہم منصب ژئی جن پنگ سے روس کے مشرقی شہر والڈیوسٹک میں ملاقات کی ہے جس میں انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ' ہمارے درمیان سیاست، سکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں قابلِ اعتماد تعلقات ہیں۔'

روس اور انتیس یورپی ملکوں کے درمیان دفاعی اتحاد نیٹو کے درمیان اس وقت سے تعلقات کشیدہ ہیں جب روس نے سنہ دو ہزار چودہ میں یوکرین کے علاقے کرائیمیا پر قبضہ کر لیا تھا۔
روسی ایوان صدر کرملن کے ایک ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس کی طرف جارحانہ اور غیر دوستانہ رویوں کے باعث یہ جنگی مشقیں بلا جواز نہیں ہیں۔

روسی وزارت دفاع کے مطابق چھتیس ہزار ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر انفینٹری ٹرک ان مشقوں میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ہزار جنگی طیارے بھی اپنے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی مشق کریں گے۔

روسی بحریہ کے دو بیڑے جن میں اسی کے قریب جنگی جہاز شامل ہیں ان مشقوں میں مختلف دفاعی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے اپنی تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔

چین کی وزرات دفاع کا کہنا ہے کہ وہ ملٹری تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ 'کئی قسم کے سکیورٹی خطرات' سے نمٹنے کے لیے دونوں اطراف کی صلاحیتوں کو بڑھایا جا سکے۔ انھوں نے ان 'خطرات' کی تفصیل بیان نہیں کی۔

روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئگو کا کہنا ہے کہ وسطی ایشیا میں اسلامی شدت پسندی روس کی سکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

چین نے مسلم اکثریتی صوبے شنجیانگ میں سخت سکیورٹی اور سینسرشپ لاگو کر رکھی ہے۔

شنجیانگ میں کئی برس سے وقتاً فوقتاً تشدد کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ چین کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے پیچھے اسلامی شدت اور علیحدگی پسند ملوث ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ چین اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی ایک وجہ امریکا کے عالمی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

نوازشریف کو کچھ ہوا تو عمران ذمہ دار ہوں گے :شہباز

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ حکومت نواز شریف کی صحت سے متعلق بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے اوراہل خانہ کو انکی صحت سے متعلق کچھ آگاہ نہیں کیا جا رہا، نواز شریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دار وزیراعظم ہوں گے،نیازی صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ ہم نئے صوبہ بنائیں گے، ...

وینزویلا:حکومت کے حامی اور مخالفین سڑکوں پر

وینزویلا کے دارالحکومت کارکاس میں حکومت کے حامی اور مخالفین سڑکوں پر نکل آئے۔ایک طرف صدر مادورو کی اپیل پر ہاتھوں میں وینزویلا کے پرچم لئے مظاہرین سڑکوں پر تھے تو دوسری طرف حزب اختلاف کے لیڈر ہوان گوآئیڈو کے حامی۔مادورو کے حامی شاویز کے انقلابِ بولیوار کی 20 ویں سالانہ یاد کے ...

2014 کے لوک سبھا انتخابات میں تمام ای وی ایم ہیک کئے گئے تھے: امریکن سائبر ایکسپرٹ کا دعویٰ؛ کیا ای وی ایم نے بی جے پی کو اقتدار دلایا ؟

 امریکہ میں مقیم ایک سائبر ماہر سید شجاع نے دعویٰ کیا ہے کہ   ہندستان میں    سال 2014میں ہوئےعام انتخابات میں استعمال کی گئی  الیکٹرونک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کو  ہیک کیا گیا تھا۔ 543 سیٹوں والے اس الیکشن میں بی جے پی کو282 سیٹوں پر شاندار کامیابی حاصل ہوئی تھی اور سن 1984 کے بعد پہلی ...

بنگلہ دیش انتخابات میں شیخ حسینہ کامیاب، اپوزیشن نے نتائج ماننے سے کیا انکار

خبر رساں اداروں کے مطابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکمران جماعت عوامی لیگ نے اتوار 30 دسمبر کو ہونے والے عام انتخابات میں اپوزیشن کے مقابلے میں بڑی برتری حاصل کر لی ہے اور حتمی نتائج میں عوامی لیگ کو کل 350 نشستوں میں سے 281 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

ایرانی حکومت ٹوئٹراستعمال کر رہی ہے مگر عوام کے لیے ممنوع ہے : امریکی سفیر

جرمنی میں امریکی سفیر رچرڈ گرینل کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت خود ٹویٹر کا استعمال کر رہی ہے مگر عوام کے لیے اس کا استعمال روکا ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی سے منسوب ٹویٹر اکاؤنٹ کھولے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی۔اگرچہ ایرانی میڈیا نے مذکورہ ...