معمولی جرائم میں قید مسلم قیدیوں کی رہائی کی کوششیں تیز،آر ٹی آئی کے ذریعہ جمعیۃ علماء نے مختلف جیلوں سے تفصیلات طلب کیں

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th June 2018, 11:54 AM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

ممبئی12جون(ایس او نیوزپریس ریلیز)ایک سروے کے مطابق ہندوستان کی مشہور جیلوں میں مسلمانوں کا تناسب ان کی آبادی کے تناسب سے بھی زیادہ ہے اور ا س جانب خصوصی توجہ دینے کی ضرروت ہے ، جیلوں میں مقید مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مبینہ معمولی جرائم انجام دینے کے الزامات کے تحت سزائیں مکمل ہوجانے کے باجود بھی قید ہیں کیونکہ ان کی رہائی کے دستاویزات تیار کرانے کے لیئے ان کے پاس وکلا کو فیس ادا کرنے کے پیسے نہیں ہیں ، اسی طرح قیدیوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جنہیں ضمانت پر رہائی مل گئی ہے لیکن ضمانت کی رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں انہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑ رہی ہے ۔ان کے علاہ ایسے بھی مسلم نوجوان جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہیں جنہوں نے سزائیں مکمل کرلی ہیں لیکن جرمانے کی رقم ادا نہ کرپانے کے بنا پر وہ ابھی تک مقید ہیں۔

ملک میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے اس جانب پہل شروع کردی ہے اور پہلے مرحلہ میں مہاراشٹر کی مختلف جیلوں سے بذریعہ حق معلومات قانون ایسے قیدیوں کی تفصیلات طلب کی گئیں ہیں جو معمولی جرائم کرنے کی پاداش میں جیل کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں ۔

اس سلسلہ میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے وکیل شاہد ندیم نے بتایا کہ سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزاراعظمی کی ہدایت پر آج آرتھر روڈ جیل، تلوجہ جیل، بائیکلہ جیل، تھانے جیل اور ناشک سینٹرل جیل کو آر ٹی آئی کے تحت عرضداشتیں روانہ کی گئیں ہیں ۔

ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے بتایا کہ آر ٹی آئی کے ذریعہ جیل حکام سے ایسے قیدیوں کی فہرست طلب کی گئیں ہیں جو معمولی جرائم کرنے کی پاداش میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہیں اور اگر ان کی ضمانت یا جرمانے کی رقم بھر دی جائے تو ان کی جیل سے رہائی ممکن ہے ۔

ایڈوکیٹ شاہد نے بتایا کہ فی الحال ان کا فوکس ایسے قیدیوں پر ہے جو عادی مجرم نہیں ہیں بلکہ کسی وجہ سے پہلا جرم کرنے کی صورت میں وہ جیل میں پہنچا دیئے گئے اور اب وہ کسمپرسی کی حالت میں جیل سے رہائی کی امید لگائے بیٹھے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں تلوجہ جیل سے انہیں ایسے دس قیدیوں کی فہرست دستیاب ہوئی تھی جو ضمانت کی رقم نہیں بھر پانے کی صورت میں جیل کی چہار دیواری میں مقید تھے ، قیدیوں کی تفصیلات موصول ہونے کے بعد جمعیۃ علماء نے ان کی ضمانت کی رقم بھرنے کا بندوبست کیا اور اس تعلق سے کاغذی کارروائی شروع کردی گئی، قیدیو ں میں دو غیر مسلم قیدی بھی ہیں جن کی ضمانت کی رقم بھرنے کا بیڑا جمعیۃ علماء نے اٹھایا ہے ۔

ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے بتایا کہ حالانکہ ان کی اولیت دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار ملزمین کی قانونی امداد ہی رہے گی لیکن وقتاً فوقتاً مخیر حضرات کے تعاون سے جمعیۃ علماء نے اس کار خیر کو بھی انجام دینے کا فیصلہ کیا ہے جسکی شروعات جمعیۃ علماء نئی ممبئی کے ذریعہ ایک صاحب خیر کے تعاون سے تلوجہ جیل سے کی جارہی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کا اُمیدوارکون ؟ راہول گاندھی، مایاوتی یا ممتا بنرجی ؟

آنے والے لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے کا اُمیدوار کون ہوگا اس سوال کا جواب ہرکوئی تلاش کررہا ہے، ایسے میں سابق وزیر خارجہ اور کانگریس کے سابق سنئیر لیڈر نٹور سنگھ نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ  اس وقت بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی ...

مدھیہ پردیش میں 5روپے، 13روپے کی ہوئی قرض معافی، کسانوں نے کہا،اتنی کی تو ہم بیڑی پی جاتے ہیں

مدھیہ پردیش میں جے کسان زراعت منصوبہ کے تحت کسانوں کے قرض معافی کے فارم بھرنے لگے ہیں لیکن کسانوں کو اس فہرست سے لیکن جوفہرست سرکاری دفاترمیں چپکائی جارہی ہے اس سے کسان کافی پریشان ہیں،

پُتور میں پیک آپ کار کی اومنی سے خطرناک ٹکر؛ ایک کی موت، دو شدید زخمی

ماروتی اومنی اور  پیک آپ کے درمیان ہوئی خطرناک ٹکر کے  نتیجے میں اومنی پر سوار ایک شخص کی موت واقع ہوگئی، جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا، حادثے میں پیک آپ کار ڈرائیور کو بھی چوٹیں آئی ہیں ۔ حادثہ منگل صبح مُکوے مسجد کے سامنے   پیش آیا۔

شیرور میں کار کی ٹکر سے بائک سوار کی موت

پڑوسی علاقہ شیرور نیشنل ہائی وے پر ایک کار کی ٹکر میں بائک سوار کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت محمد راشد ابن محمد مشتاق (21) کی حیثیت سے کی گئی ہے جو شیرور  بخاری کالونی کا رہنے والا تھا۔

ہائی کمان کہے تو وزارت چھوڑ نے کیلئے بھی تیار : ڈی کے شیو کمار

ریاست میں سیاسی گہما گہمی کا فی تیز ہونے لگی ہے ۔ ایک طرف جہاں کانگریس اور جنتادل( سکیولر) اپنی مخلوط حکومت کو بچانے میں لگے ہیں وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) نے آپریشن کنول کے ذریعہ دیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کو خریدکر برسر اقتدار آنے کے حربے جاری رکھے ہیں۔