بی جے پی لیڈر کی کار سے 1.60لاکھ روپے برآمد

Source: S.O. News Service | Published on 11th January 2017, 10:10 PM | ملکی خبریں |

علی گڑھ، 11جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ہردواگنج تھانے کی پولیس نے گاڑی کی چیکنگ کے دوران بی جے پی لیڈر کی گاڑی سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے برآمد کئے۔لیڈر نے اپنے روپے ہونے سے انکار کیا ہے۔پولیس نے نوٹ ضبط کرکے انکم ٹیکس محکمہ کو اطلاع بھیج دی ہے۔چیکنگ کے دوران علی گڑھ کی جانب سے جاتی ایک گاڑی کو پولیس نے تھانے کے سامنے روکا،کار روکتے ہی ایک شخص بیگ لے کر اترا،گاڑی پر بی جے پی کا ایک اسٹیکر لگا ہوا تھا اور کار بی جے پی لیڈر جے پی راجپوت چلا رہے تھے۔پولیس نے شک ہونے پر بیگ لے کر اترے شخص کو روکا، بیگ کی تلاشی لی،بیگ میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار نو سو چھتیس روپے نکلے۔پوچھ گچھ میں بیگ کے مالک راجیو اپادھیائے نے بتایا کہ وہ نگاچ پاڑا اترولی کے رہائشی ہیں اور ان کا پولٹری فارم ہے،وہ پی اے سی علی گڑھ میں واقع لکی کمپاڈ میں رہتے ہیں،گھر سے اترولی بینک میں جمع کرنے کے لئے یہ روپے لے کر نکلے تھے اور وہ پڑوسی دوست بی جے پی لیڈر کی گاڑی میں بیٹھ گئے تھے۔ایس او شمبھو تیواری نے کہا کہ انکم ٹیکس محکمہ کی ہدایت پر ہی آگے کی کارروائی کی جائے گی۔ادھر بی جے پی لیڈر کا کہنا ہے کہ روپیوں سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

ولکاتہ برمن اغواء معاملہ عمرقید کی سزاؤں کے خلاف کولکاتہ ہائی کورٹ میں اپیل داخل اپیل سماعت کے لئے منظور ہونے کے بعد ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں داخل کی جائیں گی: گلزار اعظمی

۲۳؍جولائی ۲۰۰۱ء کو مغربی بنگال کے شہر کولکاتہ کی مشہور جوتے کی کمپنی کے مالک روئے برمن کو اغواء کرنے والے معاملے میں نچلی عدالت سے ملزمین کو ملی عمر قید کی سزاؤں کے خلاف جمعیۃ علماء کے توسط سے کولکاتہ ہائی کورٹ میں نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیل داخل کردی گئیں

کولکاتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال پنچایت الیکشن کے لیے ازسر نو تاریخوں کا اعلان کرنے کا حکم دیا

مغربی بنگال پنچایت الیکشن میں کلکتہ ہائی کورٹ نے اپنے گذشتہ حکم کو منسوخ کرتے ہوئے اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ الیکشن کے لئے نامزدگی اور الیکشن کی تاریخ کا اعلان ریاست کے اتفاق رائے سے کرے۔

انڈین مجاہدین مقدمہ (گجرات) کیا واقعی بہت سارے گواہوں کی ضرورت ہے ؟ سپریم کورٹ کا استغاثہ سے سوال

انڈین مجاہدین (گجرات ) مقدمہ میں ماخوذ گذشتہ ۹؍ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقیددو مسلم نوجوانوں کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے گذشتہ دنوں سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ نے استغاثہ سے سوال کیا کہ آیاواقعی انہیں ہزاروں گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے ؟