امریکہ حامی ممالک کے خلاف ایران کاسخت اقدام امریکی پابندیوں کا ساتھ دینے والے ممالک کو ایران 10 سال تک تیل فروخت نہیں کرے گا:روحانی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 6th November 2018, 10:49 AM | عالمی خبریں |

تہران،6؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمان نے ان ملکوں کے لئے تادیبی کارروائی کا بل تیار کر لیا ہے جو ایران مخالف پابندیوں میں واشنگٹن کا ساتھ دیں گے۔اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے ذریعہ تیار کیا جانے والا یہ تادیبی بل ان سبھی ملکوں کے لئے ہو گا جو امریکی پابندیوں کی پیروی کرتے ہوئے ایران سے تیل یا دیگر ایرانی مصنوعات کی خریداری بند کر دیں گے۔اس بل کی منظوری کے بعد سے ان ملکوں کا کوئی بھی سامان ایران میں داخل نہیں ہو سکے گا جو ایران مخالف امریکی پابندیوں میں واشنگٹن کا ساتھ دیں گے۔

پارلیمنٹ کے تیارہ کردہ تادیبی بل کے تحت جو بھی ملک امریکی پابندیوں کا ساتھ دے گا اس کو 10 سال تک ایران کا تیل اور گیس فروخت نہیں کی جائے گی۔ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا دوسرا مرحلہ5 نومبر سے شروع ہو گیا ہے یہ پابندیاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد22-31کے منافی ہیں جس میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ ایٹمی معاہدے میں درج ایران کے مفادات کو کسی رکاوٹ کے بغیر پورا کیا جائے۔

واضح رہے کہ ایران کے خلاف تازہ امریکی پابندیوں کا اطلاق پیر5 نومبر سے ہو گیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے خلاف تازہ امریکی پابندیوں میں ایران کی تیل کی برآمدات اور مالیاتی شعبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے پیر کے روز وزارت اقتصاد و خزانہ کے حکام کے ساتھ تشکیل پانے والے اجلاس میں کہا ہے کہ امریکیوں کو یہ بات باور کرادینے کی ضرورت ہے کہ وہ ایرانی قوم سے زور و زبردستی اور پابندیوں کی دھمکی کے انداز میں ہرگز بات نہیں کرسکتے ۔

ایران کے صدر نے کہا کہ امریکیوں کو ہمیشہ کے لئے سبق سکھائے جانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس بات کو سمجھ سکیں کہ وہ ایرانی قوم کے مقابلے میں کبھی نہیں ٹھہر سکتے۔ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ جو کچھ امریکی کر رہے ہیں ،اس کا مقصد صرف عوام، کمپنیوں اور دیگر حکومتوں پر دباؤ ڈالنا ہے اور اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ صرف ایران ہی نہیں ہے جو امریکہ کی پالیسیوں سے ناخوش ہے بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں کی حکومتیں یہاں تک کہ یورپی ملکوں کی حکومتیں، کمپنیاں اور حکام بھی امریکی حکومت کی اس قسم کی پالیسیوں سے برہم ہیں۔صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ کی تاریخ میں وائٹ ہاؤز میں اس طرح کی لاقانونیت کا مشاہدہ نہیں کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں تھے تو4 بڑے ملکوں کے رہنماؤں نے واسطہ بن کر اس بات کی کوشش کی کہ ایران کے صدر سے امریکی صدر کی ملاقات کی کوئی راہ ہموار کی جائے۔ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایران کو بات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ مقابل فریق عہد و پیمان پر عمل کرے اور بین الاقوامی معاہدوں اور عالمی قوانین کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی حالیہ خلاف ورزیوں کے نتیجے میں واشنگٹن ہی الگ تھلک پڑا ہے اور امریکہ نے اگر اپنا رویہ تبدیل نہیں کیا اور اپنے وعدوں نیز عہد و پیمان پر عمل نہیں کیا تو پورا یورپ اس کے مقابلے میں کھڑا ہو جائے گا۔صدر ایران نے کہا کہ ایٹمی معاہدے میں تمام ممالک ایران کے حامی رہے ہیں اور اس وقت بھی دنیا کے تمام ممالک امریکہ کے مقابلے میں اور ایران کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران امریکی پابندیوں کو خاطر میں لئے بغیر اپنے تیل کی فروخت اور برآمدات جاری رکھے گا۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف لگائی جانے والی پابندیوں کی فخریہ خلاف ورزی کرے گا۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھاکہ میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ ہم غیر قانونی اور غیر منصفانہ پابندیوں کی فخریہ خلاف ورزی کریں گے کیونکہ یہ بین الاقوامی قواعد کے خلاف ہیں۔

پابندیوں کے صدارتی حکم نامے پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے5اگست کو دستخط کئے تھے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران پر اقتصادی دباؤ انجام کار اْس کی دھمکیوں کے خاتمے اور میزائل سازی کے علاوہ خطے میں تخریبی سرگرمیوں کے خاتمے کے لئے ایک جامع حل کی راہ ہموار کرے گا۔ ٹرمپ کے مطابق جو ملک ایران کے ساتھ اقتصادی رابطوں کو ختم نہیں کرے گا، اْسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔جمعہ2نومبر کو اعلان کیا گیا تھا کہ وہ8ممالک کو عارضی طور پر ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کی اجازت دے گا۔ ان ممالک میں چین، ہندوسان، جنوبی کوریا، جاپان اور ترکی بھی شامل ہیں۔ یہ ممالک ایرانی تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

امریکہ میں بھارتی طلباء کی تعداد میں مسلسل پانچویں سال اضافہ

 بین الاقوامی تعلیمی ایکسچینج سے متعلق آج جاری اوپن ڈورس رپورٹ  2018  کے مطابق، گزشتہ سال میں امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبا کی تعداد 5.4 فیصد بڑھکر 196،271 ہو گئی۔ یہ مسلسل پانچواں سال ہے کہ امریکہ میں اعلی تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبا کی تعداد میں اضافہ ...

سویفٹ کا ایرانی بنکوں کو الگ کرنے کا اعلان

عالمی سطح پر رقوم کی ترسیلات کے سب سے بڑے نیٹ ورک "سویفٹ سسٹم" نے امریکا کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیوں کے اعلان کے بعد ایرانی بنکوں کو مرحلہ وار سسٹم سے الگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پہلی عالمی جنگ کی صدی تقریب میں ٹرمپ کی شرکت 

امریکی صدر ڈونالڈ جمعے کی علی الصبح دورۂ یورپ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ اور درجنوں دیگر عالمی سربراہان ’آرمزٹائس‘ معاہدے کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کریں گے، جس کے نتیجے میں پہلی عالمی جنگ کا خاتمہ ہوا۔