سکیورٹی فورسز نے تشدد کا نشانہ بنایا، روہنگیا مسلم خواتین نے صحافیوں کو سنائیں ظلم وستم کی داستانیں

Source: S.O. News Service | By Sheikh Zabih | Published on 16th July 2017, 8:19 PM | عالمی خبریں |

ینگون16جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) روہنگیامسلم خواتین نے بین الاقوامی میڈیاسے گفتگومیں اپنے اوپر ہونے والے مبینہ ظلم وستم کی داستانیں سنائی ہیں۔ راکھین صوبے میں شروع ہونے والے تشدد کے بعدپہلی مرتبہ غیر ملکی صحافیوں نے وہاں ان خواتین سے ملاقاتیں کیں۔عالمی خبررساں اداروں کے مطابق بین الاقوامی صحافیوں کی ایک ٹیم نے میانمارکے صوبے راکھین کادورہ کیا، جہاں روہنگیامسلمان کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی مسلم خواتین نے اپنے اوپر بیتنے والی ظلم کی مبینہ کہانیاں سنائیں۔ بتایاگیاہے کہ ان غیر ملکی صحافیوں کوسکیورٹی حصار میں متاثرہ علاقوں میں لے جایا گیا۔

مسلم روہنگیا خواتین نے ان صحافیوں کو بتایا کہ ان کے کئی رشتہ دار لاپتہ ہو چکے ہیں۔ اس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کا الزام ہے کہ میانمار کی سکیورٹی فورسز ان کی املاک کوتباہ کرنے، مردوں کو ہلاک کرنے اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی مرتکب بھی ہوئی ہیں۔ساربیدہ نامی ایک نوجوان ماں نے کہا کہ میرابیٹادہشت گرد نہیں ہے، پھر بھی اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایک شیرخوار کو اپنی گود میں لیے اس خاتون کامزیدکہناتھاکہ جب اس کے چودہ سالہ بیٹے کو گرفتار کیا گیا تو وہ ایک فارم پر کام کر رہا تھا۔ دیگر کئی خواتین نے بھی کہا کہ ان کے شوہروں کو جھوٹے الزامات کے تحت حراست میں لیا جا چکا ہے۔ تاہم میانمار حکومت ان الزامات کومستردکرتی ہے۔

میانمار کی سکیورٹی فورسز نے گزشتہ برس نومبر میں راکھین کے علاقے ماؤنگ ڈو میں بھی مشتبہ شرپسندعناصرکے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔ اسی علاقے میں روہنگیا کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد آباد تھی۔ اقوام متحدہ کے مطابق تب سے اب تک کم ازکم75ہزارروہنگیامسلمان اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر ہمسایہ ملک بنگلہ دیش فرار ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے بنگلہ دیش میں موجود ان روہنگیا مہاجرین سے انٹرویوز کے بعد کہا ہے کہ اس کمیونٹی کی خواتین کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی، تشدد اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات مبینہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ تاہم نوبل امن انعام یافتہ میانمار کی جمہوری رہنما آنگ سان سوچی زیادہ تر الزامات کو مسترد کرتی ہیں۔روہنگیا خواتین، بچوں اور مردوں کا کوئی ملک نہیں ہے یعنی ان کے پاس کسی بھی ملک کی شہریت نہیں۔ رہتے یہ میانمار میں ہیں لیکن انہیں صرف غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر مانا جاتا ہے۔

اس تناظرمیں سوچی اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی میانمار کے متاثرہ علاقوں میں آمد کے بھی خلاف ہیں۔ میانمار کی حکومت نے گزشتہ نو ماہ تک آزاد مبصرین اور بین الاقوامی صحافیوں کو بھی متاثرہ علاقوں میں رپورٹنگ کی غرض سے جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔تاہم اسی ہفتے میانمار کی وزارت اطلاعات نے ایک درجن سے زائد غیر ملکی صحافیوں کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کی اجازت دی۔ دو روزہ قیام کے دوران ان صحافیوں کو راکھین کے علاقے ماؤنگ ڈو لے جایا گیا، جہاں انہوں نے متاثرہ افراد سے گفتگو کی۔ روئٹرز نے بتایا ہے کہ جیسے ہی سکیورٹی فورسز سے الگ ہو کر روہنگیا کمیونٹی کے افراد سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے فوری طور پر کہا کہ سکیورٹی فورسز انہیں تشدد کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی