ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، حکومت اپوزیشن کے نشانے پر ’’اضافی ٹیکس‘‘ کی وجہ سے صارفین کو مہنگائی جھیلنی پڑ رہی ہے۔پٹرول ،ڈیزل کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لایا جائے:چدمبرم

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th September 2018, 11:23 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی5ستمبر(ایس او نیوز؍یو این آئی) پٹرول۔ ڈیزل اور گیس کی بے تحاشہ بڑھتی قیمتوں کے سلسلے میں مودی حکومت پر اپوزیشن کے حملے سے اقتدار میں شامل اتحادی پارٹیاں بھی اگلے عام انتخابات پر اس کے ممکنہ اثرات کا اندازہ لگاتے ہوئے ان کے داموں کوکم کرنے کا حکومت پر دباؤ بنانے لگی ہیں۔عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ڈالر کے مقابلے روپئے کی قدر میں ریکارڈ گراوٹ سے برآمدکی جانے والی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے پٹرول۔ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے تو بغیر سبسڈی والے گیس سلنڈروں کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں ۔

سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر رہنما پی چدمبرم نے مودی حکومت کو پٹرول۔ڈیزل اور گیس کی قیمتوں پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اضافی ٹیکس کی وجہ سے صارفین کو مہنگائی جھیلنی پڑ رہی ہے ۔سابق وزیر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو فوراً جی ایس ٹی قانون کے دائرے میں لایا جانا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس میں کٹوتی کرکے دونوں کی قیمتوں میں کمی کی جا سکتی ہے اور صارفین کو راحت پہنچائی جا سکتی ہے ۔مرکزی حکومت اس کی ذمہ داری ریاستی حکومت کے سر نہیں ڈال سکتی۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ 19ریاستوں میں اس کی حکومت ہے ۔ مرکز اور ریاست مل کر پٹرول اور ڈیزل کو جی ایس ٹی قانون کے دائرے میں لا سکتے ہیں ۔کانگریس پٹرول اور ڈیزل کو جی ایس ٹی قانون کے تحت لانے کا مطالبہ کرتی ہے ۔ عام آدی پارٹی کے کو آرڈی نیٹراور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی پہلے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے اور روپیہ کی قدر میں گراوٹ پر منموہن حکومت پر سخت حملہ کرتے تھے لیکن اب ویسی ہی صورتحال ان کی حکومت میں ہے تو انہوں نے چپ سادھ رکھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے لئے پہلے کانگریس اور اب بی جے پی کی حکومت ذمہ دار ہیں ۔

دریں اثناء چار سال تک مودی حکومت میں اتحادی رہے تیلگو دیشم پارٹی کے سربراہ اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ہی ٖڈالر کے مقابلے روپئے میں ریکارڈ گراوٹ کولے کر مودی حکومت پر حملہ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب ملک میں پٹرول کی قیمتیں100روپئے فی لیٹر ہو جائیں گی اور ایک ٖڈالر کی قیمت بھی100 روپئے تک پہنچ جائے گی۔ واجپائی حکومت میں وزیر خزانہ رہے یشونت سنہا نے اپوزیش پارٹیوں سے قیمتوں کے اضافہ کے خلاف سڑکوں پر اترنے کی اپیل کی ہے انہوں نے منگل کو اپنے ٹوئٹ میں لکھاکہ پٹرول ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے اور قیمتیں روزانہ نیا ریکارٖڈ قائم کر رہی ہیں ۔اپوزیشن پارٹیاں سڑکوں پر کیوں نہیں اترتیں ؟ انہیں اب کس بات کا انتظار ہے ؟۔این ٖڈی اے کی اتحادی جنتا دل (یو) کے جنرل سکریٹری کے سی تیاگی نے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں پر فوراً روک لگانے کے لئے حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس میں تخفیف کی جانی چاہئے اور ایسا نظام بنایا جائے جس سے مستقبل میں بھی قیمتوں میں اضافہ سے روکا جا سکے ۔

کے سی تیاگی نے کہا کہ پٹرول۔ڈیزل کے فروخت سے حکومت کو لاکھوں کروڑوں کا ریونیو حاصل ہوتا ہے اسے ایسا نظام بنانا چاہئے جس سے صارفین کو فورا راحت ملے اور مستقبل میں بھی قیمتیں نہ بڑھیں۔ مرکز میں حکومت کی اتحادی لوک جن شکتی پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کے صدر چراغ پاسوان نے بھی پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ باعث تشویش ہے ۔انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم اور پٹرولیم وزیر اس کا کوئی حل نکالیں گے جس سے عام آدمی کو راحت ملے گی۔قابل ذکر ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں لگاتار دسویں دن بھی اضافہ ہوا ہے اور راجدھانی دہلی میں فی لیٹرپٹرول کی قیمت80روپئے کے قریب ہے ۔چار میٹرو شہروں میں پٹرول ڈیزل کی قیمتیں اس طرح سے ہیں ۔ممبئی میں پٹرول79.31 روپئے فی لیٹر اور ڈیزل71.34 روپئے فی لیٹر ہے ۔ممبئی میں پٹرول86.72 روپئے فی لیٹر اور ڈیزل 75.74روپئے فی لیٹر ہے ۔چنئی میں پٹرول82.41 روپئے فی لیٹر اور ڈیزل 75.39روپئے فی لیٹر ہے ۔کولکتہ میں82.22 روپئے فی لیٹر اور ڈیزل 74.19روپئے فی لیٹر ہے ۔ قومی جمہوری محاذ(این ڈی اے ) کی اتحادی جنتا دل (یونائٹیڈ) نے وزیر اعظم نریندر مودی سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کو روکنے کے لئے فوری مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

پارٹی کے جنرل سکریٹری کے سی تیاگی نے منگل کے روز’’یو این آئی‘‘سے بات چیت میں پٹرول ۔ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عام لوگوں اور غریب طبقہ براہ راست متاثر ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال عام انتخابات ہونے والے ہیں اور انتخابی سال کو دیکھتے ہوئے حکومت کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو کم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ یہ انتخابی مسئلہ نہ بن پائے ۔مسٹر تیاگی نے کہا کہ وزیر اعظم کو ایندھنوں کی قیمتوں میں ہونے والے بے تحا شہ اضافہ کو روکنے کے لئے مداخلت کرنی چاہئیں تاکہ قیمتیں کنٹرول کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی فروخت سے حکومت کو لاکھوں کروڑ روپے کا ریونیو حاصل ہوتا ہے ۔ حکومت کو اس طرح کا نظام بنانا چاہئے جس سے بڑھتی ہوئی قیمتوں پر صارفین کو فوری طور پر راحت ملے اور مستقبل میں بھی دام بڑھنے نہ پائے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو محصولات میں تخفیف کرکے عوام کو فوری طور پر ریلیف دینی چاہئے ۔ ملک میں منگل کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مسلسل دسویں دن بڑھتے ہوئے نئی اونچائی تک پہنچ گئی ہیں۔ دہلی میں پٹرول کی قیمت80روپے کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ اقتصادی دار الحکومت ممبئی میں یہ86روپے فی لیٹر سے اوپر پہنچ گئی ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی

سابق ایم پی پرفل کمار مہیشوری کی موت

راجیہ سبھا کے سابق رکن، یونائٹیڈ نیوز آف انڈیا)(یو این آئی) کے چیرمین (ایمریٹس)اور نوبھارت اخبار گروپ کے چیف ایڈیٹر پر فل کمار مہیشوری کا یہاں انتقال ہوگیا۔