سعودی عرب: خواتین کارکنوں کی گرفتاریوں کی مذمت

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 21st May 2018, 12:56 PM | خلیجی خبریں |

لندن ،20؍مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے سعودی حکومت کے ان اقدامات کی مذمت کی ہے، جن کے تحت اس ملک میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم سات سرکردہ خواتین کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم جن سات سرکردہ خواتین کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا ہے، وہ سعودی عرب میں خواتین کے ڈرائیونگ کرنے کے حق میں بھی اپنی آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے سعودی حکام سے ان خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔جن خواتین کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں ایمان النفجان اور لجین الحذول بھی شامل ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی مڈل ایسٹ ڈائریکٹر سارا وائٹسن کا کہنا تھا، ’’یوں لگتا ہے کہ ان کارکنوں کا واحد ’جرم‘ محمد بن سلمان کی طرف سے اجازت دینے سے پہلے خواتین کے لیے یہی مطالبہ کرنا تھا۔ سعودی عرب میں چوبیس جون سے خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت مل جائے گی۔ تاہم تجزیہ کاروں اور کارکنوں کے مطابق حکومت اس حوالے سے اجتماعی سرگرمیوں کو روکنا چاہتی ہے کیوں کہ اس ملک میں مذہبی قدامت پسند جدیدیت کی شدید مخالفت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ شب حکام کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سات افراد کو غیرملکی اداروں کے ساتھ مشکوک رابطوں اور بیرون ملک دشمنوں کی مالی حمایت کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں ملزمان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی لیکن حکومت کے حمایتی آن لائن اخبار سبق کے مطابق گرفتار ہونے والی ساتوں خواتین کارکن ہیں۔ایمان النفجان اور لجین الحذول نے سن 2016 میں اس مہم کا آغاز بھی کیا تھا کہ خواتین کے لیے ’مردانہ سرپرستی‘ کے نظام کا خاتمہ کیا جائے۔ اس نظام کے تحت سعودی خواتین کو تمام اہم فیصلوں میں کسی محرم مرد رشتہ دار کی رضامندی درکار ہوتی ہے۔ لجین الحذول کو ماضی میں بھی دو مرتبہ گرفتار کیا جا چکا ہے۔نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم چند خواتین کو ماضی میں بھی حکام نے مزید احتجاج کرنے سے منع کیا تھا اور جنہوں نے ان کی بات نہیں مانی ان میں سے کئی کو اب گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مسجد الحرام میں غیر ملکی شخص کی خودکشی

سعودی عرب کے شہر مکہ میں اسلام کے مقدس ترین مقام مسجد الحرام میں ایک شخص نے خود کشی کر لی ہے۔سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے نے مکہ پولیس کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ غیر ملکی شہری نے جمعہ کی رات نو بج کر 20 منٹ پر مسجد الحرام کی چھت سے نیچے طواف کرنے کی جگہ پر ...

مسجد نبوی میں سکیورٹی اہلکاروں کی خدمات پر ایک نظر

مسجد نبوی میں آنے والے زائرین کی نظروں میں سعودی سکیورٹی اہل کار نمایاں ترین حیثیت کے حامل نظر آتے ہیں۔ یہ اہل کار مسجد کے تمام حصوں اور راستوں میں خدمات انجام دیتے ہوئے عبادت کے لئے پْرسکون ماحول یقینی بنانے میں مصروف عمل ہوتے ہیں۔

مکہ المکرمہ :ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں سکیورٹی انتظامات 70؍لاکھ فرزندان توحید نے عمرہ اداکیا

سعودی حکومت نے رمضان المبارک کے تیسرے عشرہ کے آغاز پر مکہ المکرمہ کے داخلی اور خارجی راستوں پر سخت حفاظتی اقدامات کیے ہیں، مسجد الحرام اور اطراف کے علاقوں میں فضائی سکیورٹی اور نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔