راجیو گاندھی یونیورسٹی کی جانب سے580 کروڑ ٹرانسفر کرنے کا معاملہ ہیلتھ سٹی کی تعمیرکیلئے ریاستی حکومت رقم جاری کرے:سنڈ یکیٹ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 9th October 2017, 11:45 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،8/اکتوبر(ایس او نیوز)راجیوگاندھی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز ( آر جی یو ایچ ایس) نے فیصلہ کیا ہے کہ رام نگرم میں کیمپس اور ہیلتھ سٹی کی تعمیر کے سلسلہ میں جاری فنڈ 580 کروڑ روپئے واپس نہیں کیا جائے گا، اس پر ریاستی حکومت نے خاموشی کے ساتھ انتظار کرو اور دیکھو پالیسی کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے، ریاستی وزیر برائے تعلیم ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ انہیں اس کی اطلاع نہیں ہے کہ آر جی یو ایچ ایس میں کوئی میٹنگ ہوئی ہے، یا پھر کوئی قرار داد منظور کیا ہے، واضح ہوکہ یونیورسٹی سنڈیکیٹ کی میٹنگ میں متفقہ طور پر فیصلہ ہوا ہے کہ یونیورسٹی کی اڈمنسٹریٹیو بلاک کی تعمیر کے لئے صرف 40 کروڑ روپئے خرچ ہوئے ہیں، یونیورسٹی سنڈیکیٹ نے اس سے صاف طور پر انکار کیا ہے کہ 580 کروڑ روپئے کے بارے میں حکومت نے جو مطالبہ کیا ہے وہ درست نہیں ہے، ریاستی وزیر برائے میڈیکل تعلیم نے اس سلسلہ میں واضح طور پر کہا کہ یونیورسٹی سنڈیکیٹ اورسینٹ کو اپناکام کرنے دیا جائے، جب ان کی جانب سے کوئی قرار داد پیش کی جاتی ہے تو پہلے اس پر غور کیا جائے گا، یونیورسٹی کی جانب سے بات چیت یا کوئی تجویز کے بعد ہی حکومت کوئی حتمی فیصلہ لے گی، مسٹر پاٹل نے بتایا کہ آر جی یو ایچ ایس کی جانب سے محکمہ تعمیرات عامہ کو200 کروڑ روپئے ٹرانسفر کرنا تھا، تاکہ اس فنڈ کو متعلقہ منصوبہ کے تحت خرچ کی جاسکے، ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق ریاستی حکومت نے اس سلسلہ میں دباؤ بنائے رکھا ہے، اس کے لئے کرناٹک کے گورنر واجو بھائی والا سے بھی بات چیت کی گئی ہے، ریاستی گورنر نے اس سلسلہ میں حکومت کو ہدایت دی ہے کہ آئندہ نوٹس جاری ہونے تک اس معاملہ کوبنائے رکھے، اس درمیان یہ معاملہ ہائی کورٹ کو چلا گیا، جس سے کورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ اڈمنسٹریٹیو بلاک کی تعمیر کے لئے40 کروڑ روپئے منظور کیا جائے، حکومت یونیورسٹی فنڈ کو ہیلتھ سٹی کی تعمیر کے لئے استعمال نہیں کرسکتی، یونیورسٹی سنڈیکیٹ میٹنگ میں موجود سینٹ کے رکن سی ایچ اشوتھ نارائن نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ یونیورسٹی کے نام پر جو فنڈ جاری کیا جاتا ہے، اسے اسی مدپر خرچ کیا جانا چاہئے، حکومت کا مطالبہ ہے کہ ہیلتھ سٹی کے لئے یونیورسٹی فنڈ کا استعمال کیا جائے، یہ غلط اور غیر قانونی ہے، اس لئے حکومت کا یہ مطالبہ درست نہیں ہے، انہوں نے بتایا کہ ہیلتھ سٹی اسکیم دراصل حکومت کا منصوبہ ہے، جبکہ آر جی یو ایچ ایس اکیڈمی باڈی ہے، اس لئے حکومت کو چاہئے کہ اس کے لئے الگ سے فنڈ حاصل کرے، یونیورسٹی میں طلبہ وطالبات سے فیس کی رقم وصول کی جاتی ہے، اس لئے اس کا استعمال ان کی تعلیم کے لئے ہی ہونا چاہئے، مسٹر نارائن نے اس سلسلہ میں مزید بتایا کہ حکومت کو چاہئے کہ اس معاملہ کو طول نہ دیا جائے، بلکہ ہائی کورٹ نے بھی اس کی وضاحت کردی ہے، اس لئے اسے یہیں پر ختم کردیا جائے، یونیورسٹی سنڈیکیٹ میٹنگ میں یہ قرار داد منظور کی گئی ہے کہ اس سلسلہ میں یونیورسٹی کی جانب سے ایک وفد ریاستی وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرے گا، جو معاملہ کی پوری تفصیلات سے انہیں آگاہ کرائیں، وزیر اعلیٰ سدارامیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ یونیورسٹی اڈمنسٹریٹیو بلاک اورہیلتھ سیٹی کی تعمیر2 الگ الگ منصوبے ہیں، چونکہ یونیورسٹی کے لئے اڈمنسٹریٹیو بلاک کی تعمیر آر جی یو ایچ ایس کے لئے ضروری ہے اس لئے اس میں جو بھی اخراجات ہوں گے، یونیورسٹی ادا کرے گی،جب کہ ہیلتھ سٹی کی تعمیر کا منصوبہ حکومت کا ہے، اس لئے اس کی تعمیر کے لئے حکومت کی جانب سے فنڈ فراہم کیا جائے ،سنڈیکیٹ نے اس پھر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اس طرح سے پوری تفصیلات سامنے آجاتی ہے تو سدارامیا خود اس مسئلہ کو حل کریں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

گوا کے وزیر اعلیٰ پاریکر اور وزیر آبپاشی کرناٹک سے معافی مانگیں ونودپالیکر نے جھوٹا الزام عائد کیاہے، پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچایا ہے:ایم بی پاٹل

ریاستی وزیر آبپاشی ایم بی پاٹل نے  کلسابنڈوری نالے کا معائنہ کیاگواکے وزیر آبپاشی ونودپالیکر بروزہفتہ ضلع کنکتی کے دورہ کرتے ہوئے کلسانالے کی تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیاتھا۔

انتخابات کے پیش نظر پارٹی لیڈروں کے باہمی تبادلہ خیالات کاسلسلہ سی ایم ابراہیم کی جے ڈی ایس سربراہ دیوے گوڈا سے ملاقات

ریاستی اسمبلی انتخابات جیسے جیسے قریب آنے لگے ہیں ، سیاسی قائدین سے ملاقاتیں اور ان سے تبادلہ خیالات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جوکافی اہم اور دلچسپ ہوا کرتا ہے ۔