بھٹکل میں طبی سہولیات کا ایک جائزہ؛ تنظیم میڈیا ورکشاپ میں طلبا کی طرف سے پیش کردہ ایک رپورٹ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 22nd October 2018, 1:52 PM | ساحلی خبریں | آپ کی آواز | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل 22 اکتوبر (ایس او نیوز) مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی جانب سے منعقدہ پانچ روزہ میڈیا ورکشاپ میں جو طلبا شریک ہوئے تھے، اُس میں تین تین اور چار چار طلبا پر مشتمل الگ الگ ٹیموں کو شہر بھٹکل کے مختلف مسائل کا جائزہ لینے اور اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، اس میں سے ایک  ٹیم نے جس میں  حبیب اللہ محتشم ، یحيٰ شابندری اور احمد نواز پر مشتمل تھی،  بھٹکل کے طبی سہولیات پر ایک رپورٹ پیش کی تھی۔  تینوں طلبا نے   بھٹکل کے اسپتالوں کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا ورکشاپ میں  جو رپورٹ پیش کی تھی، اُس پر انہیں ورکشاپ کے اختتامی اجلاس میں تیسرے انعام کا مستحق  قرار پایا  تھا،  متعلقہ رپورٹ کو قارئین کی دلچسپی کے لئے یہاں  پیش کیا جارہاہے۔(اس رپورٹ میں دی گئی جانکاری کی ادارہ ساحل آن لائن نے کوئی تصدیق نہیں کی ہے، لہٰذا  اس سے ادارہ  کا  متفق ہونا ضروری نہیں ہے، یہ   تین طلبا  کی  تیار کردہ رپورٹ ہے۔)
 
بحر عرب کے کنارے پر بسا ہوا خوبصورت سا شہر بھٹکل جس کی جملہ آبادی تقریباً ایک لاکھ چھیاسی ہزار ہے ۔ اس شہر کی شرح خواندگی 90 فیصد ہے ۔ اس شہر میں اعلیٰ تعلیم  یا فتہ لوگوں میں ڈاکٹر ، انجینیر اور دیگر تعلیمی قابلیت سے آراستہ لوگوں کی کافی تعداد موجود ہے۔ ہماری ٹیم نے14 اکتوبر 2018 کو پورے بھٹکل میں طبی سہولیات کا جائزہ لینے کے لئے گورنمنٹ و نجی ہسپتالوں کا دورہ کیا۔ اور وہاں کے ذمہ داروں سے  گفتگو کی اور تفصیل سے طبی سہولیات حکومتی اور نجی ہسپتال کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ جائزہ سے ہمیں محسوس ہوا کہ شہر بھٹکل میں اتنی بڑی آبادی میں یہاں پر طبی سہولیات اور ڈاکڑ نہ کے برابر ہیں۔ جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ایک ہزار کی آبادی پر ایک ڈاکڑ کا ہو نا لازمی ہے۔ ہمیں یہ جان  کر بہت حیرت ہوئی کہ پورے شہر میں صرف تین فیزیشین موجود ہیں۔ بچوں کے اور نسائی ماہر ڈاکڑ پانچ اور ایک ارتھو پیڈک اور دو انکھوں کے امراض کے ڈاکٹر ، اور ایک ای این ٹی دستیاب ہے۔

یہاں پر دل کے امراض کے مریضوں کے لئے فوری طور پر کوئی بھی کارڈیالوجسٹ موجود نہیں ہے۔ تقریباً ایک لاکھ چھیاسی ہزار کی آبادی کے لئے بھٹکل میں ایک ایکسرے ،اور ایک اسکاننگ اور تین ڈائی لائسیس کی مشین موجود ہیں ۔ جبکہ ڈائی لائسیس کے مریضوں کی تعداد بھٹکل میں زیادہ ہونے کے باعث اتنی مشینیں ناکافی ہیں۔ ہم نے ڈائی لائسیس یونٹ کے انچارج سے گفتگو کی تو ہمیں پتہ چلا کہ ان مشینوں پر پورے  دن  مشکل سے 9 مریضوں کو ہی موقع ملتا ہے۔ ایک مریض کے لئے تقریباً 4 گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ ہم نے ان سے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ یہاں  مزید دو مشینوں کی سخت ضرورت ہے۔ ہمیں اس بات کا بھی پتہ چلا کہ یہاں Hepatitis B کے مریضوں کو الگ سے ڈائی لائسیس کی مشین درکار ہے۔ اس لئے کہ Hepatitis B ایک متعدی مرض ہے ۔

سروے سے پتہ چلا کہ اس شہر میں حادثات اور بچوں کی پیدائش کے وقت خون کی ضرورت پڑنے پر خون بینک کی سہولت دستیاب  نہیں ہے۔ جس کے لئے تقریباً 50 کیلو میٹر دور کنداپور جاکر  خون لانا پڑتا ہے۔جبکہ بھٹکل میں مریضوں کی تعداد زیادہ اور   طبی ماہرین نہ ہونے کے برابر ہونے کی وجہ سے  بھٹکل سے روزانہ تقریباً 100 مریض مینگلور کا سفر کرتے ہیں۔

ہم نے طبی ماہرین اور مقامی لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہاں پرپائی جانے والی سہولیات کی کمی اورطبی سہولیات میں درپیش مسائل کا جائزہ لیا۔ اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہاں طبی سہولیات کا فقدان کیوں پایا جاتا ہے تو طبی ماہرین نے بتایا کہ ، انہیں اپنے بچوں کی اچھی اور اعلیٰ تعلیم کے لئے بھٹکل میں کو ئی بھی سہولت دسیتا ب نہیں ہے اسی طرح سیر و تفریح کے لئے بھی یہاں مواقع موجود نہیں، ڈاکٹروں نے یہ بھی بتایا کہ میڈیا نے بھٹکل کو جس طرح بدنام کیا ہے ان وجوہات کو دیکھتے ہوئے ماہر ڈاکڑ بھٹکل آنے سےخوف محسوس  کرتے ہیں۔ ہم نے اسکے بعد مقامی افراد سے  رابطہ کیا اور انکو شہر میں بہتر  طبی سہولیات نہ ہونے کے تعلق سے  جاننے کی کوشش کی تو مقامی لوگوں نے اس بات پر سخت  نارضگی کا  اظہار کیا کہ ہماری قوم میں طبی ماہرین کی کمی نہیں ہے مگر ہم اُن کی خدمات سے محروم ہیں کیونکہ ہمارے اکثر ماہرینِ طب خلیج میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تمام اُمور پر غور کرنے کے بعد ہماری ٹیم کو محسوس ہواکہ اتنی بڑی آبادی اورترقی پذیر بھٹکل طبی سہولیات میں دوسرے صوبوں کے مقابلے میں کافی پچھڑا ہوا ہے۔ ہم قوم کے ذمہ داروں سے درخواست کرتے ہیں کہ بھٹکل شہر میں ایک ملٹی اسپیشلسٹ ہسپتال قائم کیا جائے  اور بھٹکل و قرب و جوار کے عوام کو اعلیٰ پیمانے پر طبی سہولیات فراہم کرنے کا انتظام کیا جائے۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار:انکولہ ۔ہبلی ریلوے لائن کی سدراہ بنے ماحولیاتی این جی اوز کو ملنے والی مالی امداد کی جانچ کریں : رکن اسمبلی روپالی نائک کامرکزی ریلوے وزیر سے مطالبہ

ریاست کے ساحلی علاقے سے شمالی کرناٹک  کو جوڑنے والی ’قسمت کی ریکھا‘ انکولہ ۔ ہبلی ریلوے لائن کی تعمیرمیں جو ماحولیاتی اداروں ، این جی اوزاور ماہرین سدراہ بنے ہوئے ہیں دراصل یہ تمام  بیرونی ممالک کی  کروڑوں دولت کے تعاون سے بےبنیاد چیخ وپکار کررہے ہیں کاروار انکولہ کی رکن ...

کاروار میں انکولہ ۔ہبلی ریلوے لائن منصوبےکو جاری کرنےعوامی احتجاج : قومی شاہراہ بند کرنے پر احتجاجی پولس کی تحویل میں

انکولہ۔ ہبلی ریلوے لائن منصوبہ، سرحد علاقہ کاروار میں صنعتوں کا قیام سمیت مختلف مانگوں کو لے کر لندن برج پر قومی شاہراہ کو بند کرتے ہوئے احتجاج کی تیاری میں مصروف کنڑا چلولی واٹال پارٹی کے واٹال ناگراج سمیت 21جہدکاروں کو پولس نے گرفتار کرنے کے بعد رہاکردیا۔

لوک سبھاانتخابات کی تیاری میں مصروف الیکشن کمشن :اتراکنڑا  ضلع میں 11.40 لاکھ رائے دہندگان : 14ہزار ووٹرس آؤٹ تو 12ہزار ووٹرس اِن

الیکشن کمیشن  آئندہ ہونےو الے لوک سبھا انتخابات کی تیاری میں مصروف ہے۔اندراج و اخراج   اور ترمیم کے بعد تشکیل دی گئی  رائے دہندگان کی  فہرست کے مطابق ضلع کے 6ودھان سبھا حلقہ جات میں کل 11،40،316 ووٹر ہیں۔ چونکہ انتخابات کے قریب تک ووٹروں کے اندراج کے لئے موقع دیا گیا ہے تو رائے ...

شرالی میں قومی شاہراہ کی توسیع کو لےکر ہزاروں عوام  شاہراہ روک کیا  احتجاج : مجموعی استعفیٰ کا انتباہ اور الیکشن بائیکاٹ کا اعلان

تعلقہ کے شرالی میں دن بدن قومی شاہراہ کی توسیع کو لےکر معاملہ گرم ہوتا جارہاہے۔ شرالی میں قومی شاہراہ کی توسیع 45میٹر سے کم کرکے 30میٹر کئے جانےکی مخالفت کرتے ہوئے جمعرات کو ہزاروں لوگو ں نے قومی شاہراہ روک کر سخت احتجاج درج کیا۔ اس دوران عوامی مانگوں کو منظوری نہیں دی گئی تو ...

بھٹکل کے سی سی ٹی وی کیمرے کیا صرف دکھاوے کےلئے ہیں ؟

شہر بھٹکل پرامن ، شانتی کا مرکز ہونے کے باوجود اس کو شدید حساس شہروں کی فہرست میں شمار کرتے ہوئے یہاں سخت حفاظتی اقدامات کی مانگ کی جاتی رہی ہے۔مندرنما ’’ناگ بنا ‘‘میں گوشت پھینکنا، شرپسندوں کے ہنگامے ، چوروں کی لوٹ مار جیسے جرائم میں اضافہ ہونے کے باوجود شہری عوام حفاظتی ...

امریکہ نے پھر سے کیوں بنایا افغانستان کو نشانہ؟ ........ آز: مھدی حسن عینی قاسمی

 کوئی بھی سرمایہ دار ملک  پہلے آپ  کو متشدد  بناتا ہے اور ہتھیار مفت دیتا ہے پھر ہتھیار فروخت کرتا ہے، پھر جب آپ  امن کی بحالی کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کے اوپر بم گرا دیتا ہے. ٹھیک یہی کہانی ہے امریکہ اور افغانستان کی، پہلے امریکہ نے  افغانستان کو طالبان اور  القاعدہ ...

راستے بندہیں سب، کوچہ قاتل کے سوا؟ تحریر: محمدشارب ضیاء رحمانی 

یوپی میں مہاگٹھ بندھن نہیں بن سکا،البتہ کانگریس،ایس پی اتحادکے بعدیوں باورکرایاجارہاہے کہ مسلمانوں کاٹینشن ختم ہوگیا۔یہ پوچھنے کے لیے کوئی تیارنہیں ہے کہ گذشتہ الیکشن میں سماجوادی کی طرف سے کیے گئے ریزویشن سمیت چودہ وعدوں کاکیاہوا؟۔بے قصورنوجوانوں کی رہائی کاوعدہ ...

گجرات فسادات کے قاتل گاندھی جی کا قتل کرنے کے بعد نظریات کو بھی قتل کرنے کے درپہ،کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھولنے لگا ہے۔از:سید فاروق احمدسید علی،

جب سے نریندردامور مودی نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے ملک کے حالات میں جیسے بھونچال سا آگیا ہے۔ انہونی ہونی ہوتی نظر آرہی ہے۔وزیراعظم خود کو تاریخ کی ایک قدر آور شخصیت بنانے کے لئے پے درپے نت نئے فیصلے کرتے نظر آرہے ہیں۔ اس میں چاہے کسی کا بھلا ہو یا نقصان ہو ویسے نقصان ہی زیادہ ...

شرالی میں قومی شاہراہ کی توسیع کو لےکر ہزاروں عوام  شاہراہ روک کیا  احتجاج : مجموعی استعفیٰ کا انتباہ اور الیکشن بائیکاٹ کا اعلان

تعلقہ کے شرالی میں دن بدن قومی شاہراہ کی توسیع کو لےکر معاملہ گرم ہوتا جارہاہے۔ شرالی میں قومی شاہراہ کی توسیع 45میٹر سے کم کرکے 30میٹر کئے جانےکی مخالفت کرتے ہوئے جمعرات کو ہزاروں لوگو ں نے قومی شاہراہ روک کر سخت احتجاج درج کیا۔ اس دوران عوامی مانگوں کو منظوری نہیں دی گئی تو ...

بھٹکل انجمن بی بی اے کی طالبہ مریم حرا کو  کرناٹکا یونیورسٹی سطح پر دوسرا رینک

انجمن انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ بھٹکل کی طالبہ مریم حرابنت ارشاد ائیکری ڈاٹا نے کرناٹکا یونیورسٹی دھارواڑ کے زیر اہتمام اپریل 2018میں منعقد ہوئی بی بی اے امتحانات میں پوری یونیورسٹی میں دوسرارینک حاصل کرتے ہوئے انجمن اور شہر کا نام روشن کیا ہے۔