معروف عالم دین اور تبلیغی جماعت کے اہم ذمہ دارمولانا غزالی خطیب ندوی انتقال کرگئے

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 9th June 2018, 12:43 AM | ساحلی خبریں | ملکی خبریں |

بھٹکل 8/جون (ایس او نیوز) معروف عالم دین و داعی اور دہلی نظام الدین تبلیغی مرکز کے اہم ذمہ دار مولانا غزالی خطیب ندوی آج   جمعہ 23 رمضان المبارک کی صبح فجر کی نماز سے قبل بھٹکل اپنی رہائش گاہ میں انتقال کرگئے۔ انا للہ و اناالیہ راجعون۔ اُن کی عمر 74 سال تھی۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق قریب دیڑھ ماہ قبل  مولانا دہلی کے نظام الدین مرکز سے بھٹکل آئے تھے، انہیں ایک پیر میں تکلیف تھی،  مگر وہ بالکل صحت مندتھے۔رمضان کی 23 ویں رات  انہوں نے مکمل  عبادت میں گذاری، پھر سحری کرکے فجر کی اذان کے بعد نماز کے لئے مسجد جانے کی تیاری میں تھے کہ ملک الموت  اللہ کا بلاوا لے کر پہنچ گیا۔ بتایا گیا ہے کہ مولانا  الھم اغفر لی کا ورد کرتے کرتے  اس دنیا سے چل بسے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی کثیر تعداد میں لوگ موگلی ہونڈا  میں واقع ان کے مکان پر جمع ہونا شروع ہوگئے۔  بعد نماز عصر بھٹکل جامع مسجد میں  نماز جنازہ ادا کی گئی اور پرانے قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔

 بھٹکل کے  معروف عالم دین اور بھٹکل کے سابق چیف قاضی  مرحوم مولانا ابوبکر خطیبی عرف اوپا خلفو   کے چشم چراغ  مولانا غزالی کی پیدائش سن 1944 میں ہوئی ، انہوں نے اسلامیہ اینگلو اُردو ہائی اسکول سے میٹرک مکمل کیا پھر جامعہ اسلامیہ  میں داخلہ لیا، وہاں سے وہ لکھنو ندوۃ العلماء سے  عالمیت نیز فضیلت  کی ڈگری حاصل کی، پھر وہ اسلام کی دعوت کے کام میں  تبلیغی جماعت سے جڑ گئے۔  وہ قریب 45 سالوں تک نظام الدین مرکز میں رہے اور اپنی پوری زندگی  دعوت و تبلیغ میں لگائی۔  اُنہیں اردو، عربی اور انگریزی پر عبور حاصل تھا، اس بنا پر وہ  مرکز نظام الدین  میں اکثر عربوں کی جماعتوں کے بیانات کا اُردو ترجمہ پیش کرتے تھے۔ مرحوم انگریزی تقریروں کا بھی اُردو میں ترجمہ  پیش کرتے تھے۔

خیال رہے کہ ان کے والد  مولانا ابوبکر خطیبی کا انتقال  بھی رمضان کی مبارک ساعتوں میں سن 1974 میں ہوا تھا۔ مولانا کو سات فرزند اور دو بیٹیاں ہیں اور ان کے گھرانے کے چشم و چراغ علمِ دین سے آراستہ ہیں۔ مولانا غزالی کے سات فرزندان میں چھ عالم دین کے ساتھ حافظ قران ہیں تو   ایک فرزند عالم دین ہے، جبکہ ان کی دونوں بیٹیاں بھی عالمہ و حافظہ ہیں، یہاں تک  کہ  ان  کے دونوں داماد بھی حافظ قران ہیں۔

مولانا کے انتقال پر پورے بھٹکل میں رنج و غم کی فضا چھاگئی۔ اللہ کی رحمت بھی بارش کی شکل میں وقفے سے وقفے سے جاری ہوگئی۔ سوشیل میڈیا کے ذریعے ملی اطلاع کے مطابق  مولانا کے انتقال پر بھٹکل کے حضرات نے گلف کے مختلف شہروں کی مسجدوں میں  نماز غائبانہ کا اہتمام کیا تھا۔

مولانا کے انتقال پر بھٹکل کی مختلف جماعتوں کے ذمہ داران نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ  کے ساتھ تعزیت کی ہیں اور مولانا کے حق میں مغفرت کی دعائیں کی ہیں۔  مولانا کے انتقال کی اطلاع ملتے ہی  مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کے  جنرل سکریٹری محی الدین الطاف کھروری سمیت  دیگر ذمہ داران فجر کی نماز کے فوری بعد ان کے مکان پر پہنچ گئے تھے اور گھروالوں کے ساتھ تعزیت کی۔ الطاف کھروری نے بتایا کہ مولانا نے پوری زندگی  دین کی خدمت کے لئے  وقف کردی تھی، آخری وقت میں بھی وہ اللہ کی عبادت کرتے ہوئے  اور اپنے لئے مغفرت کی دُعا طلب کرتے ہوئے  اپنے خالق حقیقی کے پاس جا پہنچے۔ اللہ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آگے بتایا کہ مولانا نہایت عبادت گذار اور اللہ ولی انسان تھے، انہوں نے ہمیشہ خاموش خدمت کی اور کسی بھی عہدہ کو قبول نہیں کیا۔ دبئی سے قائد قوم جناب ایس ایم سید خلیل الرحمن نے بھی ان کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا  اور کہا کہ مرحوم نہایت صاف گو سیدھے سادے متقی پاکیزہ اوصاف  اورعبادت گزار انسان تھے،  ان کی اچانک رحلت سے ایک اور چراغ علم و عمل اور رشد و ہدایت گل ہو گیا ہے انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کی سر بلندی اور درس تدریس میں گذاری ،ان کی خدمات کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ اللہ تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائے اور ان کے درجات کو بلند فرمائیں۔ اٰمین

ایک نظر اس پر بھی

اُترکنڑا سے چھٹی مرتبہ جیت درج کرنے والے اننت کمار ہیگڑے کی جیت کا فرق ریاست میں سب سے زیادہ؛ اسنوٹیکر کو سب سے زیادہ ووٹ بھٹکل میں حاصل ہوئے

پارلیمانی انتخابات میں شمالی کینرا کے بی جے پی امیدوار اننت کمار ہیگڈے نے پوری ریاست کرناٹک میں سب سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے 479649 ووٹوں کی اکثریت سے کانگریس  جے ڈی ایس مشترکہ اُمیدور  آنند اسنوٹیکر  کو شکست دی ۔

ریاست میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے سیاسی لیڈروں کی ذلت بھری شکست

ریاست کرناٹکا میں انتخابی میدان میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے چند نامورسیاسی لیڈران جیسے ملیکا ارجن کھرگے، دیوے گوڈا، ویرپا موئیلی اورکے ایچ منی اَپا وغیرہ کو اس مرتبہ پارلیمانی انتخاب میں انتہائی ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ 

منگلورو:کلاس میں اسکارف پہننے پر سینٹ ایگنیس کالج نے طالبہ کو دیا ٹرانسفر سرٹفکیٹ۔طالبہ نے ظاہر کیاہائی کورٹ سے رجوع ہونے اور احتجاجی مظاہرے کاارادہ

کلاس روم میں اسکارف پہن کر حاضر رہنے کی پاداش میں منگلورومیں واقع سینٹ ایگنیس کالج نے پی یو سی سال دوم کی طالبہ فاطمہ فضیلا کو ٹرانسفر سرٹفکیٹ دیتے ہوئے کالج سے باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔

بھٹکل میں رمضان باکڑہ کی نیلامی؛ 40 باکڑوں کے لئے میونسپالٹی کو 1126 درخواستیں

رمضان کے آخری عشرہ کے لئے بھٹکل  میں لگنے والے رمضان باکڑہ کی آج میونسپالٹی کی جانب سے  نیلامی کی گئی۔ بتایا گیاہے کہ 40 باکڑوں کی نیلامی کے لئے  میونسپالٹی کے جملہ 1126 درخواست فارمس فروخت ہوئے تھے۔ 

وزیراعظم مودی نے کابینہ سمیت سونپا صدرجمہوریہ کو استعفیٰ، 30 مئی کو دوبارہ حلف لینےکا امکان

لوک سبھا الیکشن کے نتائج کے بعد جمعہ کی شام نریندرمودی نے وزیراعظم عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے ساتھ  ہی سبھی وزرا نے بھی صدرجمہوریہ کواپنا استعفیٰ سونپا۔ صدر جمہوریہ نےاستعفیٰ منظورکرتےہوئےسبھی سے نئی حکومت کی تشکیل تک کام کاج سنبھالنےکی اپیل کی، جسے وزیراعظم نےقبول ...

نوجوت سنگھ سدھوکی مشکلوں میں اضافہ، امریندر سنگھ نے کابینہ سے باہرکرنے کے لئے راہل گاندھی سے کیا مطالبہ

لوک سبھا الیکشن میں زبردست شکست کا سامنا کرنے والی کانگریس میں اب اندرونی انتشار کھل کرباہرآنے لگی ہے۔ پہلےسے الزام جھیل رہے نوجوت سنگھ سدھو کی مشکلوں میں اضافہ ہونےلگا ہے۔ اب نوجوت سنگھ کوکابینہ سےہٹانےکی قواعد نے زورپکڑلیا ہے۔

اعظم گڑھ میں ہارنے کے بعد نروہوا نے اکھلیش یادو پر کسا طنز، لکھا، آئے تو مودی ہی

بھوجپوری سپر اسٹار نروہوا (دنیش لال یادو) نے لوک سبھا انتخابات کے دوران سیاست میں ڈبیو کیا تھا،وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر یوپی کی ہائی پروفائل سیٹ اعظم گڑھ سے انتخابی میدان میں اترے تھے لیکن اترپردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو کے سامنے نروہا ٹک نہیں پائے۔