مرکزی حکومت آئینی ایجنسیوں کا غلط استعمال کررہی ہے،ڈی کے شیوکمار کو گرفتار کرنابی جے پی کو بہت مہنگا پڑے گا: ڈی کے سریش

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 9th September 2018, 11:42 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،9؍ستمبر(ایس او نیوز) مرکزی حکومت کے محکمۂ انکم ٹیکس اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی طرف سے ریاستی وزیر ڈی کے شیوکمار اور ان کے افراد خانہ کو گرفتار کئے جانے کی کوششوں کا الزام لگاتے ہوئے رکن پارلیمان اور ڈی کے شیوکمار کے بھائی ڈی کے سریش نے کہا ہے کہ مرکزی ایجنسیوں کی ان حرکتوں کے خلاف وہ وزیراعظم مودی سے مل کر احتجاج درج کرانے پر غور کررہے ہیں۔

آج ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین نے مرکزی ایجنسیوں کو اپنی پارٹی کی محاذی تنظیمیں سمجھ بیٹھی ہے، ان ایجنسیوں کے اعلیٰ افسروں کو غلاموں کی طرح استعمال کیاجارہاہے۔ ریاست کی کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کو گراکر کسی بھی طرح اقتدار پر قبضے کے لئے بی جے پی نچلی سطح پر اتر آئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ڈی کے شیوکمار یا ان کے خاندان کا کوئی فرد مرکزی حکومت کی ان حرکتوں سے خوفزدہ ہونے والا نہیں ہے۔ بی جے پی اگر سیاست کرناجانتی ہے تو ڈی کے شیوکمار کا خاندان بھی سنیاسی نہیں ہے، انہیں بھی سیاست آتی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ یا سی بی آئی کا استعمال کرکے بی جے پی سمجھتی ہے کہ وہ ہمیں ڈرارہی ہے تو یہ بی جے پی کی خام خیالی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ڈی کے شیوکمار اور ان کے اقرباء کے گھروں پر انکم ٹیکس ، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور دیگر ایجنسیوں کے چھاپوں کو ایک سال کا عرصہ گزر چکاہے، اس سلسلے میں ایجنسیوں نے چار فرضی مقدمے دائر کئے ہیں لیکن ایک مقدمے کو بھی ثابت نہیں کرپائیں۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے بی جے پی قائدین کو خوف ہے کہ دوبارہ اگر ڈی کے شیوکمار مضبوط ہوگئے تو ریاست میں بی جے پی کی جڑوں کو کمزور کرکے رکھ دیں گے۔

سریش نے کہاکہ بی جے پی جتنے چاہے حربے آزمالے، اب بی جے پی کو سر اٹھانے کا موقع ہرگز نہیں دیا جائے گا۔ سریش نے کہاکہ ریاست کی مخلوط حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لئے ہر طرح کے طریقے آزمانے کے بعد جب بی جے پی کو ناکامی ہاتھ لگی تو اب وہ ایسی حرکتیں کرنے پر اتر آئی ہے کہ ڈی کے شیوکمار کو کسی بھی طرح سلاخوں کے پیچھے کریں۔

انہوں نے سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کی طرف سے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے اعلیٰ افسروں کو مکتوب روانہ کیا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ جتنی جلد ہوسکے ڈی کے شیوکمار کو گرفتار کرلیا جائے۔

ڈی کے سریش نے کہاہے کہ یڈیورپا جانتے ہیں کہ لوک سبھا انتخابات کے قریب اگر ڈی کے شیوکمار کو گرفتار نہ کیا گیاتو کرناٹک میں بی جے پی کا بوریہ بستر لپٹنا پڑ سکتاہے۔سریش نے کہاکہ کرناٹک میں بی جے پی کو حکومت بنانے کے لئے مزید دس اراکین اسمبلی درکار ہیں، جبکہ کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کے پاس فی الوقت 118 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

خاتون کانگریس کارکنوں پر ڈریس کوڈ لاگو کرنے کی کوشش، مہیلا کانگریس صدر کی ہدایت پر دیگر کانگریس کارکنوں میں ناراضگی

ملک کے مختلف علاقوں میں اہم شخصیات کے متعلق بارہا می ٹو مہم کے تحت لگنے والے الزامات کو دیکھتے ہوئے کرناٹک پردیش مہیلا کانگریس کمیٹی صدر ڈاکٹر پشپاامرناتھ نے خاتون کانگریس کارکنوں پر ڈریس کوڈ لاگو کرنے کی پہل کی ہے۔

جناردھن ریڈی کی یڈیورپا سے ملاقات کے بعد سیاسی چہ میگوئیاں تیز، ریاستی بی جے پی صدارت بدلنے کی تیاریوں سے یڈیورپا ناخوش

سابق ریاستی وزیر اور بلاری کے کان مالک جناردھن ریڈی کی ریاستی بی جے پی صدر اور سابق وزیراعلیٰ بی ایس یڈیورپا سے خفیہ ملاقات سیاسی حلقوں خاص طور پر بی جے پی کے حلقوں میں زبردست بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔