ایران میں ہزاروں قیدیوں کے قتل عام کی تحقیقات کا مطالبہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th September 2017, 11:45 PM | عالمی خبریں |

تہران،13ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق نے ایک مشترکہ بیان میں سنہ 1988ء میں ہزاروں ایرانی قیدیوں اور سیاسی کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کئے جانے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے یہ مطالبہ 11ستمبر سے جنیوا میں جاری انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے موقع پر سامنے آیا ہے۔ اجلاس 29ستمبر تک جاری رہے گا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمشنر زید رعد الحسین کا کہنا ہے کہ ایران میں سنہ 1988ء میں سیاسی قیدیوں کی ماورائے عدالت پھانسیوں کی جامع تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی نے کام شروع کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں سیاسی کارکنوں کا قتل عام روکنے کے لیے تہران حکومت کو عالمی اداروں کے مطالبات کا پابند بنانا ہوگا۔ خاص طور پر اقوام متحدہ کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں ایران سے اس بارے میں باز پرس کرنا ہوگی۔

ایران میں سنہ 80ء کے عشرے میں قیدیوں کو دی جانی والی اندھا دھند پھانسیوں کی تحقیقات کے مطالبے کی پٹیشن پراڈمونڈ رائیس آرگنائزیشن سینٹر ، خواتین ہیومن رائٹئس انٹرنیشنل لیگ، بین الاقوامی آرگنائزیشن برائے فروغ تعلیم اور دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نے جولائی سے اکتوبر 1988ء کے چند ہفتوں کے دوران جیلوں میں ڈالے گئے ہزاروں قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔بیان کے مطابق قیدیوں کو اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتارے جانے کا حکم ایرانی انقلاب کے بانی آیت اللہ علی خمینی کی جانب سے دیا گیا جس پر مجاھدین خلق سمیت اپوزیشن کی تمام نمائندہ تنظیموں نے شدید احتجاج کیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

جرمن انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری

براعظم یورپ کی سب سے طاقتور اقتصادیات کے حامل ملک جرمنی میں آج چوبیس ستمبر کو پارلیمانی الیکشن میں ووٹ ڈالنے کا سلسلہ صبح آٹھ بجے سے شروع ہے۔

ووٹ ڈالنا سماجی ذمہ داری ہے، جرمن صدر

جرمنی کے صدر فرانک والٹر اشٹائن مائر نے جرمن عوام کو پولنگ میں جوق در جوق شریک ہونے کی تلقین کی ہے۔ انہوں نے عوام سے کہا ہے کہ ووٹ ڈالنا ایک سماجی ذمہ داری ہے اور اس کا احساس کیا جائے۔

فتح کے قریب ہیں، شامی وزیر خارجہ

شامی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ میں عالمی رہنماؤں کو بتایا ہے کہ ان کا ملک دہشت گردی کے خاتمے کے ہدف کی طرف بتدریج بڑھ رہا ہے اور گزشتہ چھ برس سے جاری جنگ میں فوجی فتح ’’اب دسترس میں‘‘ ہے۔

جرمن الیکشن، ووٹرز کون ہیں اور وہ کسے پسند کرتے ہیں؟

24 ستمبر کے جرمن وفاقی پارلیمانی انتخابات میں قریب ساٹھ ملین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ان ووٹرز میں عمررسیدہ، خواتین، مرد اور تارکین وطن پس منظر افراد کے حامل ووٹرز کا تناسب کیا ہے؟