ہندو نیشنلسٹ گروپ سے اقلیتی طبقہ خوفزدہ، امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 31st May 2018, 1:01 PM | ملکی خبریں | عالمی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

واشگٹن،31؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) امریکی وزارت خارجہ نے منگل کے روز بین الاقوامی مذہبی آزادی پر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں 2017 کے دوران ہندو نیشنلسٹ گروپ کے تشدد کے سبب اقلیتی طبقہ نے خود کو انتہائی غیر محفوظ محسوس کیا۔ اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے امریکی کانگریس کے ذریعہ مجاز یافتہ 2017 کی بین الاقوامی مذہبی آزادی پر مبنی سالانہ رپورٹ جاری کی ، جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے چند ایک بار تشدد کے واقعات کے خلاف بولا، لیکن مقامی لیڈروں نے شاید ہی ایسا کیا۔ اور کئی بار تو ایسے بیانات دیے گئے جن کے پش پست مقصد تشدد کو نظر انداز کرنا معلوم ہوتا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی اس رپورٹ میں واضح لفظوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’سول سوسائٹی کے لوگوں اور مذہبی اقلیتوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت میں مذہبی اقلیتی طبقات نے غیر ہندوؤں اور ان کی عبادت گاہوں کے خلاف تشدد میں شامل ہندو نیشنلسٹ گروپوں کے سبب خود کو کافی غیر محفوظ محسوس کیا۔‘‘ رپورٹ کے مطابق ’’افسران نے اکثر و بیشتر گئوکشی یا غیر قانونی اسمگلنگ یا گائے کے گوشت کا استعمال کرنے سے متعلق مشتبہ لوگوں (زیادہ تر مسلمانوں) پر گئو رکشکوں کے تشدد کے خلاف معاملے درج نہیں کیے۔‘‘

اس رپورٹ میں اقلیتی اداروں سے متعلق بھی باتیں کی گئی ہیں۔ اس میں لکھا گیا ہے کہ ’’حکومت نے عدالت عظمیٰ میں مسلم تعلیمی اداروں کے اقلیتی درجہ کو چیلنج پیش کرنا جاری رکھا۔ اقلیتی درجہ کی وجہ سے ان اداروں کو ملازمین کی تقرری اور نصاب سے متعلق فیصلوں میں خودمختاری حاصل ہے۔‘‘

اس رپورٹ کے ایک حصہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 13 جولائی کو وزیر اعظم نریندر مودی نے بیف تاجروں، بیف کے صارفین اور ڈیری کسانوں پر بھیڑ کے ذریعہ کیے گئے قاتلانہ حملے کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گئو رکشا کے نام پر لوگوں کی جان لینا ناقابل قبول ہے۔ اس میں کہا گیا کہ 7 اگست کو اس وقت کے نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے کہا تھا کہ ملک میں دلت، مسلمان اور عیسائی خود کو کافی غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

عیسائیوں پر مظالم سے متعلق اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ’اوپن ڈورس‘ کے مقامی شریک کاروں کے ذریعہ حاصل اعداد و شمار کے مطابق سال کے پہلے چھ مہینے میں ہی 410 ایسے واقعات پیش آئے جن میں عیسائیوں پر ظلم ہوا، ڈرایا دھمکایا گیا یا مذہب کے نام پر ان پر حملہ کیا گیا، جب کہ 2016 کے پورے سال میں اس طرح کے کل 441 واقعات پیش آئے تھے۔ گویا کہ 2017 کے نصف حصے میں ہی عیسائیوں پر مظالم کے تقریباً اتنے واقعات پیش آئے جتنے کہ 2016 کے پورے سال میں ہوئے تھے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2017 میں جنوری سے لے کر مئی کے درمیان وزارت داخلہ نے مذہبی طبقات کے درمیان 296 تصادم ہونے کی اطلاع دی۔ تصادم میں 44 لوگ مارے گئے اور 892 زخمی ہوئے۔

ایک نظر اس پر بھی

عام آدمی پارٹی اور مرکزی سرکار کی کھینچا تانی۔اپوزیشن کا تیسرامحاذ ہورہاہے مستحکم

دہلی میں حکومت چلانے کے لئے آئی اے ایس افسران کی طرف سے عدم تعاون کو مسئلہ بناکر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے لیفٹننٹ گورنرانیل بیجال کے دفتر میں جو دھرنا دے رکھا ہے اس کی حمایت میں چار غیر بی جے پی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے حمایت کا مظاہرہ کیا ہے۔

جموں کشمیر میں رمضان کے مقدس مہینے میں دہشت گردوں نے کیا اورنگ زیب کو شہید

رمضان کےمقدس مہینے میں جموں وکشمیر میں دہشت گردوں نے اغوا کرنے کے بعد فوج کے جوان اورنگ زیب کا قتل کردیا ۔ ہفتہ کو اورنگ زیب کی موت سے پہلے کا ایک مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا ، جس ویڈیو میں فوجی جوان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حالت خراب، شیوراج نہیں ہوں گے چہرہ

مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حالت خراب ہے، اقتدار مخالف لہر ہر طرف نظر آرہی ہے، لہذا اب انتخابی چہرہ شیوراج نہیں ہوں گے اور کم از کم 130 موجودہ بی جے پی ممبران اسمبلی کے ٹکٹ کاٹے جائیں گے، اتنا ہی نہیں کانگریس کو کمزور سمجھنے کی بھول کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی، یہ پیغام کسی ...

ممبئی میں عیدالفطر مذہبی جوش وخروش سے منائی گئی ، عروس البلاد میں جشن کا ماحول

 ممبئی میں چاند کی عام رویت ہونے کے بعد سے عروس البلاد میں جشن کا سماں بندھ گیا اورسنیچر کی صبح شہر بھر کی مساجد میں فرزندان توحید نے نماز دوگانہ اداکی اور اپنے رب کے حضور سجدہ شکر اداکیا کہ ماہ صیام کے دوران اُس نے روزہ رکھنے اور مختلف عبادات کی توفیق عطا کی ۔

عید الفطر کے پیش نظر بھٹکل رمضان بازار میں عوام کا ہجوم؛ پاس پڑوس کے علاقوں کے لوگوں کی بھی خاصی بڑی تعداد خریداری میں مصروف

عیدالفطر کے لئے بمشکل تین دن باقی رہ گئے ہیں اور بھٹکل رمضان بازار میں لوگوں  کی ریل پیل اتنی بڑھ گئی ہے کہ پیر رکھنے کے لئے جگہ نہیں ہے۔ عید کی تیاری میں مشغول مسلمان ایک طرف کپڑے، جوتے اور  دیگر اشیاء  کی خریداری میں مصروف ہیں تو وہیں رمضان بازار میں گھریلو ضروریات کی ہر چیز ...

اگر حزب اختلاف متحد رہا تو 2019میں مودی کاجانا طے ........از: عابد انور

اگر متحد ہیں تو کسی بھی ناقابل تسخیر کو مسخر کرسکتے ہیں،کامیابی حاصل کرسکتے ہیں،مضبوط آہنی دیوار کو منہدم کرسکتے ہیں، جھوٹ اور ملمع سازی کوبے نقاب کرسکتے ہیں اور یہ اترپردیش کے کیرانہ لوک سبھا کے ضمنی انتخاب میں ثابت ہوگیا ہے۔ متحد ہوکر میدان میں اترے تو بی جے پی کو شکست ...

آئندہ لوک سبھا انتخابات: جے ڈی یو اور شیوسینا کے لیے چیلنج؛ دونوں کے سامنے اہم سوال، بی جے پی کا سامنا کریں یا خودسپردگی؟

شیوسیناسربراہ ادھو ٹھاکرے اور جے ڈی یو چیف نتیش کمار دونوں اس وقت این ڈی اے سے غیر مطمئن نظر آرہے ہیں۔ جس طرح سے اس باربی جے پی کا اثر ورسوخ بڑھا ہے، اس سے دونوں جماعتیں خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہیں۔

اسمبلی انتخاب کے بعدبھٹکل حلقے میں کانگریس اور بی جے پی کے اندر بدلتا ہوا سیاسی ماحول؛ کیا برسات کا موسم ختم ہونے کے بعدپارٹیاں بدلنے کا موسم شروع ہو جائے گا ؟

حالیہ اسمبلی انتخاب میں کانگریسی امیدوار منکال وئیدیا کی شکست کے بعد ایسا لگتا ہے کہ کانگریس پارٹی کے اندر ہی سیاسی ماحول ایک آتش فشاں میں بدلتا جارہا ہے ۔ انتخاب سے پہلے تک بظاہرکانگریس پارٹی کا جھنڈا اٹھائے پھرنے اور پیٹھ پیچھے بی جے پی کی حمایت کرنے والے بعض لیڈروں کو اب ...

مودی حکومت کے چار سال: بدعنوانی، لاقانونیت،فرقہ پرستی اور ظلم و جبر سے عبارت ......... از: عابد انور

ہندوستان میں حالات کتنے بدل گئے ہیں، الفاظ و استعارات میں کتنی تبدیلی آگئی ہے ، الفاظ کے معنی و مفاہیم اور اصطلاحات الٹ دئے گئے ہیں ،سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کہا جانے لگا ہے، قانون کی حکمرانی کا مطلب کمزور اور سہارا کو ستانا رہ گیا ہے، دھاندلی کو جیت کہا جانے لگا ہے، ملک سے ...