رضا مانوی: ایک مخلص استاذ۔ایک معتبر صحافی ...... آز: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

Source:   ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ  | By Dr. Haneef Shabab | Published on 12th August 2017, 1:05 AM | اسپیشل رپورٹس | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے | ساحلی خبریں |

محمد رضامانوی ! کنڑ اصحافت میں ایم آر مانوی کے طور پر معروف ایک معتبر اورسرگرم شخصیت کا نام ہے جو حق و انصاف پر مبنی صحافتی خدمات میں مصروف وارتابھارتی اور ساحل آن لائن کے قافلے میں شامل ہے۔لیکن عام اردو داں طبقے میں اور خاص کر بھٹکل کے مسلمانوں میں آپ شمس انگلش میڈیم کے انتہائی ذمہ دار اور ایک مخلص استاد کی حیثیت سے زیادہ معروف ہیں جوگزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے طلبہ کی تعلیم و تربیت کے فرائض دینے میں اپنا خونِ جگر صَرف کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔اور اسی حوالے سے آج انہیں اہل بھٹکل کی جانب سے "بیسٹ ٹیچر آف دی ایئر"کے زمرے میں" رابطہ ایوارڈ"سے سرفراز کیا گیا ہے۔

محمد رضامانوی صاحب طلبہ میں رضا سر اور اپنے صحافی دوستوں میں مانوی صاب کے طور پر بڑے ہی ہر دلعزیز ہیں۔ آپ نے پہلے سوشیالوجی میں ایم اے کیا۔ جس کے بعد آپ منصورہ میں جماعت اسلامی کی درسگاہ میں ٹیچر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ پھر 1997میں بھٹکل میں آپ شمس انگلش میڈیم اسکول بھٹکل سے وابستہ ہوئے۔ اس دوران آپ نے کنڑا میں ایم اے کیا ۔ اس کے علاوہ ڈپلومہ ان جرنلزم کے ساتھ آپ نے بی ایڈ کا کورس بھی مکمل کیا۔

طالب علمی کے زمانے سے ہی فکری طور پرآپ عملاً تحریک اسلامی سے وابستہ رہے ہیں اور اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن کے اسٹیٹ سکریٹری کی خدمات انجام دے چکے ہیں۔اب آپ جماعت اسلامی کے رکن کی حیثیت سے تحریکی محاذ پر دینی وملّی خدمات انجام دے رہے ہیں۔اساتذہ کی فکری اور مقصدی تربیت کے لئے قائم تحریک اسلامی کی ایک اور ونگ "آل انڈیا اسلامک ٹیچرزایسوسی ایشن"کے سابق ضلعی صدر رہے ہیں اور فی الحال اس کے پریس اینڈ پبلسٹی شعبے کے سکریٹری منتخب ہوئے ہیں۔

رضا مانوی صاحب نے نامہ نگاری کے علاوہ کنڑا کے بہت ہی اچھے مضمون نگار اور شاعراور کنڑا اسپیکر کی حیثیت سے بھی اپنی پہچان بنائی ہے۔آپ ایک خوددار،غیرت مند اور قوم وملت کا درد رکھنے والے بے لوث خدمت گار ہیں۔ شمس اسکول میں ان کے زیر سایہ تربیت پانے والے سینکڑوں طلبہ آج زندگی کے اہم مراحل طے کرنے بعد بلند مقامات پر پہنچ گئے ہیں اوراپنے استاد رضا سرکی خدمات کا اعتراف اور ستائش کرتے نظر آتے ہیں۔طلبہ کے علاوہ شمس کے اسٹاف اور منیجمنٹ میں رضا صاحب کا بڑا احترام اور مقام پایا جاتا ہے۔ گزشتہ سال2016میں شمس اسکول کی طرف سے محترم رضا صاحب کو ان کی تعلیمی خدمات کے لئے "صدیق جعفری ایوارڈ"سے نوازا گیا تھا۔

رضاصاحب کنڑا صحافت کے مورچے پر فرقہ پرست اور سنگھی زعفرانی صحافت کے مقابلے میں قوم وملت کے کاذ کو فروغ دینے اور جہاں بھی ضرورت محسوس ہو اس کے دفاع کے لئے بڑے بے باک انداز میں آگے بڑھتے ہیں۔خاص کر سوشیل میڈیا میں جہاں کسی کی جانب سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کی کوشش ان کے سامنے آتی ہے ، وہ فوری طور پر اپنے مدلل بیان اور مؤثر جواب کے ذریعے ظالموں اور تنگ نظروں کے سامنے بڑی حوصلہ مندی سے حق گوئی کا مجاہدانہ کردار ادا کرجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جہاں حق پرستوں کی صفوں میں رضاصاحب کو چاہنے والوں کی کثیر تعداد موجود ہے، وہاں جھوٹ اور بے کرداری کا مظاہرہ کرنے والے زعفرانی ٹولے میں ان کے دشمنوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔جس سے ان پرندؔ افاضلی کا یہ شعر بڑی حد تک صادق آتا ہے:
اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا
                                                     وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا

تعلیم و تدریس کے سفر میں ایک ساتھی اور دوست کی حیثیت سے میں نے رضا صاحب کو کافی قریب سے دیکھا ہے۔ میری بہت سی تلخ و شیریں یادیں ان کے ساتھ وابستہ ہیں۔آپ نے ذاتی طور پر زندگی کے نشیب وفراز سے گزرتے ہوئے مشکل اورکٹھن حالات کا مقابلہ بڑے صبر واستقامت سے کیا ہے۔ اپنے تحریکی مقصد کے ساتھ پوری لگن اور جذباتی وابستگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ قناعت اور صبر وتحمل کے ساتھ زندگی جینا ان کا وصف خاص ہے۔ 

رابطہ ایوارڈ کی تفویض پر میں محمدرضا مانوی صاحب کی خدمت میں دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ انہیں مزید سرفرازی اورسرخ روئی سے نوازے۔خالص رضائے الٰہی کے حصول کی نیت سے کار زارِحیات میں ہمیشہ سرگرم رہنے مزید توفیق اور استطاعت عطارفرمائے۔ قوم و ملت کی مخلصانہ تعمیری خدمات کامزید حوصلہ اور مواقع نصیب فرمائے۔اور انہیں ہر شرسے ہمیشہ محفوظ و مامون رکھے۔ آمین 

ایک نظر اس پر بھی

ملک کے موجودہ حالات اور دینی سرحدوں کی حفاظت ....... بقلم : محمد حارث اکرمی ندوی

   ملک کے موجودہ حالات ملت اسلامیہ ھندیہ کےلیے کچھ نئے حالات نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما حالات اس ملک اور خاص کر ملت اسلامیہ ھندیہ پر آچکے ہیں . افسوس اس بات پر ہے اتنے سنگین حالات کے باوجود ہم کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے. آج ہمارے سامنے اسلام کی بقا ...

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھٹکل میں سواریوں کی  من چاہی پارکنگ پرمحکمہ پولس نے لگایا روک؛ سواریوں کو کیا جائے گا لاک؛ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ لازمی

اترکنڑا ضلع میں بھٹکل جتنی تیز رفتاری سے ترقی کی طرف گامزن ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، ان میں ایک طرف گنجان  ٹرافک  کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے تو  دوسری طرف پارکنگ کی کہانی الگ ہے۔ اس دوران محکمہ پولس نے ٹرافک نظام میں بہتری لانے کے لئے  بیک وقت کئی محاذوں ...

غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا کالا سایہ .... ایڈیٹوریل :وارتا بھارتی ........... ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

ہٹلرکے زمانے میں جرمنی کے جو دن تھے وہ بھارت میں لوٹ آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے، صحافیوں، شاعروں ادیبوں اور وکیلوں پر فاشسٹ حکومت کی ترچھی نظر پڑ گئی ہے۔ان لوگوں نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ہے۔کسی کی بھی جائداد نہیں لوٹی ہے۔ گائے کاگوشت کھانے کا الزام لگاکر بے ...

اسمبلی الیکشن میں فائدہ اٹھانے کے بعد کیا بی جے پی نے’ پریش میستا‘ کو بھلا دیا؟

اسمبلی الیکشن کے موقع پر ریاست کے ساحلی علاقوں میں بہت ہی زیادہ فرقہ وارانہ تناؤ اور خوف وہراس کا سبب بننے والی پریش میستا کی مشکوک موت کو جسے سنگھ پریوار قتل قرار دے رہا تھا،پورے ۹ مہینے گزر گئے۔ مگرسی بی آئی کو تحقیقات سونپنے کے بعد بھی اب تک اس معاملے کے اصل ملزمین کا پتہ چل ...

گوگل رازداری سے دیکھ رہا ہے آپ کا مستقبل؛ گوگل صرف آپ کا لوکیشن ہی نہیں آپ کے ڈیٹا سےآپ کے مستقبل کا بھی اندازہ لگاتا ہے

ان دنوں، یورپ کے  ایک ملک میں اجتماعی  عصمت دری کی وارداتیں بڑھ گئی تھیں. حکومت فکر مند تھی. حکومت نے ایسے لوگوں کی جانکاری  Google سے مانگی  جو لگاتار اجتماعی  عصمت دری سے متعلق مواد تلاش کررہے تھے. دراصل، حکومت اس طرح ایسے لوگوں کی پہچان  کرنے کی کوشش کر رہی تھی. ایسا اصل ...

بھٹکل میں کل بدھ کو ہوگا تنطیم میڈیا ورکشاپ کا عظیم الشان اختتامی اجلاس؛ بنگلور اور حیدرآباد سے میڈیا ماہرین کریں گے خطاب

مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی جانب سے پانچ روزہ ورکشاپ کا اختتامی اجلاس کل بدھ 17/اکتوبر کو  منعقد ہوگا جس میں سنئیر جرنلسٹ اور کرناٹکا کے سابق  وزیراعلیٰ سدرامیا کے خصوصی میڈیا مشیر مسٹر دنیش امین مٹّو مہمان خصوصی کے طور پر تشریف فرما ہوں گے۔

ریاستی وزارت سے مہیش کا استعفیٰ منظور

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور بی ایس پی کے درمیان مفاہمت کی کوشش ناکام ہوجانے کے نتیجے میں ریاستی کابینہ سے استعفیٰ دینے والے بی ایس پی کے وزیر این مہیش کو استعفیٰ واپس لینے کے لئے منانے میں جے ڈی ایس قیادت کی کوشش ناکام ہوجانے کے بعد آج وزیراعلیٰ نے مہیش کا ...

حلال آمدنی کے نام پر سرمایہ کاروں کو ٹھگنے کا الزام۔ہیرا گولڈ کی چیف نوہیرا شیخ حیدرآباد میں گرفتار۔ سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر

کئی برسوں سے ’ہیرا گولڈ‘ کے نام سے کمپنی چلانے اور حلال آمدنی کا وعدہ کرکے ہزاروں افراد سے سرمایہ کاری کروانے والی عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو حیدرآباد پولیس نے سرمایہ کاروں کو ٹھگنے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

کاروار : یکم نومبر کے کنڑا راجیوتسوا پروگرام میں سرکاری افسران اور عملہ کی حاضری لازمی : ضلع ڈی سی

یکم نومبر کو منائےجانے والے ریاستی تہوار ’’کنڑا راجیوتسوا‘‘  ضلعی سطح پر کاروار میں منعقد ہونے والے پروگرام میں کاروار کے تمام سرکاری عملہ لازمی طورپر شریک ہونے کی ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول نے ہدایات جاری کی ہیں۔

بھٹکل میں کل بدھ کو ہوگا تنطیم میڈیا ورکشاپ کا عظیم الشان اختتامی اجلاس؛ بنگلور اور حیدرآباد سے میڈیا ماہرین کریں گے خطاب

مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی جانب سے پانچ روزہ ورکشاپ کا اختتامی اجلاس کل بدھ 17/اکتوبر کو  منعقد ہوگا جس میں سنئیر جرنلسٹ اور کرناٹکا کے سابق  وزیراعلیٰ سدرامیا کے خصوصی میڈیا مشیر مسٹر دنیش امین مٹّو مہمان خصوصی کے طور پر تشریف فرما ہوں گے۔