عید الفطر کے پیش نظر بھٹکل رمضان بازار میں عوام کا ہجوم؛ پاس پڑوس کے علاقوں کے لوگوں کی بھی خاصی بڑی تعداد خریداری میں مصروف

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 12th June 2018, 12:27 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 12/جون (ایس او نیوز)  عیدالفطر کے لئے بمشکل تین دن باقی رہ گئے ہیں اور بھٹکل رمضان بازار میں لوگوں  کی ریل پیل اتنی بڑھ گئی ہے کہ پیر رکھنے کے لئے جگہ نہیں ہے۔ عید کی تیاری میں مشغول مسلمان ایک طرف کپڑے، جوتے اور  دیگر اشیاء  کی خریداری میں مصروف ہیں تو وہیں رمضان بازار میں گھریلو ضروریات کی ہر چیز دستیاب ہونے کی بنا پر غیر مسلم لوگ بھی  کثیر تعداد میں اس مارکٹ میں اُمڈ پڑے ہیں۔ دیکھا جائے تو بھٹکل کا رمضان بازار ہندو۔مسلم اتحاد کی ایک مثال پیش کررہا ہے جہاں  دونوں فرقہ کے لوگ کثیر تعداد میں ایک ساتھ خریداری کرتے ہوئے دیکھے جارہے ہیں۔

بھٹکل کے ساتھ ساتھ پڑوسی علاقوں منکی، مرڈیشور، ہوناور، کمٹہ، انکولہ، کاروار، اُڈپی، کنداپور، گنگولی ، بیندور،شیرور وغیرہ سے بھی لوگ کثیر تعداد میں اس بازار میں خریداری کے لئے پہنچ رہے ہیں اور اپنی پسند کی خریداری کرتےہوئے نظرآرہے ہیں۔

رمضان بازار میں  ریڈی میڈ ملبوسات، جوتے، چپل ، بیگس، نقلی زیورات سمیت پلاسٹک اور اسٹیل کے برتن، بچوں کے کھلونے، گھروں میں استعمال ہونے والے کارپیٹ اور ہر وہ چیز دستیاب ہے جو گھریلو اور روز مرہ کی ضروریات میں  شامل ہیں۔

رمضان بازار، رمضان کے آخری عشرہ میں بھٹکل اولڈ بس اسٹائنڈ سے  ماری کٹہ کے آخر تک سجایا جاتا ہے،  اس بازار سے نہ صرف عوام کو سستی قیمتوں میں  ضروریات کی ہر چیز  حاصل ہوتی ہیں ، بلکہ رمضان کے آخری دس دنوں میں  باکڑہ والوں کو بھی لاکھوں کا منافع ہوتا ہے، ان سب سے بڑھ کر  بھٹکل میونسپالٹی  بھی ان باکڑوں سے خاصا منافع حاصل کرتی ہے۔

خیال رہے کہ بھٹکل میونسپالٹی  رمضان  باکڑوں کی پہلے نشاندہی کرکے مارکنگ  کرتی ہے، جس کے بعد عوام الناس سے رمضان باکڑہ کے لئے درخواستیں طلب کرتی ہیں۔  ہر درخواست  کے ساتھ پچاس روپئے فیس   وصول کیا جاتا ہے، جبکہ  دس دن کے لئے باکڑہ کا کرایہ  2500 روپیہ الگ سے  وصولا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ قریب دس سال قبل جب میونسپالٹی نے ان باکڑوں کو اپنے  اختیار میں لے کر شروعات کی تھی تو اُس وقت  باکڑوں کا کرایہ صرف 500 روپیہ تھا۔

امسال  جملہ 70 باکڑوں کی نشاندہی کی گئی تھی جس کے لئے 1261 درخواستیں میونسپالٹی کو موصول ہوئیں۔ 70 باکڑوں  میں سے  21 باکڑے  اُن دکانداروں کو دی گئی جن کے باہر یہ باکڑے لگے ہیں، دو باکڑوں کو پولس  بندوبست کے لئے مختص کیا گیا، جبکہ ایک باکڑہ  معذور کے لئے  ریزرو  تھا ۔ اس طرح  جملہ 48 باکڑوں کے لئے  قرعہ اندازی کی گئی اور جن کے نام پر قرعہ لگا، اُن لوگوں کو باکڑے تقسیم کئے گئے۔

بارش سے مایوسی،  پھر راحت :   گذشتہ جمعرات سے تین دنوں تک ہوئی موسلادھار بارش سے  لوگوں کا گھروں سے نکلنا دوبھر ہوگیا تھا اور عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی تھی،  ایسےمیں بازاروں میں خریداروں کو نہ دیکھ کر باکڑا والوں کو خاصی مایوسی ہوئی تھی اور انہیں لگ رہا تھا کہ اس بار کاروبار میں خاصا گھاٹا ہوگا، مگر  بارش رُکتے ہی اتوار شام سے  ہزاروں لوگوں کا ہجوم  رمضان بازار میں اُمڈ پڑا، جس کے بعد باکڑا والوں نے راحت کی سانس لی۔ پھر بھی باکڑا والوں کا خیال ہے کہ اس بار اتنا زیادہ بزنس نہیں ہوا ہے جتنا  گذشتہ سال ہوا تھا۔ ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے   کپڑوں کے ایک دکاندار ذیشان  علی اکبرا  نے بتایا کہ  گذشتہ سال  کے مقابلے میں اس بار اتنے دنوں میں پچاس فیصد کا بھی بزنس نہیں ہوا ہے، ان کو لگتا ہے کہ  لوگ خریداری کے لئے کم اور بازار گھومنے کے لئے زیادہ آتے ہیں۔ ایک اورریڈی میڈ کپڑوں کے بیوپاری عبدالسمیع میڈیکل کا بھی یہی کہنا ہے کہ  گذشتہ سالوں کے مقابلے میں اس بار بزنس کافی کم ہے، ان کے مطابق بھٹکل کے کافی لوگ گلف ممالک سے واپس  لوٹنے کی وجہ سے لوگوں کے پاس زیادہ پیسہ نہیں ہے، انہوں نے مودی حکومت کی نوٹ بندی، جی ایس ٹی جیسے قانون کو بھی بیوپار پر برا اثر پڑنے کا ذمہ دار ٹہرایا۔البتہ دونوں بیوپاریوں نے  توقع ظاہر کی کہ اب چونکہ بھٹکل میں بارش رُک گئی ہے، لوگ گھروں سے نکل کر رمضان بازار کا رُخ کررہے ہیں تو پوری اُمید ہے کہ اگلے تین دنوں میں کافی اچھا بزنس ہوگا۔

ایک نظر اس پر بھی

بے کار پڑا ہے بھٹکل بندر پر پینے کے صاف پانی کا مرکز۔ 12لاکھ روپے کا تخمینہ۔ ادھورا پڑا ہے منصوبہ

بھٹکل تعلقہ کے ماوین کوروے علاقے میں واقع بندرگاہ پر پینے کے صاف پانی کا ایک مرکز 12لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع ہوئے دو سال کا عرصہ گزرچکا ہے۔ ٹھیکے دار کی غفلت اور افسران کے کاہلی کی وجہ سے ابھی تک یہ منصوبہ پورا نہیں ہوا ہے اور عوامی استعمال کے لئے دستیاب ...

ہائی اسکول او رکالجوں کے امتحانات مقررہ وقت پر ہوں۔سرسی میں اے بی وی پی نے دیا میمورنڈم

ریاستی سرکار کی طرف سے ابھی تک وزیر تعلیم کا قلمدان کسی کو نہ دینے اور طلبہ کی تعلیمی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے اراکین نے تحصیلدار کی معرفت میمورنڈم دیا اورمطالبہ کیا ریاست کے پرائمری اور سیکنڈری محکمہ تعلیمات کو تباہ ہونے سے ...

کاروار: کائیگا اٹامک اینرجی پلانٹ توسیعی منصوبہ۔ عوامی اجلاس ملتوی کرنے کے لئے دیا گیا میمورنڈم

کائیگا میں واقع جوہری توانائی کے مرکز میں مزید دو نئے یونٹس قائم کرنے کا جو منصوبہ زیرغور ہے اس کے سلسلے میں عوامی شکایات اور احوال جاننے کے لئے 15دسمبر کو عوامی اجلاس منعقد ہوناطے تھا۔ لیکن سابق رکن اسمبلی ستیش سائیل کی قیادت میں عوام کی طرف سے ایڈیشنل ڈی سی ڈاکٹر سریش ایٹنال ...

کاروار میں 22اور23دسمبر کومنعقد ہوگا روزگار میلہ

کاروار رکن اسمبلی روپالی ایس نائک کی قیادت میں 22اور23دسمبر کو ایک زبردست روزگار میلہ منعقد کیا جائے گا، جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے 106کمپنیوں کے نمائندے حصہ لیں گے۔توقع کی جارہی ہے کہ تقریباً5300بے روزگار نوجوان اس میلے سے فائدہ اٹھائیں گے ۔

بھٹکل میں آدھا تعلیمی سال گزرنے پر بھی ہائی اسکولوں کے طلبا میں نہیں ہوئی شو ز کی تقسیم  : رقم کا کیا ہوا ؟

آخر اس  نظام ،انتظام کو کیا کہیں ،سمجھ سے باہر ہے! تعلیمی سال 2018-2019نصف گزر کر دو تین مہینے میں سالانہ امتحان ہونے ہیں۔ اب تک بھٹکل کے سرکاری ہائی اسکولوں کو سرکاری شو بھاگیہ میسر نہیں ، نہ کوئی پوچھنے والا ہے نہ  سننے والا۔شاید یہی وجہ ہے کہ محکمہ تعلیم شو، ساکس کی تقسیم کا ...

سوشیل میڈیا اور ہماراسماج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (از: سید سالک برماور ندوی)

اکیسویں صدی کے ٹکنالوجی انقلاب نے دنیا کو گلوبل ویلیج بنادیا ہے۔ جدید دنیا کی حیرت انگیزترقیات کا کرشمہ ہے کہ مہینوں کا فاصلہ میلوں میں اورمیلوں کا،منٹوں میں جبکہ منٹ کامعاملہ اب سیکنڈ میں طےپاتا ہے۔

جیل میں بندہیرا گروپ کی ڈائریکٹر نوہیرانے فوٹو شاپ جعلسازی سے عوام کو دیا دھوکہ۔ گلف نیوز کا انکشاف

دبئی سے شائع ہونے والے کثیر الاشاعت انگریزی اخبار گلف نیوز نے ہیرا گولڈ کی ڈائرکٹر نوہیرا شیخ کی جعلسازی کا بھانڈہ پھوڑتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ    کس طرح اس نے فوٹو شاپ کا استعمال کرتے ہوئے بڑے بڑے ایوارڈ حاصل کرنے اور مشہور ومعروف شخصیات کے ساتھ اسٹیج پر جلوہ افروز ...

کہ اکبر نام لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔!ایم ودود ساجد

میری ایم جے اکبر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔میں جس وقت ویوز ٹائمز کا چیف ایڈیٹر تھا تو ان کے روزنامہ Asian Age کا دفتر جنوبی دہلی میں‘ہمارے دفتر کے قریب تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب وہ 2003/04 میں شاہی مہمان کے طورپرحج بیت اللہ سے واپس آئے تو انہوں نے مکہ کانفرنس کے تعلق سے ایک طویل مضمون تحریر ...