رام نگرم اسمبلی حلقہ سے چوتھی مرتبہ کامیابی درج کرانے والے کمار سوامی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th May 2018, 11:24 AM | ریاستی خبریں |

رام نگرم،16؍مئی (ایس او نیوز) رام نگرم اسمبلی حلقہ سے چوتھی مرتبہ ایچ ڈی کمار سوامی نے جیت درج کرائی ہے۔ 92,626 ووٹ حاصل کر کے کانگریس امیدوار اقبال حسین کو 22,636 ووٹوں کے فرق سے شکست دی ہے۔ کانگریس امیدوار اقبال حسین کو جملہ 69990 ووٹ ملے اور بی جے پی کی امیدوار لیلاوتی کو صرف 4871 ووٹ حاصل ہوئے۔ سابق وزیر اعلیٰ و جے ڈی ایس کے ریاستی صدر ایچ ڈی کمار سوامی نے 2؍اسمبلی حلقوں سے انتخاب لڑا تھا اور دونوں میں کامیاب ہوئے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ کس حلقہ کو اپنے پاس رکھیں گے اور کس حلقہ سے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیں گے۔رام نگرم اور چن پٹن اسمبلی حلقہ سے جیت درج کرانے والے کمار سوامی اگر چن پٹن حلقہ سے اسمبلی کی رکنیت کو استعفیٰ دیں گے کو سی پی یوگیشور کے جیت جانے کی امیدیں زیادہ ہیں اس لئے رام نگرم اسمبلی حلقہ سے اسمبلی کی رکنیت کو استعفیٰ دینے کے بارے میں غور کررہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے ساتھ اتحاد قائم کرکے کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت بنانے کی کوشش جاری ہے اور کمار سوامی کے وزیر اعلیٰ بننے کے آثار نمایاں ہیں۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کر کے رام نگرم اسمبلی حلقہ سے انیتا کمار سوامی یا پھر نکھل گوڈا کو انتخابی میدان میں اتار کر کامیاب بنانے کی باتیں بھی حلقہ میں گشت کررہی ہیں۔ رام نگرم اسمبلی حلقہ کو اپنی کرم بھومی اور یہاں کے ووٹروں کے ساتھ ماں بیٹے کا رشتہ ہونے کا اعلان کرتے آرہے کمار سوامی رام نگرم حلقہ سے دوری اختیار نہیں کریں گے۔ یہی امید حلقہ کے ووٹروں کی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کے والک آوٹ اور کافی ہنگامہ آرائی کے درمیان کرناٹکا کے وزیراعلیٰ کماراسوامی نے اپنی اکثریت ثابت کرتے ہوئے فلور ٹیسٹ میں پائی کامیابی

کرناٹک ودھان سبھا میں فلورٹیسٹ کے دوران  کافی ہنگامہ آرائی اور بی جے پی اراکین کے والک آوٹ کے درمیان  کرناٹک کے نو منتخب وزیراعلیٰ کماراسوامی نے  فلور ٹیسٹ میں اپنی اکثریت ثابت کردی۔  کانگریس۔جے ڈی ایس گٹھ بندھن کو 117 ووٹ پڑے۔اس کے ساتھ ہی اب کرناٹک میں سیاسی ڈرامے بازی ...

گوا میں اتحادی جز گووا فارورڈ پارٹی کی دھمکی

بی جے پی کی قیادت والی گووا حکومت کا ایک جز گووا فارورڈ پارٹی نے آج کہا ہے کہ اگر ریاست میں جاری موجودہ کان کنی کے بحران کا حل نہیں ہوا تو وہ اگلے لوک سبھا انتخابات میں زعفرانی پارٹی کی حمایت نہیں کرے گی۔