راہل گاندھی کے ذریعہ مسلم مسائل پربلائی گئی دانشوروں کی میٹنگ پرمسلم رہنماوں نےاٹھائےسوال

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th July 2018, 12:15 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی ،11؍جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) 2019 لوک سبھا انتخابات کی آہٹ کے ساتھ ہی انتخابی تیاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ ایک طرف لیڈران مختلف ریاستوں کا دورہ کرکے اپنی تنظیم کومتحرک کرنے اور پارٹی لیڈران وکارکنان کو متحد کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو دوسری طرف تمام طبقات کے لیڈران کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے ان سے ملاقات کرنے کا بھی سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

اسی ضمن میں کانگریس صدر راہل گاندھی نے آج مسلم دانشوروں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ طلب کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آج تقریباً 25۔20 مسلم رہنماوں کو مدعو کیا ہے، لیکن اس میٹنگ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں شامل ہونے والے ناموں کی فہرست کو پوری طرح سے خفیہ رکھا گیا ہے۔ کانگریس کی اس ملاقات پرمسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم سمجھی جانے والی آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر کے ذریعہ سب سے پہلے تنقید کی گئی ہے۔

مشاورت کے صدر نوید حامد نے کہا کہ میٹنگ کہیں بھی اور کسی سے بھی ہوسکتی ہے، لیکن اگر مسلم مسائل پر بات چیت کرنے کے لئے مسلم دانشوروں کی میٹنگ طلب کی گئی ہے اور اس میں اسلام کے خلاف بات کرنے والے لوگوں کو مدعو کیا گیا تو یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ جو مسلمانوں کے مسائل جانتے ہیں اور ان کی بات کرتے ہیں، مسلم مسائل پربات کرنے کے لئے انہیں بلایا جانا چاہئے۔

مجلس مشاورت کے صدرنوید حامد نے ٹوئٹ کرکے کہا ہے "مزے کی بات ہے کہ جاوید اختر جواسلام میں یقین نہ رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ راہل گاندھی کے ذریعہ مسلم مسائل پربات چیت کرنے کیلئے مسلم دانشوروں کی بلائی گئی میٹنگ میں شامل ہیں"۔

دوسری جانب سابق ممبرپارلیمنٹ محمد ادیب نے نیوز 18 اردو سے ٹیلیفونک بات چیت میں کہا کہ یہ اچھی کوشش ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان لوگوں سے مسائل حل ہوجائیں گے۔ کیا جن لوگوں کو بلایا گیا ہے، وہ لوگ مسلمانوں کی آواز ہیں یا آواز اٹھاتے ہیں؟ محمد ادیب نے یہ بھی کہا کہ جو نام سامنے آرہے ہیں، اس میں کئی لوگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے مخالف ہیں، جبکہ بورڈ مسلمانوں کی آواز ہے۔ اس لئے میرا ماننا ہے کہ کانگریس صدرراہل گاندھی کو کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس کے بارے میں جانکاری ہونی چاہئے۔

نوجوان لیڈر عمیق جامعی نے کہا کہ راہل گاندھی کی میٹنگ میں مسلم دانشور کے طور پر جاوید اختر اور شبنم ہاشمی کو بلایا جانا جو خود کو مسلمان نہیں مانتے، وہ کیا بات کریں گے۔ راہل گاندھی جو انتخابات کے وقت مسلمانوں کا نام لینے سے ڈرتے ہیں اور اب وہ مسلمانوں کے مسائل پر بات کرنے کے لئے خفیہ میٹنگ کرتے ہیں، اس میں چوری کیا ہے، اگر وہ مسلمانوں سے ملنا چاہتے ہیں تو وہ اتنی رازداری کیوں رکھ رہے ہیں؟

واضح رہے راہل گاندھی کے ذریعہ مسلم مسائل پر بات کرنے کے لئے بلائی گئی مسلم دانشوروں کی میٹنگ میں جاوید اختر، شبانہ اعظمی، سیدہ حمید ، شبنم ہاشمی، رعنا ایوب، زیڈ کے فیضان، ظفر محمود وغیرہ کو بلایا گیا ہے۔ اس میں مسلم تنظیموں کے رہنماوں اور مسلمانوں کی آواز اٹھانے والے کئی رہنماوں کو نہیں بلایا گیاہے، جس کی وجہ سے راہل گاندھی کی میٹنگ پر سوال کھڑے ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ سوال جاوید اختر، شبانہ اعظمی اور شبنم ہاشمی کے ناموں پر مخالفت کی جارہی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

رافیل جنگی طیارہ سودے کو لے کر راہول گاندھی نے کیا وزیر دفاع سے استعفیٰ کا مطالبہ

کانگریس صدر راہل گاندھی نے وزیر دفاع نرملا سیتا رمن پر رافیل جنگی طیارہ سودے کو لے کر لگا تار جھو ٹ بولنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے جھوٹ کی پول کھلتی جا رہی ہے اس لئے اب وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔

جیٹ ایئرویز کے سیفٹی آڈٹ کا حکم، پائلٹ صاحب  ہوا کا دباو کم کرنے والا سوئچ آن کرنا ہی بھول گئے

جیٹ ائیرویز کے طیارہ میں پائلٹ ٹیم کی غلطی کی وجہ سے مسافروں کی طبیعت بگڑنے کے معاملہ میں شہری ہوابازی کی وزارت نے ڈی جی سی اے کو ایئر لائن کا سیفٹی آڈٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ شہری ہوابازی کے وزیر سریش پربھو نے اس معاملہ میں جانچ کی ہدایت بھی دی ہے۔

تین طلاق پر آرڈیننس لانامودی حکومت کی ہٹ دھرمی اورمسلم خواتین کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش:مولانا اسرارالحق قاسمی

معروف عالم دین وممبر پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے تین طلاق پرمودی حکومت کے آرڈیننس لانے کے اقدام کوقطعی نامناسب اور ضدو ہٹ دھرمی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو موقر ایوان اور دستور کی کوئی پروانہیں ہے اور وہ آئندہ عام انتخابات کے پیش نظر مسلم خواتین کو گمراہ ...

بھساول ۔ناسک ٹاڈا مقدمہ؛ سرکاری گواہ کا پولس کی جانب سے لالچ دیئے جانے کا اعتراف؛ عرضداشت پر بحث مکمل، ۲۷؍ ستمبر کو ہوگا فیصلہ

24؍ سال پرانے بھساول۔ناسک ٹاڈا مقدمہ میں گذشتہ کل تیسر ے سرکاری گواہ کی گواہی عمل میں آئی جس کے دوران اس نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے مقرر کردہ دفاعی وکیل شریف شیخ کی جرح کی دوران اعتراف کیا کہ وہ اس معاملے میں پہلے ملزم تھا اور تحقیقاتی دستہ نے اس کا 164 اور 161 ...

طلاق دینے پر صرف مسلم مردوں کو سزاء کیوں؟ ہندومردوں کو سزاء کیوں نہیں؟ کویتا کرشنن کا سوال

ملک کی اپوزیشن جماعتوں اور سرگرم خاتون کارکنوں نے کل جبکہ حکومت ہند ’’ بیک وقت تین طلاق ‘‘ کو ایک تعزیری جرم قراردینے ‘ آرڈیننس جاری کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے‘ حکومت سے پوچھا ہے کہ ایسے ہندومَردوں کیلئے مذکورہ نوعیت کی دفعات کیوں نہیں بنائی گئیں جو اپنی بیویوں کو ...