انتخابات میں کانگریس کو کامیاب بنانے کیلئے حکمت عملی پر غور،راہول گاندھی کے ساتھ ریاستی قائدین کی تفصیلی بات چیت

Source: S.O. News Service | Published on 13th January 2018, 10:52 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،13؍ جنوری(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) ریاست کے اقتدار پر برقرار رہنے کانگریس کی حکمت عملی وضع کرنے اور آنے والے اسمبلی انتخابات کانگریس قائدین متحد ہوکر لڑنے کے سلسلے میں آج اے آئی سی سی صدر راہول گاندھی نے وزیراعلیٰ سدرامیا اور دیگر کانگریس قائدین کو ضروری ہدایات دی ہیں، اور تمام لیڈروں کو یہ سخت تاکید کی ہے کہ متحد ہوکر ان انتخابات کا سامنا کریں۔ دہلی میں اپنی رہائش گاہ پر اگلے انتخابات کے متعلق تبادلۂ خیال کیلئے طلب کی گئی کرناٹک کے لیڈروں کی میٹنگ میں راہول گاندھی نے بی جے پی اور جنتادل (ایس) کی طرف سے حکومت کو بدنام کرنے خاص طور پر بی جے پی کی طرف سے فرقہ واریت کو ہوا دینے کیلئے جو سازشیں رچی جارہی ہیں ان کا مقابلہ پوری ہوشمندی کے ساتھ جذبات میں آئے بغیر کرنے راہول گاندھی نے سدرامیا اور پرمیشور کو مشورہ دیا۔کسی بھی حال میں ترقی کے پلاٹ فارم پر چناؤ لڑکر اگلے انتخابات میں پارٹی کو اقتدار سے ہمکنار کرنے پر زور دیا گیا۔ پرمیشور اور سدرامیا کے علاوہ ریاست کے دیگر چند سیاسی قائدین بھی میٹنگ میں موجود رہے۔ راہول گاندھی نے لیڈروں سے کہاکہ ریاست میں ہر سطح کے قائد کو اعتماد میں لے کر پارٹی کو کامیاب بنانے کی کوشش کی جائے۔ انتخابات کے متعلق کسی بھی حلقہ سے ملنے والے مشوروں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دینے اور پیسہ پانی کی طرح بہانے بی جے پی کی حکمت عملی اور معلق اسمبلی کے قیام کی صورت میں سیاسی فائدہ اٹھانے جنتادل (ایس) کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے انہوں نے سبھی قائدین کو ابھی سے انتخابات کی تیاریوں میں لگ جانے کا مشورہ دیا۔ ریاستی حکومت کی طرف سے پچھلے پانچ سال کے دوران عوام کی فلاح وبہبود کیلئے جن اسکیموں کا نفاذ کیا گیا ان کی بڑے پیمانے پر تشہیر کرنے اور اس سے عوام کو ہونے والے فوائد سے بھی آگاہ کرانے پرزور دیتے ہوئے راہول گاندھی نے وزیراعلیٰ سدرامیا کو مشورہ دیا کہ انتخابی منشور میں اور بھی چند نئی نئی اسکیمیں شامل کی جائیں جس سے سماج کے کمزور اور مظلوم طبقات کو فائدہ پہنچ سکے۔ پارٹی اور لیڈروں پر عوام نے جو اعتماد کررہے ہیں اس کو اور مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے راہول گاندھی نے کہاکہ کرناٹک میں 150 سے زائد سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے کا بی جے پی نے جو دعویٰ کیا ہے اسے قطعاً پورا ہونے نہ دیا جائے۔ کل طلب کی گئی میٹنگ میں وزیراعلیٰ سدرامیا اور ڈاکٹر جی پرمیشور کے علاوہ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری انچارج برائے کرناٹک کے سی وینو گوپال، آسکر فرنانڈیز ، ڈی کے ہری پرساد ، وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج ، کے پی سی سی کارگذار صدور دنیش گنڈو راؤ ، ایس آر پاٹل اور دیگر موجود تھے۔ میٹنگ میں کے پی سی سی انتخابی مہم کمیٹی کے چیرمین ڈی کے شیوکمار موجود نہیں تھے۔ ان کے حلقہ میں پہلے ہی طے شدہ پروگرام کے سبب وہ حاضر نہیں ہوپائے۔27؍ جنوری سے راہول گاندھی کرناٹک کے سہ روزہ دورہ پر آرہے ہیں ، میٹنگ کے دوران دورہ کی تیاریوں پر بھی بات چیت کی گئی۔میٹنگ کے دوران کانگریس صدر نے ریاستی قائدین کو واضح اشارہ دے دیا کہ اگلے انتخابات میں عہدۂ وزیر اعلیٰ کیلئے سدرامیا پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔ دیوراج ارس کے بعد ریاست میں بحیثیت وزیراعلیٰ پانچ سال مکمل کرنے والے پہلے وزیر اعلیٰ بننے والے سدرامیا کو کانگریس کے بارسوخ لیڈروں میں شمار کیا جارہاہے۔ پچھلے ایک ماہ سے سدرامیا ریاست کے 120اسمبلی حلقوں کی یاترا پر تھے۔ آج سدرامیا نے اس یاترا کی پیش رفت اور اقتدار پر کانگریس کو برقرار رکھنے کیلئے ریاستی سطح پر ان کی جانب سے جو کوشش کی جارہی ہے اس کی جانکاری راہول گاندھی کو دی۔ عوام کی طرف سے سدرامیا کی یاتراکے دوران جو زبردست ردعمل ظاہر کیاگیا ہے اس کے بارے میں بھی سدرامیا نے راہول گاندھی کو رپورٹ پیش کی۔ اس کے بعد راہول گاندھی نے میٹنگ کے دوران واضح کردیا کہ اس بار انتخابات پارٹی سدرامیا کی قیادت میں ہی لڑے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

سائبر سیکورٹی کے نظام کو مستحکم کرنا ضروری 

دہشت گرداانہ حملوں اور سماج دشمن سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سائبر سیکورٹی قائم کی جارہی ہے جو کہ اس شعبے میں ہندوستان کی ایک اہم پیش رفت ہے۔

کیا شیرورمٹھ کے سوامی کی موت کثرت شراب نوشی اور ناجائز تعلقات کے نتیجے میں ہوئی ؟معاملہ کی تحقیقات اور جانچ کیلئے 7ٹیمیں تشکیل 

اُڈپی شرورمٹھ کے سوامی لکشمی ورتیرتھ سوامی جی کی مشتبہ حالات میں ہوئی موت پر انہیں قتل کیے جانے کاشبہ ظاہر کیاگیاتھا جس کے نتیجہ میں اڈپی ضلع ایس پی نے اس معاملہ کی ہر زاویہ سے جانچ کے لیے پولیس کی 7ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں ۔ شرور علاقہ میں یہ افواہیں بھی اڑائی جارہی ہیں کہ سوامی ...