الورموب لنچنگ سے ’’مودی کا سفاک نیو انڈیا‘‘ بے نقاب: راہل گاندھی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 24th July 2018, 12:08 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی،24؍جولائی (ایس اونیوز؍ایجنسی)   راجستھان کے الور میں موب لنچنگ کے تازہ واقعہ پر نریندر مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے آج کہا ہے کہ یہ واقعہ ’’مودی کے سفاک نیو انڈیا‘‘ کو بے نقاب کرتا ہے۔

اخباری رپورٹوں کے حوالے سے کہ پولس والوں نے پہلے گایوں کو پناہ گاہو ں میں پہنچایا اس کے بعد چائے پی، پھر کہیں جاکر اجتماعی تشدد کا شکار ہونے والے مظلوم کو اسپتال پہنچایا۔ راہل گاندھی نے ٹوئٹ کیا کہ کے الور کے پولس والوں نے موب لنچنگ کے شکار اکبر خان کو تین گھنٹے تک مرنے دیا۔ اس کے بعد اسپتال لے گئے جو صرف 6 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ اسپتا ل کے راستے میں وہ لوگ چائے پینے کے لئے کیوں رکے یہ مودی کے سفاک نئے ہندوستان کا نقشہ پیش کرتی ہے، جہاں انسانیت کی جگہ نفرت نے لے لی ہے اور لوگوں کو کچلا جارہا ہےاور پھر مرنے کے لئے چھوڑ دیا جارہا ہے۔ 28 سالہ اکبر خان کو جمعہ اور سنیچر کی رات الور کے رام گڑھ میں گائے اسمگل کرنے کے شبہ پر ایک بھیڑ نے مبینہ طور پر اتنا مارا کہ وہ جانبر نہ ہوسکا۔

راہل گاندھی کے اس ٹوئٹ کے بعد مرکزی وزیر برائے ریل پیوش گوئل نے  راہل گاندھی کو جواب دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ بس بہت ہوچکا آپ نفرت کے سوداگر ہیں۔ اسمرتی ایرانی نے لکھا ہے کہ راہل گاندھی کی فیملی نے 1984 میں بدترین قسم کے نفرت کی قیادت کی۔ بھاگلپور اور نیلی کے فسادات اور ایسے ہی دوسرے واقعات سے بھی انہوں نے گاندھی فیملی کو جوڑا اور کہا کہ اس طرح کی گھٹیا سیاست شرمناک ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

جے این یو طالب علم عمر خالد پر فائرنگ کے معاملے میں دو گرفتار

یوم آزادی سے دو دن پہلے راجدھانی کے انتہائی محفوظ علاقے پارلیمنٹ سے چند قدم کے فاصلے پر واقع کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا کے باہر سر عام جے این یو کے طالب علم عمر خالد پر جان لیوا حملے کے معاملے میں دہلی پولس کی اسپیشل سیل نے دو لوگوں کو حراست میں لیا ہے ۔

سیلاب متاثرین کی طرف بسکٹ پھینکنے پر وزیر تعمیرات عامہ ایچ ڈی ریونا تنازعے میں گھرگئے؛ کئی حلقوں میں شدید ناراضگی

ریاستی وزیر برائے تعمیرات عامہ ایچ ڈی ریونا کی طرف سے کورگ اور رامناتھ پورہ کے سیلاب زدگان کی راحت کاری مہم کے دوران متاثرین کی طرف بسکٹ پھینکے جانے کا معاملہ تنازعے کا سبب بنا ہوا ہے۔