رافیل پر بحث کیلئے راہل کا مودی کو چیلنج وزیراعظم کی مجرمانہ خاموشی سودے میں بڑے گھپلے کی عکاس۔حکومت مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے :کانگریس

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 3rd January 2019, 8:30 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی3جنوری (ایس او نیوز؍ پی ٹی آئی ) کانگریس صدر راہل گاندھی نے رافیل معاملہ پر وزیراعظم نریندرمودی کو کھلا چیلنج دیا ہے ۔ وہ مودی سے روبرو بحث کرنے کے خواہاں ہیں ۔ راہل نے کہاکہ مودی میں اتنی جرأت نہیں ہے کہ وہ ان سے بحث کرسکیں ۔

لوک سبھا میں چہارشنبہ کو رافیل پر بحث میں حصہ لینے کے بعد شام کو راہل گاندھی نے کانگریس ہیڈکوارٹر پر فوری طلب کردہ پریس کانفرنس میں وزیرخزانہ ارون جیٹلی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے اسلحہ جاتی نظام سے لیس رافیل کی قیمت 1600 کروڑ روپئے طے کی جب کہ کانگریس قیادت والی یوپی اے حکومت نے اسی طیارے کو اسلحہ جاتی نظام کے ساتھ 526 کروڑ روپئے میں خریدنے کی تجویز پیش کی تھی ۔ قبل ازیں آج ایوان میں کانگریس کے صدر نے رافیل معاملہ پر تیور مزید سخت کرلئے ۔

انہوں نے رافیل سودے میں بدعنوانی کا کھلا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے لئے وزیراعظم مودی کو ذمہ دار قرار دیا ۔ پریس کانفرنس میں یہ واضح ہوگیا کہ وہ وزیراعظم سے اس معاملہ میں باقاعدہ ’’دودو ہاتھ‘‘ کرناچاہتے ہیں۔ راہل نے کہاکہ ’’صرف 20 منٹ کے لئے وزیراعظم ان کے سامنے بیٹھ جائیں اور رافیل پر بحث کرلیں ۔‘‘قبل ازیں کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے رافیل طیارہ سودے میں بڑے گھپلہ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی خریداری کے لئے مقررہ طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا ہے اور126طیاروں کی جگہ صرف36طیاروں کی خریداری کی منظوری دے کر سلامتی سے کھلواڑ کیا گیا ہے ۔راہل گاندھی نے چہارشنبہ کو لوک سبھا میں زبردست ہنگامے کے درمیان ضابطہ193کے تحت رافیل سودے پر ہوئی بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس خریداری سے متعلق الزامات کا کبھی کوئی جواب نہیں دیا ہے ۔

رافیل گھپلہ سے متعلق معاملے میں ہر روز نئے نئے انکشافات ہورہے ہیں لیکن مودی حکومت اس سلسلے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ وزیر اعظم نے اسی ایوان میں گذشتہ مرتبہ طویل تقریر کی تھی لیکن رافیل سودے پر ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا۔کانگریس صدر نے کہا کہ ابتدا میں اس سودے کے سلسلے میں انہیں محسوس ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے لیکن جیسے جیسے وقت گذرا اور اس سے متعلق پرتیں کھلتی گئیں تو صاف ہوگیا کہ صرف دال میں ہی کچھ کالا نہیں ہے بلکہ پوری کی پوری دال ہی کالی ہے ۔ انہوں نے اسے بہت بڑا گھپلہ بتایا اور کہا کہ اسکی جانچ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی(جے پی سی) سے کرائی جانی چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے ۔راہل گاندھی نے کہا کہ اس سودے کے سلسلے میں بھی مودی پر صرف انگلی ہی نہیں اٹھ رہی ہے بلکہ یہ صاف ہوگیا ہے کہ انہوں نے اس سودے میں بڑا گھپلہ کیا ہے ۔

انہوں نے دفاعی خریداری سے متعلق تمام ضابطوں کی خلاف ورزی کی ہے اور اکیلے فرانس جاکر پرانے سودے کو بدلا ہے ۔ سودے کے وقت ان کے ساتھ اس وقت کے وزیر دفاع بھی نہیں تھے ۔ ان کے ساتھ گئے وفد میں ایک صنعت کار تھا۔ جس کے پاس زمین بھی نہیں تھی اور اس نے رافیل سوداہونے کے صرف دس دن پہلے وہ کمپنی بنائی جسے یہ ٹھیکہ دیا گیا۔انہوں نے اس سودے سے متعلق معاملے پر ایک آڈیو چلانے کی کوشش کی تو پورے ایوان میں زبردست ہنگامہ شروع ہوگیا۔ حزب اقتدار کے اراکین نے اس کی زبردست مخالفت کی او راسپیکر سمترا مہاجن نے انہیں آڈیو چلانے سے سختی سے منع کیا۔ انہوں نے آڈیوکو اپنے الفاظ میں بولنا چاہا لیکن اسپیکر نے اس کی بھی اجازت نہیں دی اور ان کا مائک بند کردیا۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے جب ٹیپ چلانے کے معاملے پر مراعات خصوصی کا معاملہ اٹھایا تو اسپیکر نے سخت لہجے میں کہا کہ کچھ بھی ریکارڈ میں نہیں جائے گا۔

ارون جیٹلی کا رد عمل: وزیر مالیات ارون جیٹلی نے کانگریس کی قیادت پر بدعنوانی میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے رافیل کے تعلق سے لوک سبھا میں جو کچھ کہا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انھیں ان طیاروں کی کوئی سمجھ نہیں ہے ۔لوک سبھا میں ضابطہ193کے تحت رافیل سودے پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسٹر جیٹلی نے چہارشنبہ کے روز کانگریس پر سخت حملہ کیا اور کہا کہ اس سلسلے میں جو الزامات ایوان میں کانگریس کے رہنما نے عائد کیے ہیں، وہ بے بنیاد ہیں۔ انھیں امید تھی کہ جب کانگریس رافیل سودے پر ایوان میں بحث کا مطالبہ کر رہی ہے تو شاید کچھ نئی بات کانگریس رہنما کہیں گے لیکن انھیں مایوسی ہوئی کہ کانگریس کے صدر کو یہ سمجھ نہیں ہے کہ رافیل طیارہ ہے کیا۔انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر الزام عائد کیا کہ کانگریس کے ایک خاندان کے پاس محض بد عنوانی کرنے کی سمجھ ہے ۔ پیسے کیسے بنانے ہیں، اس ترکیب میں انھیں مہارت حاصل ہے ۔

انہوں نے نیشنل ہیرالڈ کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ یہ ایک ٹرسٹ تھا لیکن؛ اس خاندان نے اس ٹرسٹ کو ذاتی اثاثہ مان لیا اور خاندان کے افراد بدعنوانی کے معاملے میں ضمانت پر ہیں۔مسٹر جیٹلی نے کہا کہ اس خاندان پر تین تین بار بدعنوانی کے الزامات لگے ہیں۔ بو فورس، اگستا اور نیشنل ہیرالڈ میں بدعنوانی کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار بدعنوانی کی ہو تو اسے شبہے کا فائدہ دیا جا سکتا ہے ، کیونکہ غلطی ایک بار ہو سکتی ہے ۔ دوسری بار اتفاق ہو سکتا ہے لیکن اگر تیسری بار بھی غلطی ہوئی تو یقیناً یہ ایک سازش ہے اور کانگریس کا یہ خاندان بد عنوانی کی سازش میں ہمیشہ شامل رہا ہے ۔

انا ڈی ایم کے اراکین کے ہنگامہ کی وجہ سے راہل گاندھی نے دوسری سیٹ سے بولنے کی اجازت مانگی او ر وہاں سے جب انہوں نے ریکارڈ کے کچھ حصے پڑھنے کی کوشش کی تو اسپیکر نے ان کا مائک بند کردیا۔ایک صنعت کار پر رافیل سودے کا فائدہ اٹھانے کا الزام لگاتے ہوئے راہل گاندھی نے جب صنعت کار کا نام لیا تو اسپیکر نے اس پر بھی سخت اعتراض کیا ۔ جس کے بعد کانگریس اراکین ہنگامہ کرنے لگے ۔ انا ڈی ایم کے ، حزب اقتدار اور اپوزیشن کے ہنگامے کودیکھتے ہوئے اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دس منٹ کے لئے ملتوی کردی ۔ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو انا ڈی ایم کے کے اراکین پھر ایوان کے درمیان آگئے ۔ ہنگامے کے درمیان راہل گاندھی نے اپنی تقریر جار ی رکھتے ہوئے سوال کیا کہ پانچ سو کروڑ روپے کے طیارے کو سولہ سو کروڑ روپے میں کیوں خریدا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ مودی نے کل اپنا ڈیڑھ گھنٹے کا انٹرویو دیا لیکن اس سودے کے بارے میں کچھ نہیں بولا ۔جب کہ پورا ملک ان سے اس کی اصلیت جاننا چاہتا ہے ۔کانگریس صدر نے کہا کہ حکومت کو بتانا چاہئے کہ 126کی جگہ36 طیاروں کی خریداری کو کس نے او رکیوں منظوری دی ۔

انہیں اس سوال کا بھی جواب دینا چاہئے کہ پبلک سیکٹر کی کمپنی ایچ اے ایل سے یہ سودا ہٹا کر ایک نجی اور ناتجربہ کار کمپنی کو کیوں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایچ اے ایل نے کئی اہم طیارے بنائے ہیں اور اس کے رول کو ملک سمجھتا ہے لیکن مودی حکومت نے اس کی اہمیت کو نظر انداز کیوں کیا ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی

چوکیدارکا ٹھپہ نہیں چاہتی پرائیویٹ سیکورٹی انڈسٹریز

قریب 80 لاکھ پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز والی انڈسٹری وزیر اعظم نریندر مودی کے ’چوکیدار‘ مہم سے بہت حوصلہ افزاء نہیں ہے، البتہ وہ اپنی بہت مشکلات کو لے کر خود مرکزی حکومت سے لڑ رہی ہے۔سیکورٹی سروسز پر 18فیصد جی ایس ٹی کے خلاف برسرپیکار رہی کمپنیاں اب حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام لگا ...

بورڈنگ پاس پر مودی کی تصویر پر تنقید کے بعد ایئر انڈیا نے انہیں واپس لیا

ایئر انڈیا نے تنقید کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور گجرات کے وزیر اعلی وجے روپانی کی تصاویر والے بورڈنگ پاس واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ایئر لائنز نے پہلے کہا تھا کہ تصاویر والے بورڈنگ پاس تیسری پارٹی کے اشتہارات کے طور پر جاری کئے گئے اور اگر یہ مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ...

دہلی میں خدمات پر کنٹرول کے معاملے پر فیصلے کیلئے وسیع بنچ بنائے عدالت عظمی: آپ حکومت

قومی راجدھانی دہلی میں انتظامی خدمات پر کنٹرول کے معاملے پر جلد فیصلہ لینے کے لیے آپ حکومت نے پیر کو سپریم کورٹ سے ایک وسیع بنچ قائم کرنے کی درخواست کی۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس دیپک گپتا کی بنچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا گیا تو بنچ نے آپ حکومت کے وکیل سے کہا کہ اس پر غور ...

عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں گوتم کھیتان اور تین دیگر کو طلب کیا

دہلی کی ایک عدالت نے منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں ای ڈی کی طرف سے چارج شیٹ داخل کئے جانے کے بعد پیر کو وکیل گوتم کھیتان، ان کی بیوی ریتو اور دو کمپنیوں اسمیکس اور ونڈفور کو طلب کیا۔خصوصی جج اروند کمار نے چاروں ملزمان کو چار مئی کو پیش ہونے کے لئے کہا ہے

سبرامنیم سوامی بولے: میں برہمن ہوں، چوکیدار نہیں ہو سکتا

کانگریس کی جانب سے 'چوکیدار چور ہے" کا نعرہ اچھالے جانے کے جواب میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے " میں بھی چوکیدار ہوں' کیمپین شروع کیا۔ اس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کے تقریبا سبھی لیڈران نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹویٹر پر اپنے نام کے آگے 'چوکیدار' لفظ لگایا لیا۔