بینکاری گھوٹالے پر راہل گاندھی کا براہ راست ارون جیٹلی پر حملہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th March 2018, 11:00 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی12مارچ (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) ملک میں بینکاری اسکینڈل پر سیاست سے لے کر عام آدمی کے درمیان تک بحث ہے۔ اپوزیشن مودی حکومت پر حملہ آور ہے اور پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔ حکومت جہاں اس گھوٹالے سے پلہ جھاڑ رہی ہے اور کانگریس کی قیادت میں بنی یو پی اے کی حکومت پر ٹھیکرا پھوڑ رہی ہے تو وہیں اپوزیشن بلا روک ٹوک اس گھوٹالے کے لئے مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرارہی ہے۔اب کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے باضابطہ ٹوئٹر ہینڈل پر ایک خبر کا اشتراک کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ہے کہ پی این بی گھوٹالے پر وزیر خزانہ کی خاموشی سے صاف ہے کہ وہ اپنی وکیل بیٹی کو بچانا چاہ رہے تھے۔ اس ٹویٹ میں الزام لگایا ہے کہ ان کی بیٹی کو ملزم نے ایک ماہ پہلے ہی بڑی رقم دی تھی۔ یہ رقم گھوٹالے کے عوامی ہونے کے ایک ماہ پہلے ہی دی گئی تھی۔ اس ٹویٹ میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ جب ملزم سے منسلک باقی قانونی فرم پر سی بی آئی نے چھاپہ مارا تو اس قانونی فرم کو کیوں چھوڑ دیا گیا۔ اس ٹویٹ کے ساتھ #ModiRobsIndia ہیش ٹیگ بھی کیا گیا ہے ۔واضح ہو کہ پی این بی بینک اور دیگر بینکوں کے حکام سے ملی بھگت کر کے کچھ بڑے کاروباریوں نے قوانین کو نظر انداز کر بینکوں سے لون لیا اور اس کے پیسے کو واپس نہیں کیا۔ پی این بی بینک نے تسلیم کیا ہے کہ کچھ لوگوں کی ملی بھگت سے کچھ کھاتہ ہولڈروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے یہ گھپلا کیا گیا ہے۔ بینک کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس لین دین کی بنیاد پر ایسا لگتا ہے کہ دوسرے بینکوں نے بھی بیرون ملک بھی ان گاہکوں کو ایڈوانس دیئے ہیں یعنی دوسرے بینکوں پر بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کا اثر ابھی تک یہ ہوا ہے کہ بینکاری سیکٹر سے منسلک حصص میں کمی چلی آ رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پانچ فروری کو سی بی آئی نے ڈائمنڈ کاروباری نیرو مودی، ان کی بیوی، بھائی اور ایک تجارتی پارٹنر کے خلاف سال 2017 میں پی این بی کے ساتھ 280.70 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کا معاملہ درج کیا تھا۔ پی این بی کی شکایت پر سی بی آئی نے نیرومودی، ان کے بھائی نشال، بیوی ایمی اورمیہول چونا بھائی چوکسی نے بینک حکام کے ساتھ سازش کرکے بینک کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے اور اس غلط طریقے سے نقصان پہنچنے کا کیس درج کیا گیا ہے۔ سی بی آئی نے مودی، ان کے بھائی نشال، بیوی ایمی اور میہول چوکسی کی رہائش گاہ پر چھاپہ ماری بھی کی تھی۔ ای ڈی نے پنجاب نیشنل بینک میں ہوئی 280 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کے سلسلے میں نیرومودی اور دیگر کے خلاف منی لانڈرگ کا معاملہ درج کیا ہے۔ یہ معاملہ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی ایف آئی آر کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ وزارت خزانہ نے پی این بی کے 11,500کروڑ روپے کے گھوٹالے کو لے کر ظاہر کئے جارہے خدشات کو مسترد کیا اور کہا کہ یہ معاملہ کنٹرول سے باہر نہیں ہے اور اس بارے میں مناسب کارروائی کی جا رہی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مالیگاؤں ۲۰۰۸ ء بم دھماکہ معاملہ،زخمیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی گواہی کا سلسلہ جاری، ڈاکٹر سعید فیضی نے گواہی بھتہ پبلک ویلفئر فنڈ میں عطیہ کردیا

مالیگاؤں ۲۰۰۸ ء بم دھماکہ معاملے میں خصوصی این آئی اے عدالت میں بم دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی گواہی بددستور جاری ہے جس کے دوران آج مالیگاؤں کے مشہور و سینئر ڈاکٹر سعید فیضی کی گواہی عمل میں آئی

دواؤں کا معیار اور نوجوانوں کو روزگار انتہائی اہم مسئلہ: پروفیسر عبداللطیف، آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس (اسٹوڈنٹس وِنگ) کی تشکیل

آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کی ایک میٹنگ آج ابن سینا اکیڈمی، دودھ پور، علی گڑھ میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت پروفیسر عبداللطیف (قومی نائب صدر، آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس، اکیڈمک وِنگ) نے کی۔ جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر سنبل رحمن (قومی صدر، آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس، خواتین ...

سکھ فسادات: میرے خلاف نہ کوئی ایف آئی آر اور نہ ہی چارج شیٹ، کمل ناتھ نے کہا،بی جے پی جھوٹ پھیلارہی ہے

مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے 1984 کے سکھ فسادات پر اٹھ رہے سوالوں پر جواب دیاہے۔کمل ناتھ نے کہاہے کہ 1984 کے سکھ فسادات میں ان کے خلاف کوئی بھی ایف آئی آر یا چارج شیٹ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اب اس مسئلے کواٹھانے کے پیچھے صرف سیاست ہے۔انہوں نے کہاکہ جس وقت میں کانگریس کا جنرل ...

بریلی: ایک ساتھ 58 ہندو، مسلم اور سکھ لڑکیوں کی شادی

اجتماعی شادیوں کے بارے میں تو آپ بہت سن لیں گے لیکن یوپی کے بریلی میں ایک منفرد شادی دیکھنے کوملی ہے۔بریلی میں منعقد ایک پروگرام میں ایک ساتھ ہندو، مسلم اور سکھ کمیونٹی کی غریب لڑکیوں کی شادی کرائی گئی۔ایک ساتھ جب گھوڑی پر بیٹھ کر 58 دولہا نکلے تو ہر کوئی اس منفرد بارات کو ...

1984-1993-2002فسادات: اقلیتوں کو نشانہ بنانے میں سیاسی رہنماؤں اور پولیس کی ملی بھگت تھی : ہائی کورٹ

دہلی ہائی کورٹ نے 1984سکھ مخالف فسادات معاملے کے فیصلے میں دوسرے فسادات کولے کر بھی بے حد سخت تبصرہ کیاہے ۔ جسٹس ایس مرلی دھر اور جسٹس ونود کوئل کی بنچ نے پیر کو سجن کمار کو فسادات پھیلانے اور سازش رچنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی ۔ کورٹ نے کہا کہ سال 1984 میں نومبر کے ...