رافیل سودا: سپریم کورٹ نے مرکز سے رافیل خریداری کی تفصیلات طلب کیں 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th October 2018, 9:38 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی ،10؍ اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) رافیل ڈیل پر جاری تنازعہ کو لے کر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے خریداری کے عمل کی مکمل تفصیلات مانگی ہے۔سپریم کورٹ نے مرکز سے سیل بند لفافے میں اس فیصلے کے عمل کی تفصیلات دینے کو کہا ہے جس کے بعد رافیل جیٹ کی خریداری کو لے کر فرانس کی کمپنی دیساایوی ایشن سے ڈیل ہوئی۔کورٹ نے کہا کہ مرکز 29 اکتوبر تک تفصیلات پیش کردے۔معاملے کی اگلی سماعت 31 اکتوبر کو ہوگی۔آپ کو بتا دیں کہ اپوزیشن رافیل جیٹ کی قیمتوں کو لے کر حکومت پر سنگین الزام لگا رہا ہے اور اسی کے تحت معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔حالانکہ بنچ نے واضح کیا ہے کہ وہ درخواستوں میں لگائے گئے الزامات کو ذہن میں نہیں رکھ رہا ہے۔رافیل سے متعلق درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے بغیر نوٹس جاری کئے مرکز سے یہ رپورٹ طلب کی۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس کول اور جسٹس ایس کے جوزف کی بنچ نے صاف کہا ہے کہ وہ ڈیفنس فورسز کے لئے رافیل طیاروں کی قیمت پر کوئی رائے کا اظہار نہیں کر رہے ہیں۔بنچ نے کہاکہ ہم حکومت کو کوئی نوٹس جاری نہیں کر رہے ہیں، ہم صرف فیصلہ سازی کے عمل کی قانونی حیثیت سے مطمئن ہونا چاہتے ہیں۔بنچ نے یہ بھی صاف کیا ہے کہ وہ رافیل ڈیل کے تکنیکی ڈٹیلس اور قیمت کے بارے میں معلومات نہیں چاہتا ہے۔وہیں، مرکزی حکومت نے رافیل ڈیل پر دائر کی گئی درخواستوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔مرکز نے دلیل دی کہ سیاسی فائدے کے لئے رافیل پرپی آئی ایل ایس دائر کی گئی ہیں۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ رافیل سودا قومی سلامتی سے منسلک ہے اور ایسے مسائل کی عدالتی جائزہ نہیں کیا جا سکتی ہے۔وہیں کانگریس لیڈر اور آر ٹی آئی کارکن تحسین پوناوالا نے رافیل سودے کے سلسلے میں دائر اپنی پٹیشن واپس لے لی ہے۔آپ کو بتا دیں کہ بنچ رافیل سودے کو لے کر دائر کئی درخواستوں پر سماعت کر رہی ہے۔سپریم کورٹ کی یہ ہدایت ایسے وقت میں آئی ہے جب وزیر دفاع نرملا سیتا رمن تین دن کے دورے پر آج رات فرانس کے لئے روانہ ہو رہی ہیں۔وزیر دفاع کا یہ دورہ فرانسیسی کمپنی دیس ایوی ایشن سے 36 رافیل طیاروں کی خریداری پر اٹھے تنازعہ کے پس منظر میں ہو رہا ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ سیتا رمن اپنے فرانسیسی ہم منصب فلورنس پارلی کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو گہرا بنانے کے طور طریقوں اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گی۔ ذرائع کے مطابق سیتا رمن58,000کروڑ روپے کے سودے کے تحت ہندوستانی فضائیہ کو دیسا کے ذریعہ سے 36 رافیل جیٹ طیاروں کی فراہمی کی پیش رفت کا جائزہ لیں گی۔آپ کو بتا دیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے پیرس میں 10 اپریل 2015 کو اس وقت کے فرانسیسی صدر فرانسوااولاند کے ساتھ بات چیت کے بعد 36 رافیل جیٹ طیاروں کی خریداری کا اعلان کیا تھا۔23 ستمبر 2016 کو حتمی طور پر یہ سودا پکا ہوا۔

ایک نظر اس پر بھی

مالیگاؤں ۲۰۰۸ ء بم دھماکہ معاملہ،زخمیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی گواہی کا سلسلہ جاری، ڈاکٹر سعید فیضی نے گواہی بھتہ پبلک ویلفئر فنڈ میں عطیہ کردیا

مالیگاؤں ۲۰۰۸ ء بم دھماکہ معاملے میں خصوصی این آئی اے عدالت میں بم دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی گواہی بددستور جاری ہے جس کے دوران آج مالیگاؤں کے مشہور و سینئر ڈاکٹر سعید فیضی کی گواہی عمل میں آئی

دواؤں کا معیار اور نوجوانوں کو روزگار انتہائی اہم مسئلہ: پروفیسر عبداللطیف، آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس (اسٹوڈنٹس وِنگ) کی تشکیل

آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کی ایک میٹنگ آج ابن سینا اکیڈمی، دودھ پور، علی گڑھ میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت پروفیسر عبداللطیف (قومی نائب صدر، آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس، اکیڈمک وِنگ) نے کی۔ جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر سنبل رحمن (قومی صدر، آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس، خواتین ...

سکھ فسادات: میرے خلاف نہ کوئی ایف آئی آر اور نہ ہی چارج شیٹ، کمل ناتھ نے کہا،بی جے پی جھوٹ پھیلارہی ہے

مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے 1984 کے سکھ فسادات پر اٹھ رہے سوالوں پر جواب دیاہے۔کمل ناتھ نے کہاہے کہ 1984 کے سکھ فسادات میں ان کے خلاف کوئی بھی ایف آئی آر یا چارج شیٹ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اب اس مسئلے کواٹھانے کے پیچھے صرف سیاست ہے۔انہوں نے کہاکہ جس وقت میں کانگریس کا جنرل ...

بریلی: ایک ساتھ 58 ہندو، مسلم اور سکھ لڑکیوں کی شادی

اجتماعی شادیوں کے بارے میں تو آپ بہت سن لیں گے لیکن یوپی کے بریلی میں ایک منفرد شادی دیکھنے کوملی ہے۔بریلی میں منعقد ایک پروگرام میں ایک ساتھ ہندو، مسلم اور سکھ کمیونٹی کی غریب لڑکیوں کی شادی کرائی گئی۔ایک ساتھ جب گھوڑی پر بیٹھ کر 58 دولہا نکلے تو ہر کوئی اس منفرد بارات کو ...

1984-1993-2002فسادات: اقلیتوں کو نشانہ بنانے میں سیاسی رہنماؤں اور پولیس کی ملی بھگت تھی : ہائی کورٹ

دہلی ہائی کورٹ نے 1984سکھ مخالف فسادات معاملے کے فیصلے میں دوسرے فسادات کولے کر بھی بے حد سخت تبصرہ کیاہے ۔ جسٹس ایس مرلی دھر اور جسٹس ونود کوئل کی بنچ نے پیر کو سجن کمار کو فسادات پھیلانے اور سازش رچنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی ۔ کورٹ نے کہا کہ سال 1984 میں نومبر کے ...