رافیل معاملہ: بسوجیت رانے نے کانگریس کے آڈیو کلپ کو ’ترمیم شدہ ‘ بتایا، جانچ کی مانگ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 3rd January 2019, 8:40 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،3 جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)گوا کے وزیر بسوجیت رانے نے رافیل سودا معاملے میں مرکزی حکومت کو گھیرنے کے لئے کانگریس کے آڈیو کلپ کو’ چھیڑ چھاڑ‘ والا قرار دیتے ہوئے بی جے پی صدر امت شاہ کو بدھ کو بتایا کہ انہوں نے ریاستی حکومت سے اس معاملے میں تحقیقات کا حکم دینے کے لئے کہا ہے۔شاہ کو لکھے گئے خط میں رانے نے کہا کہ اس رافیل معاملے پر انہوں نے کبھی کسی سے کوئی بات چیت نہیں کی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذرائع کے مطابق رانے نے کہا ہے کہ میں نے وزیر اعلی منوہر پاریکر کو ایک خط بھیج کر اس معاملے میں شرارتی عناصر کو بے نقاب کرنے کے لئے فوری طور پولیس اور فوجداری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔شاہ کو لکھے اپنے خط میں، رانے نے یہ بھی کہاکہ یہ ایک ترمیم شدہ آڈیو ہے اور میں نے اس موضوع پر کبھی کسی کے ساتھ کوئی بحث نہیں کی ہے۔رانے نے پاریکر کو لکھے گئے خط میں کہاکہ میں وزیر اعلی کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ کوئی شرارت کر رہا ہے۔اس معاملے میں جانچ ہونی چاہئے۔ایسے شرارتی عناصر کو گرفتار کیا جانا چاہئے۔

دراصل کانگریس نے بدھ کو پاریکر کے اس مبینہ دعوے پر وزیر اعظم نریندر مودی سے جواب مانگا تھا جس میں سابق وزیر دفاع نے کہا تھا کہ رافیل سودے کی ایک فائل ان کے پاس ہے اور اپوزیشن پارٹی نے یہ بھی پوچھا کہ کیا یہی وجہ ہے کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی جانچ کا حکم نہیں دیا جا رہا ہے۔غور طلب ہے کہ کانگریس کے اہم ترجمان رندیپ سنگھ سرجیوالا اپنے الزامات کی تصدیق کے لئے ایک ایسی بات چیت سامنے لائے ہیں جس نے مبینہ طور پر رانے اور ایک اور شخص کی آواز ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کا اُمیدوارکون ؟ راہول گاندھی، مایاوتی یا ممتا بنرجی ؟

آنے والے لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے کا اُمیدوار کون ہوگا اس سوال کا جواب ہرکوئی تلاش کررہا ہے، ایسے میں سابق وزیر خارجہ اور کانگریس کے سابق سنئیر لیڈر نٹور سنگھ نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ  اس وقت بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی ...

مدھیہ پردیش میں 5روپے، 13روپے کی ہوئی قرض معافی، کسانوں نے کہا،اتنی کی تو ہم بیڑی پی جاتے ہیں

مدھیہ پردیش میں جے کسان زراعت منصوبہ کے تحت کسانوں کے قرض معافی کے فارم بھرنے لگے ہیں لیکن کسانوں کو اس فہرست سے لیکن جوفہرست سرکاری دفاترمیں چپکائی جارہی ہے اس سے کسان کافی پریشان ہیں،