ڈاکٹر ابراہیم خلیل کو فوری بازیاب کرایا جائے: میڈیکل تنظیموں کا مطالبہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 31st December 2018, 12:35 PM | عالمی خبریں |

کوئٹہ31دسمبر ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )ڈاکٹر ابراہیم خلیل کی بیوی اور دیگر ڈاکٹروں نے مطالبہ کیا ہے کہ مغوی ڈاکٹر کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور اغواکاروں کے نیٹ ورک کے خلاف بھرپور کارروائی کر کے اُن کا قلع قمع کیا جائے۔

سول سنڈیمن اسپتال کوئٹہ میں ہفتے کو پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹرز ایکشن کمیٹی کے رہنما، پروفیسر ڈاکٹر ظاہر خان مندوخیل اور ڈاکٹر ابراہیم خلیل کی زوجہ کا کہنا تھا کہ اغوا کی اس واردات کے بعد تمام ڈاکٹروں کے خاندان کے افراد اور بچے سخت پریشان ہیں۔

اس موقع پر ڈاکٹر ابراہیم خلیل کی بیگم نے شکوہ کیا کہ اُن کے شوہر کی بازیابی کےلئے ابھی تک حکومت نے ''کوئی تسلی بخش اقدام نہیں کیا''۔

بقول اُن کے ''رات کو بھی میں ایک ذہنی مریض کی طرح پریشان رہتی ہوں۔ بچے مجھ سے اپنے ابو کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ میں آپ لوگوں کی طرف دیکھتی ہوں۔ اللہ کے بعد اگر مجھے کوئی سہارا ہے تو آپ لوگوں کا ہے۔ میں تاوان کی رقم ادا نہیں کرسکتی''۔

اُنھوں نے کہا کہ ڈاکٹر ابراہیم خلیل صاف ستھری زندگی گزارتے تھے اور صرف حکومت کی ملازمت کرتے تھے۔ اُنہوں نے کسی پرائیویٹ اسپتال میں کام نہیں کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ''میں اغواکاروں کو کہاں سے پیسے ادا کرونگی۔ اگر میں تاوان کی رقم ادا نہیں کرسکتی تو کیا میرے بچوں کو یتیم ہونا پڑیگا؟ کیا مجھے بیوہ ہونا پڑیگا؟ ہمارا قصور کیا ہے؟''

ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ابراہیم خلیل کی بازیابی کے لئے تشکیل دی گئی دونوں کمیٹیاں بھرپور طریقے سے اپنا کام کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر خلیل کے موبائیل فون کا ڈیٹا چیک کرنے سے پولیس کو کچھ شواہد ملے ہیں جن پر کام ہو رہا ہے اُمید ہے کہ ہم جلد اغواکاروں تک پہنچ جائیںگے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ ابھی تک پولیس کو اور نہ ہی ڈاکٹرخلیل کے اہل خانہ کو تاوان کی ادائیگی کے سلسلے میں کوئی کال موصول ہوئی ہے۔

بلوچستان میڈیکل ٹیچر ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر خلیل نے 'وائس آف امریکہ' سے گفتگو کے دوران کہا کہ ''اغوا کی اس واردات کے بعد تمام ڈاکٹروں اور اُن کے اہل خانہ میں خوف پایا جاتا ہے، کیونکہ ڈاکٹر اسپتال میں اور نہ ہی بازار کہیں محفوظ ہیں''۔

بقول اُنکے ''صوبہ بھر میں ڈاکٹروں کے جتنے خاندان اور عزیر و اقارب ہیں وہ خود ذہنی کیفیت سے دو چار ہیں کہ پتا نہیں ڈاکٹر اپنے گھر سے نکلے تو واپسی کی صورتحال کیا ہوگی۔ گھر پہنچ سکیں گے یا نہیں؟''

بلوچستان کے 33 میں سے 28 اضلاع کے ہیڈکوارٹرز میں سرکاری اسپتال قائم ہیں۔ لیکن، ان میں سے بیشتر اسپتالوں میں مناسب طبی سہولیات دستیاب نہیں ہوتیں۔

صوبہ بھر کے لوگوں کو مختلف ٹیسٹ کرانے کےلئے کوئٹہ آنا پڑتا ہے۔ مریضوں کے معائنے اور مختلف ٹیسٹ کےلئے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں 24 گھنٹے ڈاکٹر موجود رہتے ہیں، لیکن ڈاکٹروں کے اغوا کے واقعات کے بعد اب اُن کے خاندان کے افراد بھی اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کیا اپنا فرض ادا کرنے کے بعد ڈاکٹر اب صحیح سلامت گھر پہنچ سکیں گے یا نہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

2014 کے لوک سبھا انتخابات میں تمام ای وی ایم ہیک کئے گئے تھے: امریکن سائبر ایکسپرٹ کا دعویٰ؛ کیا ای وی ایم نے بی جے پی کو اقتدار دلایا ؟

 امریکہ میں مقیم ایک سائبر ماہر سید شجاع نے دعویٰ کیا ہے کہ   ہندستان میں    سال 2014میں ہوئےعام انتخابات میں استعمال کی گئی  الیکٹرونک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کو  ہیک کیا گیا تھا۔ 543 سیٹوں والے اس الیکشن میں بی جے پی کو282 سیٹوں پر شاندار کامیابی حاصل ہوئی تھی اور سن 1984 کے بعد پہلی ...

بنگلہ دیش انتخابات میں شیخ حسینہ کامیاب، اپوزیشن نے نتائج ماننے سے کیا انکار

خبر رساں اداروں کے مطابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکمران جماعت عوامی لیگ نے اتوار 30 دسمبر کو ہونے والے عام انتخابات میں اپوزیشن کے مقابلے میں بڑی برتری حاصل کر لی ہے اور حتمی نتائج میں عوامی لیگ کو کل 350 نشستوں میں سے 281 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

ایرانی حکومت ٹوئٹراستعمال کر رہی ہے مگر عوام کے لیے ممنوع ہے : امریکی سفیر

جرمنی میں امریکی سفیر رچرڈ گرینل کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت خود ٹویٹر کا استعمال کر رہی ہے مگر عوام کے لیے اس کا استعمال روکا ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی سے منسوب ٹویٹر اکاؤنٹ کھولے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی۔اگرچہ ایرانی میڈیا نے مذکورہ ...