قطر بحران 2018ء تک طول پکڑ سکتا ہے:حزب اختلاف

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 8th September 2017, 7:38 PM | خلیجی خبریں | عالمی خبریں |

دوحہ،8؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)خلیج کا سفارتی بحران 2018ء تک طول پکڑ سکتا ہے اور اس دوران میں قطر میں خوراک اور اشیائے ضروریہ کی قلت ہوجائے گی اور اس خلیجی ریاست میں سول بد امنی شروع ہوسکتی ہے۔یہ ایک خصوصی تحقیقی پیپر کا ماحصل ہے جو قطر : عالمی سلامتی اور استحکام کانفرنس کے منتظمین نے شائع کیا ہے۔یہ کانفرنس لندن میں 14ستمبر کو منعقد ہورہی ہے۔اس پیپر میں یہ کہا گیا ہے کہ اس بحران کے جلد خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل کے تین رکن ممالک سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین اور مصر نے پانچ جون سے قطر کا بائیکاٹ کررکھا ہے۔ان چاروں ممالک نے قطر پر دہشت گردی کی حمایت اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کا الزام عاید کیا تھا اور اس کو بائیکاٹ کے خاتمے کے لیے تیرہ شرائط پیش کی تھیں مگر اس نے یہ شرائط تسلیم نہیں کی ہیں۔اس مطالعے کے مطابق ان چاروں ممالک کے معاشی مقاطعے سے قطر میں نمایاں اقتصادی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور وہاں خوراک اور اشیائے ضروریہ کی قلت ہوچکی ہے۔سماجی افراتفری کے آثار نمودار ہورہے ہیں اور قطری سکیورٹی فورسز کی جبر واستبداد کی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

قطری حزب اختلاف کے ترجمان خالد الحائل نے کہا ہے کہ اس آزادانہ تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قطری عوام بائیکاٹ کے بعد کیسے مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔کانفرنس کے منتظمین کے مطابق لندن میں ہونے والے اس اجتماع میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی سیکڑوں نامور سیاسی شخصیات ، پالیسی ساز ، ماہرین تعلیم ، تبصرہ نگار اور قطری شہری شرکت کریں گے اور وہ قطر میں جمہوریت ،انسانی حقوق کی صورت حال ، پریس کی آزادی اور انسداد دہشت گردی ایسے موضوعات پر تبادلہ خیال کریں گے۔اس کانفرنس کا اہتمام قطر کی اصلاح پسند شخصیت الحائل اور دیگر متعدد اصلاح پسند قطریوں نے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس علاقائی بحران کا خاتمہ اور قطر کا مستحکم مستقبل چاہتے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

شارجہ میں ابناء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خوبصورت تقریب؛ یونیورسٹی میں میڈیکل تعلیم صرف 60 ہزار میں ممکن!

علی گڈھ مسلم یونیورسٹی جسے بابائے قوم مرحوم سر سید احمد خان نے دو سو سال قبل قائم کیا تھا آج تناور درخت کی شکل میں ملک میں تعلیم کی روشنی عام کررہا ہے۔اس یونیورسٹی میں میڈیکل کے طلبا کے لئے پانچ سال کی تعلیمی فیس صرف 60,000 روپئے ہے، حالانکہ دوسری یونیورسیٹیوں میں میڈیکل کے طلبا ...

متحدہ عرب امارات میں حفظ قرآن جرم، حکومت کی منظوری کے بغیر کوئی شخص قرآن حفظ نہیں کرسکتا، مساجد میں مذہبی تعلیم اور اجتماع پر بھی پابندی

مشرقی وسطیٰ کے مختلف ممالک میں داخل اندازی اور عرب کی اسلامی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد متحدہ عرب امارات قانون کے ایسے مسودہ پر کام کررہا ہے جس کی رو سے حکومت کی منظوری کے بغیر قرآن شریف کا حفظ بھی غیرقانونی ہوگا۔

سعودیہ میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی نکلی

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے واضح کیا ہے کہ اقامہ و محنت قوانین اور سرحدی سلامتی کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے 140 مما لک کے 758570 غیر ملکیوں نے شاہی مہلت سے فائدہ اٹھایا۔