بین الاقوامی سول ایوی ایشن تنظیم نے قطری درخواست مسترد کردی

Source: S.O. News Service | Published on 1st August 2017, 9:30 PM | خلیجی خبریں |

دبئی،یکم اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بین الاقوامی سول ایو ایشن آرگنائزیشن نے قطر کی جانب سے بائیکاٹ کرنے والے چار عرب ملکوں کی مذمت کے مطالبے پر مبنی درخواست مسترد کر دی ہے۔بین الاقوامی فضائی حقوق کی ضامن تنظیم ایکاؤ کا ایک اہم اجلاس گذشتہ روز ہوا جس میں قطر کی طرف سے دی گئی درخواست پر غور کیا گیا۔ اس درخواست میں ایکاؤ سے کہا گیا تھا کہ وہ چار عرب ممالک کی طرف سے قطر کے سفارتی اور اقتصادی بائیکاٹ کی مذمت کرے، تاہم تنظیم نے عرب ملکوں کی مذمت کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 1944ء کو قائم کی جانے والی اس تنظیم کے آرٹیکل 54 کے تحت رکن ممالک کی طرف سے دی کسی بھی درخواست پر غور کے لیے خصوصی اجلاس بلایا جاسکتا ہے۔ قطر اور اس کا بائیکاٹ کرنے والے چار رکنی عرب اتحاد اس تنظیم کا حصہ ہیں۔
گذشتہ روز ایکاؤ کے اجلاس میں سعودی عرب کی جانب سے سول ایو ایشن اتھارٹی کے چیئرمین عبدالحکیم بن محمد التمیمی کی قیادت میں ایک وفد نے شرکت کی۔اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے چیئرمین نے کہا کہ ایکاؤ سیاسی تنازعات اور تکنیکی امور کو الگ الگ انداز میں ڈیل کرتی ہے۔ تنظیم سیاسی نوعیت کے تنازعات میں غیر جانب دار ہے۔اس کے بعد قطری وزیر برائے فضائی نقل وحمل نے خطاب کیا جس میں انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین پر مشتمل اتحاد کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔قبل ازیں چاروں ملکوں نے قطر کے ساتھ نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے ہوائی جہازوں کو خلیج اور مصر کی طرف سے نو فضائی روٹس استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

عاسکر فرنانڈیز کریں گے منکی کو اڈوپٹ ؛ منکی کی بنیادی مسائل حل کرنے اور ترقیاتی کاموں کو انجام دینے اتحاد و ملن پروگرام میں اعلان

منکی کے ساتھ میرا خاص تعلق رہا ہے اور منکی والوں کے ساتھ بھی میرے ہمیشہ سے اچھے تعلقات رہے ہیں، شیرور کو میں نے اڈوپٹ کیا تھا اور اپنے فنڈ سے شیرور میں ترقیاتی کام کئے تھے، اب میں منکی کے بنیادی مسائل حل کرنے اور وہاں ترقیاتی کاموں کو انجام دینے منکی کو اپنے اختیار میں لے رہا ...

ولی عہد دبئی کی جانب سے’فٹ نس چیلنج‘ میں شرکت کی دعوت

متحدہ عرب امارات کی قیادت بڑے بڑے چیلنجز کا خود مقابلہ کرنے کے ساتھ مملکت کے عوام اور امارات میں مقیم شہریوں کو نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور انہیں زندگی کے ہرشعبے میں آگے نکلنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔