شام کی تعمیر نو کی جائے تاکہ مہاجرین وطن واپس آ سکیں: پوٹن

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 20th August 2018, 1:13 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن 19اگست (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ہفتے کے روز یورپ پر زور دیا کہ وہ شام کی تعمیر نو کے لیے مالی امداد میں حصہ لیں، تاکہ لاکھوں مہاجرین اپنے وطن واپس آسکیں۔

برلن میں اپنی ہم منصب، جرمن چانسلر آنگلہ مرخیل سے ملاقات سے قبل، اُنھوں نے کہا کہ ''شام کے تنازعے میں ہمیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی کوشش کو ٹھوس بنانے کی ضرورت ہے''۔

بقول اُن کے، ''اس سے میری مراد یہ ہے کہ شامی عوام کو درکار تمام ضروری امداد فراہمی کی جائے اور اُن علاقوں کی مدد کی جائے جہاں سے تعلق رکھنے والے افراد اس وقت بیرون ملک مقیم ہیں، تاکہ وہ وطن واپس آسکیں''۔

پوٹن نے کہا کہ اردن میں اس وقت دس لاکھ مہاجرین مقیم ہیں، اسی تعداد میں لبنان میں ہیں، جب کہ ترکی میں 30 لاکھ سے زائد مہاجرین رہ رہے ہیں۔

جرمنی نے سال 2015ء سے لاکھوں تارکین وطن قبول کیے، جس سال بے شمار لوگ ترک وطن کے بحران کا شکار ہوئے، جس معاملے پر آنگلہ مرخیل کی سیاسی ساکھ کمزور ہوئی اور یورپی یونین سے اُن کے تعلقات کشیدہ ہوئے۔

پوٹن نے کہا کہ ''ممکنہ طور پر یہ یورپ کے لیے ایک بہت بڑا بوجھ ہے''۔

اس لیے، اُنہوں نے مزید کہا کہ ''یورپ کو بڑھ چڑھ کر سب کچھ کرنا چاہیئے تاکہ تارکین وطن اپنے وطن واپس آ جائیں''۔

اس ضمن میں، پوٹن نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پانی کی رسد اور صحت عامہ کو بحال کیا جائے اور بنیادی ضروریات یقینی بنائی جائیں۔

مرخیل نے کہا کہ شام کی ترجیحات میں یہ بات شامل ہے کہ ''انسانی مشکلات میں اضافے سے احتراز کیا جائے''۔ تاہم، انہوں نے مزید تفصیل بیان نہیں کی۔

ایک نظر اس پر بھی

مذاہب کے ذریعے حصولِ امن ممکن: جرمن صدر اشٹائن مائر

بین الاقوامی کانفرنس 'مذاہب برائے امن‘ کے دوران اپنے افتتاحی خطاب میں جرمن صدر اشٹائن مائر نے کہا، ’’مذہبی اعتقاد زبردست امکانات کے حامل ہو سکتے ہیں۔ ایک قوت جس سے کوئی فرد اپنی پوری زندگی کو جہت دے سکتا ہے۔

ملائشیا:ذاکر نائک نے متنازع بیان پر معافی مانگ لی

ملائشیا میں، متنازع اسلامی مبلغ ذاکر نائک پرعوامی طور پرتقریر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ پولیس کے محکمہ مواصلات کے چیف اور سینئر اسسٹنٹ کمانڈر، داتوک اسماوتی احمد نے کہا، ہاں“ تمام پولیس دستوں کو ایسے احکامات دیئے گئے ہیں اور قومی سلامتی کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس ...