کریملین محل میں پوتین نے شاہ سلمان کو خود چائے پیش کی!

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 7th October 2017, 10:45 AM | خلیجی خبریں | عالمی خبریں |

ماسکو6اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے دورہ روس کے دوران روسی صدر ولادی میر پوتین نے مہمان نوازی کا حق ادا کیا ہے۔ انہوں نے تمام سرکاری پروٹوکول اور صدارتی روایات سے ہٹ کر کریملین صدارتی محل میں شاہ سلمان کو خود اپنے ہاتھ سے چائے پیش کی۔باقاعدہ ملاقات سے قبل خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان، روسی صدر ولادی میر پوتین اور ان کے ترجمان موجود تھے۔کریملین ہاؤس کی دیگر پیچیدگیوں میں مہمانوں کے ساتھ برتاؤ بھی شامل ہے۔ مگر صدر پوتین نے سرکاری پروٹوکول کو نظرانداز کرتے ہوئے شاہ سلمان کا خصوصی استقبال کیا۔ ایک چھوٹی میز پرشاہ سلمان، صدر پوتین اور ان دونوں کے درمیان ان کا مترجم ہی موجود تھا۔خیال رہے کہ شاہ سلمان گذشتہ روز روس کے سرکاری دورے پر ماسکو پہنچے تھے جہاں انہوں نے روسی صدر ولادی میر پوتین سمیت ملک کی اعلیٰ قیادت سیملاقات کی۔ دونوں ملکوں کے درمیان اربوں ڈالر کے معاہدوں کی منظوری دی گئی ہے۔روس اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں سنہ 1990ء کے بعد سے گرم جوشی آئی ہے۔ سنہ انیس سو نویکیبعد دونوں ملکوں کی قیادت کے دوروں نے دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کیا ہے۔

دنیا کے مشہور صدارتی محلات میں روس کا ’کریملین محل‘ بھی اپنی خاص شہرت رکھتا ہے۔ روسی زبان مین ’کریملین‘ کا قلعہ یا انتہائی محفوظ مقام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ کریملین محل کئی پرانے اورلکڑری محلات موجود ہیں۔ ایک پرانے محل کو اب میوزیم میں بھی تبدیل کردیا گیا ہے۔اسی کریملین محل میں روسی صدر نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ہمراہ آئے وفد کا استقبال کیا۔کریملین محل دارالحکومت ماسکو کے وسط میں تل بورفیٹسکی کے مقام پر واقع ہے۔ محل کے بائیں طرف دریائے موسکوا بہتا ہے۔سابق روسی بادشادہ آنجہانی ایون سوئم نے سنہ 1440ء سے 1505ء کے دوران روس پر حکومت کی۔ اس نے اس محل کی تیاری کے لیے روسی اور اطالوی معماروں کی خدمات حاصل کیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ محل روسی اور اٹلی دونوں تہذیبوں کے فن تعمیر کی ایک یادگار سمجھا جاتا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

عاسکر فرنانڈیز کریں گے منکی کو اڈوپٹ ؛ منکی کی بنیادی مسائل حل کرنے اور ترقیاتی کاموں کو انجام دینے اتحاد و ملن پروگرام میں اعلان

منکی کے ساتھ میرا خاص تعلق رہا ہے اور منکی والوں کے ساتھ بھی میرے ہمیشہ سے اچھے تعلقات رہے ہیں، شیرور کو میں نے اڈوپٹ کیا تھا اور اپنے فنڈ سے شیرور میں ترقیاتی کام کئے تھے، اب میں منکی کے بنیادی مسائل حل کرنے اور وہاں ترقیاتی کاموں کو انجام دینے منکی کو اپنے اختیار میں لے رہا ...

ولی عہد دبئی کی جانب سے’فٹ نس چیلنج‘ میں شرکت کی دعوت

متحدہ عرب امارات کی قیادت بڑے بڑے چیلنجز کا خود مقابلہ کرنے کے ساتھ مملکت کے عوام اور امارات میں مقیم شہریوں کو نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور انہیں زندگی کے ہرشعبے میں آگے نکلنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

اخوانی پروفیسروں پر سعودی یونیورسٹیوں کے دروازے بند،اخوانی نظریات سے دہشت گرد پیدا ہو رہے ہیں: ڈاکٹر سلیمان ابا الخلیل

سعودی عرب کی ایک بڑی دینی درس گاہ جامعہ الامام کے ڈائریکٹر اور سپریم علماء کونسل کے رکن ڈاکٹر سلیمان ابا الخلیل نے کہا ہے کہ یونیورسٹی نے اخوان المسلمون کے افکار سے متاثر تمام شخصیات سے معاہدے ختم کردیے ہیں۔