آصفہ ریپ اور مرڈر واردات کے خلاف کیرالہ میں غیر معلّنہ ہڑتال۔ موٹر گاڑیوں پر سنگ باری

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 16th April 2018, 6:24 PM | ساحلی خبریں | ملکی خبریں |

کاسرگوڈ 16؍اپریل (ایس اونیوز) جموں وکشمیر کے کٹھوا میں آصفہ کی اجتماعی عصمت دری اور وحشیانہ قتل کی مذمت میں باضابطہ طور پر ہڑتال کا اعلان یا مطالبہ کسی بڑی تنظیم یا پارٹی کی طرف سے نہ کیے جانے کے باوجود آج کیرالہ میں پوری طرح غیر معلنہ ہڑتال منائی گئی۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق بطور مذمت و احتجاج کیرالہ میں ہرجگہ دفاتر،دکانیں اور کاروباری ٹھکانے بند رہے۔ سڑکوں پر سے موٹر گاڑیاں غائب رہیں ۔ اس ہڑتال کے لئے ’جنا پرا سمیتی کیرالہ‘ کے نام سے وہاٹس ایپ سمیت دیگر سوشیل میڈیا پر پیغامات عام کیے گئے تھے۔جس سے عوام الجھن کا شکار ہوگئے تھے کہ اس پر عمل کیا جائے یا نہیں۔لیکن لوگوں نے احتیاطی طور پر موٹر گاڑیوں کو سڑکوں پر نہ اتارنے میں عافیت سمجھ لی ۔ اسی طرح بسیں بھی بند رکھی گئیں۔کچھ مقامات پر ٹریفک روکنے کے لئے بڑے بڑے پتھر ا،درختوں کی شاخیں، تنے ، ٹائرس، ڈرمس اور دیگر رکاوٹ پیدا کرنے والی چیزیں سڑکوں پر ڈال دی گئی تھیں۔بعض جگہوں پر ٹائرس جلانے اور سڑکوں پر نظر آنے والی گاڑیوں پر پتھراؤ کرنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ہائی وے پر گاڑیوں کو دوڑنے سے روکنے اور کیرالہ اسٹیٹ ٹرانسپورٹ بس پر سنگ باری کرکے اس کے شیشے چور چور کردینے کے معاملے بھی سامنے آئے ہیں۔

اتوار کی شام سے سوشیل میڈیا پر ہڑتال کے پیغامات عام ہورہے تھے ، چونکہ ہڑتال کا اعلان کرنے والی کسی تنظیم کا نام نہیں تھا، اس لئے پولیس نے بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔ لیکن جب اتوار کے آدھی رات کے بعدصبح تک موٹر گاڑیوں کی آمد ورفت روکنے کے واقعات پیش آنے لگے توپھر پولیس حرکت میں آگئی ۔ معلوم ہواہے کہ ٹریفک میں رکاوٹ پیدا کرنے کے الزام میں پولیس نے 25افراد کو اپنی حراست میں لیا ہے۔
بتایاجاتا ہے کہ اس اچانک ااور غیر متوقع ہڑتال سے عام لوگوں اور خاص کر مسافروں کو بڑی ہی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ دفاتر اور دیگر ادارے بند ہونے کی وجہ سے دفتری کام کے لئے دوردراز سے آنے والے افراد مشکل میں پھنس گئے۔ٹرینوں کے ذریعے بیرونی شہروں سے پہنچنے والے سینکڑوں مسافر وں کو ریلوے اسٹیشنوں تک ہی محدود رہنا پڑا کیونکہ انہیں اپنے اپنے گھروں تک جانے کے لئے کوئی سواری دستیاب نہیں تھی۔

پولیس نے صبح ہی سے اپنا بندوبست تیز کردیا اور حالات کو پرامن بنائے رکھنے کے لئے ضروری اقدامات کیے۔ جس کی وجہ سے کہیں سے بھی تشددیا تصادم کی خبریں نہیں ملی ہیں۔
 

ایک نظر اس پر بھی

اُڈپی میں بائک کو ٹکر دے کر فرار ہونے والے ٹمپو ڈرائیور پرچار سال بعد عدالت نے عائد کیا 2500 روپیہ جرمانہ

اُڈپی چیفسیویل جج اینڈ چیف میجسٹریٹ  فرسٹ کلاس عدالت نے  ایک ٹمپو ڈرائیور پر بائک کو  ٹکر دے کر فرار ہونے کے جرم میں 2500 روپیہ جرمانہ عائد کیا ہے اور رقم نہ بھرنے کی صورت میں اُسے چھ ماہ کی جیل کی سزا سنائی ہے۔

اُڈپی میں مویشیوں کے بیوپاری حُسین ابّا کے قتل کے معاملے میں گرفتار تین ملزموں کو ملی ضمانت؛ آٹھ کی ضمانت نامنظور

مویشیوں کے بیوپاری حُسین ابا کے قتل کے معاملے میں گرفتار دو لوگوں  پولس ہیڈ کونسٹیبل  موہن کوتوال اور بجرنگ دل لیڈر پرساد کونڈاڈی کی ضمانت عرضی کو    اُڈپی سیشن کورٹ نے  منظور کرلیا ہے اسی طرح ایک اورفرار شدہ بجرنگ دل کارکن  توکارام  کی  پیشگی ضمانت بھی منطور کرلی ہے۔

منگلورو کے قریب پُتور میں ہندو خاتون کی آخری رسومات ادا کرنے جب رشتہ داروں نے ساتھ چھوڑا تو آگے آئے مسلم نوجوان

منگلور میں ہندو۔مسلم بھائی چارہ کی شاندار مثال اُس وقت  دیکھنے کو ملی جب ایک  ہندو نوجوان کی52سالہ بہن کی دل کا دورہ پڑنے سے  موت واقع ہوگئی۔ان کی آخری رسومات کیلئے جب اُس کے رشتہ داروں نے منہ موڑا تو ایسے وقت میں مسلم نوجوان آگے آتے ہوئے اُس کی بھرپور مدد کی۔

بھٹکل کے ایک پٹرول پمپ میں پٹرول کی جگہ پانی بھرنے کی واردات کے بعد ایک گرفتار

کار کی ٹنکی میں پٹرول کے بجائے پانی  بھرنے  کے الزام میں پولس نے  پیر کو ایک شخص کو گرفتار کرلیا ہے جس کی شناخت  فہمان (35) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ پولس نے ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا ہے جہاں سے اُسے  جوڈیشیل کسٹڈی میں  کاروار جیل بھیج دیا گیا ہے۔

یلاپور میں بائیک پھسل گئی، دو شدید زخمی

یلاپور 17 جون (ایس او نیوز) ضلع اتر کنڑا کے یلاپور نیشنل ہائی وے 63 پر ایک بائیک تیز رفتاری کے ساتھ پھسلنے کے نتیجے میں بائیک پر سوار دو لوگ بری طرح زخمی ہو گئے۔ جن کی شناخت ہبلی گنیش پیٹ کے رہنے والے محمد شاہد موراک (21) اور محمد نعیم (23) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

ایئرٹیل کا منافرت آمیز فرقہ وارانہ’ قدم‘ مسلم نمائندہ سے صارف راضی نہیں تو نوکری سے کردیا فارغ 

ملک میں فرقہ ورایت کا زہر آر ایس ایس اور دیگر فرقہ پرست ذیلی تنظیموں کی طرف سے پھیلایاگیا اب اس کا صاف اثر زندگی کے تمام شعبوں میں نظر آرہا ہے اسی ذیل میں ائیرٹیل کو اس وقت لوگوں کی بہت زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جب وہ ایک صارف کی مانگ پر ہندو نمائندہ بھیجنے کو تیار ہو گئی

صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند سے ریاست میں گورنر راج نافذ کرنے ووہرا کی سفارش

کانگریس صدر راہل گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے جموں وکشمیر میں اتحادی حکومت سے الگ ہونے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی۔پی ڈی پی کے موقع پرستانہ اتحاد نے ریاست میں آگ لگانے کا کام کیا اور ترقی پسند اتحاد حکومت کی برسوں کی محنت پر پانی پھیر دیا۔

جموں کشمیر میں جلدالیکشن کرائے جائیں،صدرراج طویل نہ ہو، عمرعبداللہ نے گورنرسے ملاقات کی،بی جے پی ،پی ڈی پی بدحالی کی ذمہ داری قبول کریں

نیشنل کانفرنس کے ایگزیکٹو چیئرمین عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں گورنر راج کی آج حمایت کی اور ریاست میں نئے سرے سے جلد انتخابات کرائے جانے پر زور دیا تاکہ لوگ اپنی حکومت منتخب کر سکیں۔