خواتین کے تحفظ کیلئے کوئی بل کیوں نہیں ؟ ،عصمت دری کے خلاف مسلسل تیسرے دن ملک گیر احتجاج

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 16th April 2018, 11:18 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،15؍اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی ) اناﺅ ۔کٹھوعہ ریپ کے خلاف احتجاج بڑھتاجارہے ،گذشتہ تین دنوں سے ملک کے متعدد علاقوں اور شہروں میں کینڈل مارچ نکال کر اس واقعہ کی شدید مذمت کی جارہی ہے او رمجرمین کو تختہ دار پر لٹکانے کا مطالبہ ہورہاہے ۔آج بھی پورے ہندوستان میں بڑے پیمانے پر لوگوں کے ذریعہ احتجاجی مظاہرہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ اس میں نئی دہلی، ممبئی، کولکاتا، بنگلورو،لکھنو ،کانپور سمیت کئی دیگر ریاستیں شامل ہیں۔ یہ احتجاجی مظاہرہ جموں و کشمیر کے کٹھوعہ اور اتر پردیش کے ا±نّاو اجتماعی عصمت دری معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد اور بی جے پی لیڈروں و کارکنان کے ذریعہ متاثرین کی جگہ ملزمین کے حق میں آواز اٹھانے کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ ملک میں عصمت دری، خصوصاً نابالغ بچیوں کی عصمت دری اور قتل جیسے معاملات میں لگاتار ہو رہے اضافے سے ملک کے عوام تشویش میں مبتلا ہیں اس لیے وہ سڑکوں پر نکل کر اپنا احتجاج درج کرا رہے ہیں۔ نئی دہلی، ممبئی سمیت دیگر ریاستوں میں آج 5 بجے کے بعد احتجاج درج کرنے کا فیصلہ لیا گیا تھا جہاں اس وقت کافی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ کئی مقامات پر لوگ آصفہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے والے بینر ہاتھ میں لیے کھڑے دیکھے جا رہے ہیں۔خواتین یہ مطالبہ بھی کررہی ہیں کہ خواتین کے تحفظ کیلئے حکومت علاحدہ کیوں کوئی بل نہیں لارہی ہے ۔ اس ملک گیر احتجاج میں عام آدمی پارٹی ۔کانگریس ۔آر جے ڈی سمیت کئی سیاسی پارٹیاں بھی شامل ہیں ۔
دہلی میں برقع نشیں مسلم خواتین نے بھی پارلیمنٹ اسٹریٹ پر جمع ہو کر عصمت دری متاثرین کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا اور ملک میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موم بتی جلا کر مظاہرہ بھی کیا ۔

ایک نظر اس پر بھی

مدھیہ پردیش کے انتخابی موسم میں چیف منسٹر چوہان نے اعلی ذات والوں کے احتجاج کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ایس سی ‘ ایس ٹی ایکٹ سے چھیڑ چھاڑ کا اٹھایا قدم

چیف منسٹر نے اجین میں منعقد ہونے والے برہمن مہا کمبھ سے عین قبل اس بات کی وضاحت کی ہے۔ مذکورہ بڑی تقریب میں دیگر چیزوں کے ساتھ ایس سی ‘ ایس ٹی ایکٹ کے خلاف بھی احتجاج کا منصوبہ بنایاجارہا ہے۔