ڈگری کالجوں کے امتحانات کی تاریخ ملتوی کرنے کے لئے کاروار میں طلبا کا احتجاج

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 11th October 2017, 10:04 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

کاروار11؍اکتوبر (ایس او نیوز)ڈگری کالجوں کے سیمسٹر امتحانات کی تاریخ ملتوی کرنے کے مطالبے کے ساتھ شہر کی مختلف کالجوں کے  طلبہ نے احتجاجی مارچ کیا اور ڈی سی کے دفتر پہنچ کر میمورنڈم پیش کیا۔

واضح رہے کہ کرناٹکا یونیورسٹی دھارواڑ نے بی کام، بی بی اے، بی سی اے، بی ایس سی کے سیمسٹرامتحان کی تاریخ 23اکتوبر مقرر کی ہے۔چونکہ یہ تاریخ ہر سال ہونے والے سابقہ امتحانات کے مقابلے میں بہت پہلے ہے ، اور نصابی تعلیم پوری طرح مکمل نہیں ہوئی ہے اس لئے طلبہ کا کہنا تھا کہ اس سے ان کے نتائج متاثر ہونگے۔اور بالفرض اساتذہ اس نئی تاریخ کے پیش نظر نصاب مکمل بھی کرلیں گے تو طلبہ کو امتحان کی تیاری کرنے کا وقت نہیں ملے گا۔اور اس مرتبہ دو مضامین کے درمیان وقفہ نہ دیتے ہوئے مسلسل امتحان کا ٹائم ٹیبل بنایا گیا ہے اس سے بھی طلبہ کو اپنے مضامین کی تیاری میں مشکل پیش آئے گی اور اس سے ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

احتجاجی طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے تعلیمی مفاد کا خیال رکھتے ہوئے انہیں امتحانات کی تیاری کا بھرپور موقع دیا جائے اور اس کے پیش نظر امتحانات کی تاریخ ملتوی کی جائے۔

اُدھر ہلیال اور دیگر علاقوں میں طلبہ تنظیم  اے بی وی پی کی جانب سے  بھی احتجاج کرتے ہوئے امتحانات کی تاریخ ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی اور سنگھ پریوار کے احتجاج اور تشدد کے چلتے بالاخر کرناٹک سرکار کا ہوناور کے پریش میستا کی موت کا معاملہ سی بی آئی کے حوالے کرنے کا اعلان

ریاست میں کافی بحث کا موضوع بنے ہوناور کے پریش میستا کی موت کی گتھی سلجھانے کے لئے بالاخر اب ریاستی حکومت نے   اس  معاملے کو سی بی آئی کے ذریعہ تحقیق کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ رام لنگا ریڈی  نے کہا کہ سچائی کو منظر عام پر لانے کے لئے ...

ضلع اُتر کنڑا میں وہاٹس ایپ پر اشتعال انگیزپیغامات پوسٹ کرنے پر 28 معاملات درج

ہوناور میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعدبی جے پی اور سنگھ پریوار کی حمایت میں  اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف سوشیل میڈیا پر اشتعال انگیز پیغامات روانہ کئے جارہے تھے، ساتھ ساتھ سوشیل میڈیا کے ذریعے مختلف علاقوں میں بند منائے جانے اور احتجاج کے پیغامات پھیلائے جارہے تھے، جس پر ...

ہوناور پریش میستا کی موت کا معاملہ؛ وہاٹس ایپ پراشتعال انگیز افواہیں پھیلانے کے الزام میں ہائی اسکول ٹیچر گرفتار

ہوناور فساد کے پس منظر میں سوشیل میڈیا اور خاص کر وہاٹس ایپ پر افواہیں پھیلا کر ماحول خراب کرنے کے الزام میں کاروار کے ایک ہائی اسکول ٹیچر کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

پریش میستا کے پوسٹ مارٹم کی فائنل رپورٹ ابھی نہیں ملی ۔ دیشپانڈے

ہوناور میں فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد پریش میستا نامی نوجوان کی جو لاش دستیاب ہوئی تھی اور اس سے پورے ضلع میں نفرت کی آگ بھڑکائی گئی تھی، اس تعلق سے ضلع انچارج وزیر دیشپانڈے نے کہا ہے کہ پریش کے پوسٹ مارٹم کی قطعی رپورٹ ابھی نہیں آئی ہے۔

ضلع اُتر کنڑا میں وہاٹس ایپ پر اشتعال انگیزپیغامات پوسٹ کرنے پر 28 معاملات درج

ہوناور میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعدبی جے پی اور سنگھ پریوار کی حمایت میں  اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف سوشیل میڈیا پر اشتعال انگیز پیغامات روانہ کئے جارہے تھے، ساتھ ساتھ سوشیل میڈیا کے ذریعے مختلف علاقوں میں بند منائے جانے اور احتجاج کے پیغامات پھیلائے جارہے تھے، جس پر ...

ہوناور پریش میستا کی موت کا معاملہ؛ وہاٹس ایپ پراشتعال انگیز افواہیں پھیلانے کے الزام میں ہائی اسکول ٹیچر گرفتار

ہوناور فساد کے پس منظر میں سوشیل میڈیا اور خاص کر وہاٹس ایپ پر افواہیں پھیلا کر ماحول خراب کرنے کے الزام میں کاروار کے ایک ہائی اسکول ٹیچر کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

پریش میستا کے پوسٹ مارٹم کی فائنل رپورٹ ابھی نہیں ملی ۔ دیشپانڈے

ہوناور میں فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد پریش میستا نامی نوجوان کی جو لاش دستیاب ہوئی تھی اور اس سے پورے ضلع میں نفرت کی آگ بھڑکائی گئی تھی، اس تعلق سے ضلع انچارج وزیر دیشپانڈے نے کہا ہے کہ پریش کے پوسٹ مارٹم کی قطعی رپورٹ ابھی نہیں آئی ہے۔

امن کے باغ میں تشدد کا کھیل کس لئے؟ خصوصی اداریہ

ضلع شمالی کینر اکو شاعرانہ زبان میں امن کا باغ کہا گیا ہے۔یہاں تشدد کے لئے کبھی پناہ نہیں ملی ہے۔تمام انسانیت ،مذاہب اور ذات کامائیکہ کہلانے والی اس سرزمین پر یہ کیسا تشددہے۔ ایک شخص کی موت اور اس کے پیچھے افواہوں کا جال۔پولیس کی لاٹھی۔ آمد ورفت میں رکاوٹیں۔ روزانہ کی کمائی سے ...

سرسی فساد کے9 ملزمین کی ضمانت پر رہائی؛ 62کو بھیجا گیا عدالتی حراست میں

سرسی فساد کے پس منظر میں جن ملزمین کو حراست میں لیا گیا تھا ان میں ایم ایل اے وشویشور ہیگڈے کاگیری سمیت  9 ملزمین کو ضمانت پر رہا کردیا گیا جبکہ 62 ملزمین کو عدالتی حراست میں دھارواڑ جیل بھیج دیا گیا ہے۔