تمام انتخابات ایک ساتھ کرانا آئین پر حملہ کے مترادف: کانگریس

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th July 2018, 12:44 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،12؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے منگل کے روز دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایک ساتھ انتخابات (ون نیشن، ون الیکشن) کرانے کی تجویز میں کوئی معقول جواز نہیں ہے اور مرکز کی بڑبولی اور ہنگامہ کرنے والی حکومت کا یہ محض تازہ شگوفہ ہے۔ کانگریس نے اس الزام کے ساتھ وزیر اعظم کی ملک میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کی تجویز کو یکسر مسترد کر دیا۔

کانگریس کے ترجمان نے اسے ملک بھر کو گمراہ کرنے والا قدم قرار دیا۔ انہوں نے سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جب چاہے لائی جا سکتی ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک کسی بھی وقت لائی جا سکتی ہے اور منتخب حکومت کو اقتدار سے بےدخل کیا جا سکتا ہے۔ یہی جمہوریت کی خوبی ہے۔ کیا حکومت اس طرح کے نظام کے حق میں نہیں ہے؟

انہوں نے کہا کہ کسی ریاست میں طویل مدت صدر راج نافذ کرنا کہاں تک مناسب ہے؟ اس ملک میں 15 سال تک ایک ساتھ چناؤ ہوئے لیکن بعد میں کئی حکومتیں اپنی 5 سال کی مدت پوری نہیں کر پائیں، لہذا وہاں آئینی التزام کے مطابق جلد چناؤ کرائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آئین کے تخلیق کاروں نے بھی ممکنہ طور پر اسے حالات کو ذہن میں رکھ کر ہی ایک ساتھ چناؤ کرانے کا نہیں سوچا، اس حکومت کا اسیا خیال سمجھ سے پرے ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھیم آرمی کے سربراہ کی مولانا ارشد مدنی سے خصوصی ملاقات؛ ریاستی سیاست میں ہلچل

جیل سے رہائی کے بعد بھیم آرمی سربراہ چندر شیکھر آزاد نے دیوبند پہنچ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ۔اس ملاقات کے بعد میڈیا سے صرف یہ کہا کہ دبے کچلے طبقات کو ایک ساتھ لانا اور انہیں متحد کرنا ان کا مقصد ہے اور اسی کے تحت وہ یہاں آئے ...