گرفتار سعودی شہزادہ الولید بن طلال امیر ترین شخص؛ گرفتاری سے اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس گیا تیزی سے نیچے

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 6th November 2017, 5:16 PM | خلیجی خبریں |

ریاض 6/ نومبر(ایس او نیوز/ایجنسی)  سعودی عربیہ حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ اینٹی کرپشن کمیٹی کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے کھرب پتی شہزادے الولید بن طلال کی بین الاقوامی کمپنیوں میں  سرمایہ کاری کی تفصیلات سامنے آ گئیں ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شہزادے محمد بن سلمان کی ہدایت پر بننے والی اینٹی کرپشن کمیٹی نے الولید کو صحرا میں تفریح کے لیے لگائے جانے والے خیمے سے گرفتار کیا مگر سعودی حکام نے ابھی تک اُن کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی۔

نیو نٹ ورک کے ذریعے ملی اطلاع کے مطابق  کرپشن کے الزام میں گرفتار ہونے والے سعودی شہزادے کا شمار دنیا کی ابتدائی 50 امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے اُن کے کل اثاثہ جات کی مالیت 19 کھرب ڈالر ہے۔ بلوم برگ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے اثاثوں کی تفصیل میں الولید کی مختلف کمپنیوں کی لین دن اور سرمایہ کاری کے ساتھ بینفشری تفصیلات بھی موجود ہیں۔

نیو نٹ ورک نے بلوم برگ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ شہزادے نے نامور کمپنیز جیسے ایپل، سٹی گروپ وغیرہ میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اُن کے اثاثہ جات کی مالیت کا اندازہ اس طرح بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ 2007 میں اپنا ذاتی طیارہ اے 380 خریدنے اور پرائیوٹ ہوائی اڈہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

فوربس میگزین کی فہرست میں نام صحیح جگہ پر نہ آنے پر سعودی شہزادے نے انتظامیہ کے خلاف قانونی مقدمہ بھی دائر کیا تھا جو دو سال بعد 2015 میں حل ہوا۔

رپورٹ کے مطابق الولید بن طلال نے صدارتی انتخابات کے دوران ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے امریکا میں موجود اپنے اثاثہ جات کو فروخت کر دیا تھا۔ حراست میں لیے جانے والے سعودی شہزادے نے مملکت کی 95 فیصد گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے علاوہ حصص مارکیٹ میں بھی 35 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے یہی وجہ ہے کہ اُن کی گرفتاری کے بعد اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس تیزی سے نیچے آیا۔

الولید بن طلال کی کمپنی کے ترجمان نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ شہزادے کے اثاثہ جات کی تفصیلات پہلے ہی حکومت کے پاس موجود ہیں۔ انہوں نے بینکوں اور دیگر نجی کمپنیز میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے جو حکومت کو سالانہ ٹیکس باقاعدگی سے ادا کرتی ہیں۔

سرمایہ کاری کی تفصیل

بلوم برگ کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سٹی گروپ کا قیام 1991 میں عمل میں آیا اور اسے 2009-2008 کے درمیان مالی خسارے کے دوران بڑی پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا جس کے بعد کمپنی کو بند کرنا پڑا تاہم سعودی شہزادے نے سٹی گروپ کی سربراہی سنبھالی اور رواں برس اس نے دوبارہ کاروبار کا آغاز کیا۔

شیخ الولید بن طلال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر 2011 میں 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تاہم اُن کے ٹوئٹر میں موجودہ حصص 4.9 فیصد ہیں۔

سعودی شہزادے کے پاس موبائل فون کی معروف کمپنی ایپل کے 6 ارب 23 کروڑ حصص موجود ہیں۔ انہوں نے 1997 میں 11 کروڑ 54 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔

بعد ازاں انہوں نے لیفٹ نامی کمپنی میں سرمایہ کاری کی اور 247 ارب 7 کروڑ ڈالر کے حصص خریدے جس میں سے کچھ حصہ فروخت کیا جا چکا ہے۔ ٹیکس گوشواروں کے مطابق شیخ الولید نے میڈیا انڈسٹری میں بھی سرمایہ کاری کی انہوں نے 2015 میں روپرٹ مرچڈوچ سے 3 کروڑ 97 لاکھ ڈالر کے حصص خریدے۔

الولید نے بڑھتے ہوئے آن لائن شاپنگ کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے ای کامرس انڈسٹری میں بھی خوب سرمایہ کاری کی۔ انہوں نے چینی کمپنی جے ڈی ڈاٹ کام کے ساتھ 2013 میں معاہدہ کیا اور 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جسے بعد ازاں بڑھا کر 700 ارب ڈالر تک لے جایا گیا۔

 بتایا گیا ہے کہ سعودی شہزادے نے ہوٹل انڈسٹری میں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی۔ اُن کے امریکا، یورپ اور سعودیہ عرب میں لگثری ہوٹلز اور پلازے موجود ہیں۔

شیخ الولید نے رئیل اسٹیٹ اور پیٹرو کیمیکل انڈسٹری میں بھی بڑے  پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ وہ عرب ممالک کے پانچویں بڑے بینک کے سب سے زیادہ حصص لینے والی شخصیت بھی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے حال ہی میں جدہ میں تعمیرات کے لیے قائم کی جانے والی کمپنی جدہ اکنامکس میں سرمایہ کاری کی جس نے حال ہی میں دنیا کا طویل ترین ہوٹل تیار کیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد کے براہِ راست ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں: پومپیو

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بار پھرباور کرایا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں اور انہیں اس کیس میں ملوث کرنے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا ہے۔امریکی وزیرخارجہ نے خاشقجی قتل کیس کے حوالے سے سعودی ...

شارجہ میں منکی کمیونٹی کی خوبصورت گیٹ ٹو گیدر تقریب؛ کرناٹک کے وزراء نے کی شرکت؛ منکی میں غریبوں کے لئے چالیس مکانات دینے کا اعلان

منکی کمیونٹی (یو اے ای) کی جانب سےگذشتہ روز شارجہ میں اتحاد و ملن کے نام پر   گیٹ ٹو گیدر کی ایک خوبصورت تقریب منعقد کی گئی جس میں کرناٹک کے وزراء نے بھی شرکت کی اور  منکی کے عوام کی کثیر تعداد ایک پلیٹ فارم پر نظر آنے پر نہایت  خوشی کا اظہار کیا۔ پروگرام میں  بچوں سمیت ...

18بیرونی ممالک میں ملازمت کرنے والوں کویکم جنوری سے لازمی طور پر آن لائن رجسٹریشن کرنا ہوگا

بیرونی ممالک میں ملازمت کرنے والوں کے لئے مرکزی حکومت نے ایک نئی شرط لاگو کردی ہے جس کے مطابق یکم جنوری 2019 ؁ء سے امیگریشن چیک ناٹ ریکوائرڈECNRوالا پاسپورٹ رکھنے والے ملازمین کے لئے لازمی ہوگا کہ وہ اپنا آن لائن رجسٹر کروائیں۔

سابق وزیراعظم دیوے گوڈا کی دبئی آمد پر تہنیتی پروگرام؛ پہلے ملک کے اندرونی مسائل حل کرنے کی طرف توجہ ہونی چاہئے؛ گوڈا نے مودی پر کسا طنز

سابق وزیراعظم  ایچ ڈی دیوے گوڈا کی دبئی آمد کے موقع پر کرناٹکا این آر آئی فورم کی جانب سے دبئی میں گذشتہ روز دیوے گوڈا کے لئے تہنیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں یہ بات بھی بتائی گئی کہ ریاست کرناٹک سے وزیراعظم منتخب ہونے والے دیوے گوڈا واحد شخص ہیں۔ پروگرام میں شال اوڑھ ...

دمام میں کاسرگوڈ کے ایک شخص کی لاش کی تین سال بعد تدفین

دمام سعودی عربیہ میں تین سال قبل انتقال کرگئے پڑوسی تعلقہ  کاسرگوڈ کیرالہ کے حسینار کنہی (۵۷سال) نامی ایک شخص کی لاش کو تین سال بعد دفنایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مرحوم حسینار کنہی کے پاسپورٹ پر درج اس کے  ہندوستانی پتے میں کچھ خامیاں تھیں اور پتہ نامکمل تھا اس لئے سعودی پولیس ...