بنگلور یونیورسٹی اپنی زمینات کے استعمال میں بھی ناکام

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 1st September 2018, 12:22 PM | ریاستی خبریں |

بنگلوریکم ستمبر(ایس او نیوز) بنگلور یونیورسٹی کا احاطہ تقریباً گیارہ سو ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے لیکن یونیورسٹی مؤثر انداز میں اپنے اس وسیع احاطہ اور سینکڑوں ایکڑ زمینات کو استعمال کرنے میں ناکام ہے۔

یونیورسٹی کا ایک بڑا حصہ ناکارہ پڑا ہوا ہے جہاں جنگلی جھاڑیوں کے جھنڈ پیدا ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کو سہارا حاصل ہوتا ہے تو دوسری جانب یونیورسٹی کا ایک بڑا مسئلہ اس کی زمینات پر غیر قانونی قبضہ جات کا ہے، پچھلے تقریباً ایک سال سے یونیورسٹی اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ اپنی ان زمینات کو دوبارہ واپس حاصل کر لے ۔پچھلے سال ہی بنگلور یونیورسٹی نے اپنے گنانا بھارتی کیمپس کے احاطہ میں مختلف افراد کی طرف سے غیر قانونی طور پر قبضہ کی گئی تقریباً ایک سو ایکڑ زمین کو واپس حاصل کرنے کے سلسلہ میں بنگلور شہری ضلع انتظامیہ کی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس وقت کے ریاستی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم بسوا راج رایا ریڈی نے بنگلور یونیورسٹی کو یہ ہدایت دی تھی کہ مذکورہ زمین پر سے غیر قانونی قبضہ جات کو ختم کرنے کے سلسلہ میں اقدام کرے اور اسی کے بعد بنگلور یونیورسٹی کے رجسٹرار (انتظامیہ) پروفیسر کے این ننگے گوڈا نے یونیورسٹی کی زمینات پر غیر قانونی قبضہ جات سے متعلق تفصیلی رپورٹ تیار کی تھی۔حاصل شدہ معلومات کے مطابق بنگلور یونیورسٹی کی کل 1,112 ایکڑ زمین میں سے کم از کم ایک سو ایکڑ زمین پر سیاست دانوں، مقامی لیڈران اور رےئل ایسٹیٹ اداروں کے بشمول مختلف افراد نے غیر قانونی طور پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

رجسٹرار کی رپورٹ کے مطابق قبضہ کی گئی زمینوں پر ایک قبرستان، کئی مندریں، خانگی لے آؤٹ، تجارتی کامپلیکس، پیٹرول پمپ، اسکول، کالج اور اسپتال وغیرہ تعمیر کئے گئے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بی بی ایم پی نے بھی اس علاقہ میں ایک پارک کی تعمیر کے لئے بنگلور یونیورسٹی کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔

بنگلور یونیورسٹی کے رجسٹرار کی جانب سے تیار کردہ یہ رپورٹ بنگلور شہری ضلع کے ڈی سی وی شنکر اور ریاستی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کی خدمت میں پیش کی جاچکی ہے۔حالانکہ یونیورسٹی کے پاس تمام دستاویزات موجود ہیں اس کے باوجود غیر قانونی طور پر قبضہ کرنے والے کئی افراد نے عدالتوں میں جاکر یونیورسٹی ہی کے خلاف مقدمات درج کرائے ہیں۔

بنگلور یونیورسٹی کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ’’ان مقدمات سے پیچھا چھڑانے کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا، یونیورسٹی عدالت میں ان مقدمات کا مقابلہ کرے گی‘‘۔غیر قانونی قبضہ جات کو ہٹانے سے پہلے شہری انتظامیہ بنگلور یونیورسٹی کی مکمل زمینات کا دوبارہ سروے کرے گا۔بنگلور یونیورسٹی کی بعض زمینات کو نیشنل اسسمنٹ اور اکریڈیٹیشن کونسل،نیشنل لاء اسکول انڈیا یونیورسٹی اور اٹامک اینرجی ڈپارٹمنٹ وغیرہ جیسے قومی اداروں کو کرایہ پر فراہم کی گئی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

گوا میں بیرونی مچھلیوں کی درآمد پر لگی پابندی سے کاروار، ملپے میں مچھلیاں سستی تو منگلورو میں ہوگئیں مہنگی !

جب سے گوا کی حکومت نے فارمولین کے مسئلے پر بیرونی ریاستوں سے مچھلیوں کی درآمد پر پابندی رکھی ہے اور کچھ قانونی شرائط لاگو کی ہیں، تب سے ساحلی کرناٹکا کے شہروں میں اس کا کچھ ملا جلا اثر دکھائی دے رہا ہے۔

بیلگاوی میں احتجاج کے دوران کسان سورنا سودھا میں گھس گئے، وزیر اعلیٰ کی مداخلت کے بعد گرفتار شدہ افراد کی رہائی ، 20؍نومبر کو بنگلورو میں میٹنگ

شمالی کرناٹک کے بیلگاوی ضلع میں  گناہ اگانے والے کسانوں نے احتجاج کیا اور سوورنا سودھا کے احاطہ میں گنا سے لدی لاریوں کو زبردستی گھسا کر حکومت کے خلاف نعرے لگائے ۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 10؍ کسان لیڈروں کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کےخلاف ایف آئی آر درج کردیا ۔

سنجے دت کے ہاتھوں19نومبرکواڈاپٹ فٹنس کا افتتاح، بنگلورو کا بین الاقوامی معیار پر مشتمل سب سے بڑا فٹنس سنٹر عوام کے لئے دستیاب

شہر کے فریزر ٹاؤن میں صحت اور فٹنس کو عام کرنے کے لئے عالمی معیار کی سہولتوں سے لیس ہندوستان کی سب سے بڑی اور خوبصورت جم اڈاپٹ فٹنس کا افتتاح 19نومبر کی شام منعقد کیا گیا ہے۔